Daily Mashriq


احتساب کا عمل نہیں رکنا چاہیئے

احتساب کا عمل نہیں رکنا چاہیئے

سپریم کو رٹ نے پانامہ سکینڈل میں ملوث 436افراد میں سب سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کار روائی کر کے صرف ان کو عہدے سے بر طرفکیا بلکہ ساری عمر کے لئے کسی پبلک آفس کے لئے نا اہل قرار پائے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ ایک سال بیت گیا مگر نہ تونواز شریف سے لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے لئے کوئی اقدام کیا گیا نہ اس کے لئے کوئی حکمت عملی طے کی گئی۔صرف نااہل قرار دینے سے کیا فائدہ جب قومی خزانے میں کچھ نہیں آیا۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ نواز شریف اور اُنکے خاندان سے رقم واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی جاتی۔جہاں تک پانامہ سکینڈل میں مزید 435 مزید پاکستانیوں کا تعلق ہے ان پر بھی سپریم کو رٹ میں مقدمہ چلاکر اُن سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینی چاہئے ۔اگر پانامہ میں باقی 435 ملوث لوگوں پر مقدمہ نہ چلایا تو اس سے احتساب کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔اگر پانامہ سکینڈل میں مزید 435 افراد کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا تو اس سے نواز شریف حق بجانب ہوں گے کہ نواز شریف اور انکے خاندان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اگر ہم مزید غور کریں تو وطن عزیز کے وسائل کو سیاسی پا رٹیوں کے کرپٹ حکمرانوں ، قائدین ، ماضی کی ملٹری اور سول بیوروکریسی نے بے دردی سے لوٹا ہے اور جن جن نے لوٹ کھسوٹ کی ہے اُنکے خلاف بھر پو ر کار روائی ہونی چاہئے۔اس ملک کا یہ حال اس ملک کے سیاست دانوں اورآمروںنے کیا ہے ۔ اس ملک میں کروڑوں کی نہیں بلکہ کھر بوں کی کرپشن ہوئی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس وقت ناگُفتہ بہ حالات کا سامنا کر رہا ہے۔اگر ہم غور کریں تو پاکستان کو اس وقت چین، جنوبی کو ریا، جاپان ، ملائیشیاء ، اور دیگر ترقی یافتہ اقوام کی صف میں ہونا چاہئے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان اس وقت 200 ممالک کی فہرست میں سماجی اورا قتصادی اعشاریوں کے لحاظ سے 140ویںنمبر پر ہے۔ اور جنوبی ایشاء میں بھی اس کی اقتصادی اور سماجی حیثیت سب سے نیچے ہے۔عالمی سطح پر پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہے جو غریب کہلاتے ہیں ۔ ان میں ہٹی، موغادیشو، نائجیریا وغیرہ شامل ہیں۔

وطن عزیز میںاس وقت غربت، افلاس، بے روز گاری عروج پر ہے جبکہ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کا فُقدان ہے۔ بچوں کی تعلیم پر والدین لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر تعلیم کے حاصل کرنے کے بعد پھر بھی روز گار کے لئے در بدر کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہیں۔اندرون سندھ، پنجاب ، فاٹا ، قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختون خوا کے کچھ علاقوں کی کسمپرسی اور غُربت ہمارے سامنے ہے۔اگر ہم ان علاقوں کے سماجی اقتصادی اعشاریئے دیکھیں تو یہ ناقابل بیان ہیں ۔ وہ لیڈر اور قائدین جو دن رات ہماری خدمت کے دعوے کرتے رہتے ہیں ان کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔اس ملک کے عوام کی اس حالت کے یہ 6 اور7 ہزار کے قریب سیاست دان ، اشرافیہ اور ملٹری وسول بیو رو کریسی ذمہ دار ہیں۔ اس ملک کے باقی سارے ادارے ناکام ہوچکے ہیں ماسوائے ایک دو اداروں کے جن سے عوام امید باندھے ہوئے ہیں ایک اعلیٰ عدلیہ اور دوسرا فوج کا ادارہ ہیں ۔ مسلح افواج کی تا ریخ میں دوجنرل ، یعنی راحیل شریف اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید با جوہ دو ایسے جنرل ہیں جنہوں نے نہ صرف دہشت گر دی کا قلع قمع کر دیا۔بلکہ ان دونوں کی ساکھ سابق جنرل سے کافی حد تک اچھی ہے۔باقی اداروں کا حال تو یہ ہے کہ یہ لوگ اس ملک کے خون پسینے سے کی کمائی سے جمع کئے گئے ٹیکس اور وسائل کو بھی لوٹ رہے ہیں اور باہر سے پاکستان کے عوام کے نام پر جو قرضے لیتے ہیں اُنکو بھی لوٹ لوٹ کر باہر کے ملکوں اور سوئس بینکو ں میں جمع کر رہے ہیں۔ میں پاکستان کے عوام سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ ان کرپٹ مافیا کے غلام نہ بنیں بلکہ ان سے پوچھیں کہ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے جمع کئے گئے ٹیکسوں کوکے پیسے کہاں گئے ۔ہمیں اب غلامانہ روش ترک کرنی پڑے گی۔اور ان سیاست دانوں اور کرپٹ عسکری وسول افسر شاہی سے خود حساب لینا پڑے گا۔پاکستان کسی کی جاگیر نہیں بلکہ یہ ملک ۲۱ کروڑ عوام کا ہے جن کے خون پسینے کی کمائی سے یہ ملک چلتا ہے ۔

متعلقہ خبریں