Daily Mashriq


بگل یا شہنائی

بگل یا شہنائی

گزشتہ تین رو ز بڑے گرما گر م اور ہلچل مچا تے گزر گئے۔یہ کوئی انہو نی بھی نہیں تھی مگر ایک بات شدت سے محسو س کی جا رہی ہے کہ سینیٹ کے چیئر مین کے انتخا بات کے بعد سے عمر ان خا ن کی زبان میں لو چ پید ا ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ پی پی کو ووٹ ڈال کرکس منہ سے کعبہ جا تے اسی لیے انہیں کہنا پڑا کہ آصف زرداری نواز شریف سے کم بیما ری ہے۔ خیر یہ ذکر ضمنا ً آگیا مگر تین چار دن بہت سر گر م رہے ایک طر ف نو از شریف کے خلا ف بننے والی جے آئی ٹی کے سربرا ہ واجد ضیا ء نے تو کما ل کر دیکھایا ان کے بارے میں نون لیگ والے کہا کر تے تھے کہ ان کو جے آئی ٹی کا سربراہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ نو از شریف کے خلا ف وہ الز اما ت کے ٹھو س ثبوت ڈھونڈلا ئیں گے اور انہو ں نے خود بھی پا نا ما کیس میں ایسے ہی دعو ے کیے تھے ،مگر نیب عدالت میں تو واجد ضیا نے نو از شریف کے تما م گنا ہ ایسے بخشوا دیئے کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ استغاثہ کے گو اہ ہیں یوںمحسوس ہو رہا تھا کہ وہ نو از شریف کی طر ف سے گواہ پیش ہوئے ہیں ۔ان حالات میں ایک اہم خبر یہ بھی تھی کہ وزیر اعظم خود چل کر چیف جسٹس آف پاکستا ن ثاقب نثارسے ملاقات کے لیے گئے۔ اس ملا قات کے بارے میں پہلے سے کوئی ذکر نہیں تھا تاہم ملا قات کے بعد دونو ں جو انب سے خبر کا اند از خیر سگالی کے جذبہ کا سا تھا مگر مسلم لیگ ن کے قائد میا ں نو ازشریف نے قومی ادارو ں کے بارے میں بیانیہ دیا ہے اس سے با د نسیم کی خو شگواری نظر نہیں آتی۔ جب ملا قات کا چر چا ہو ا تو گما ن کیا گیا کہ گزشتہ دنو ں نو از شریف نے جو بیانیہ دیا تھا کہ تما م قومی ادارے مل کے قدم بڑھا ئیں تاکہ ملک تر قی کرے اور وہ سب کے ساتھ با ت چیت کے لیے بیٹھنے کو تیا رہیں دونوں بڑوں کی ملا قات اسی مفاہمت کی کڑ ی ہے ،بابارحمتے نے اس کے بعد تقرریو ں کے بارے میں بیان دیا ہے کہ اچھے لو گو ں کی تقرریا ں بر وقت ہو جا نی چاہئیں ورنہ وہ خود تقرریا ں فر ما دیں گے۔ اب یہ معلو م نہیں کہ ان کو تقرریا ں کر نے کا اختیار کہا ں تک ہیکیو ں کہ یہ انتظامیہ کا معاملہ لگتا ہے چیف جسٹس نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد سب صحیحہو گا اور کا م تیز ی سے ہو ں گے۔ یہ خوش آئند با ت ہے بہر حا ل مجمو عی طو رپر ملاقات عوام میں پسند یدگی کی نظر سے دیکھی گئی ہے۔ تما م قومی ادارے حکومت کے دست با زو ہیں ان کے ما بین روابط کا فقدان ریا ست کے لیے ضرررساں ثابت ہو ا کر تا ہے سو اختلا فا ت کے با وجو د روا بط کی کڑی نہیں ٹوٹنی چاہیے ۔یہ بات بھی اہم رہی کہ اس ملا قات کے بعد بقول نو از شریف کے لا ڈلے نے بیان دیا کہ وہ نو از شریف کے ساتھ کوئی این آراو نہیں ہو نے دیں گے۔ عمر ان خان کو این آراو کا گما ن کیو ں ہو ا عدالتیں آزاد ہیں وہ کسی دباؤ کے بغیر قانو ن اور آئین کے مطا بق فیصلے دے رہی ہیں اس با ت کو عمر ان خان کئی مرتبہ عوامی سطح پر تسلیم کر چکے ہیں ۔ان حالات وواقعات سے اہم خبر یہ رہی کہ فوج کے ترجمان میجر جنر ل آصف غفور کو عمر ان خان کے بیان کے بعد پر یس کانفر نس کر نا پڑی جس میں انہو ں نے واضح طو رپر کہا کہ فوج کا کسی این آراو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ظاہر ہے یہ بات درست ہے کیو ں کہ فوج بھی ریاست کے دیگر محکمو ں کی طر ح ایک سرکا ری ادارہ ہے اور ایسے جھنجٹ سے سرکا ری ادا رو ں کا کیا تعلق، یہ تو حکومت کا کا م ہے پہلے بھی جواین آراوسے نو از گیا اس میں ادارے کا کوئی ہاتھ نہ تھا وہ حکمر انو ں کی جا نب سے نو ا ز گیا تھا جس سے بے نظیر بھٹو ، عمر ان خان اور دیگر افراد مستفید ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت حکومت کا سربراہ سویلین نہیں تھا لیکن یہ ادارے کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ حکمر ان کا فیصلہ تھا۔ان گر ما گرم خبر وں میںایک خبر یہ بھی ہے کہ کمانڈو پر ویز مشرف کو فوج کی جانب سے سیکو رٹی نہ ملنے کی وجہ سے ان میں ہمت نہ بندھی کہ وہ واپس لو ٹ آئیں چنانچہ حوصلہ ہا ر گئے اور دساور ی کا ارادہ ترک گئے۔ لیکن ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ سپر یم کو رٹ نے میمو گیٹ اسکینڈ ل کے اہم ترین کر دار حسین حقانی کو ایک ما ہ کے اندر پا کستان لا نے کی معیا د مقر ر کر دی ہے۔ حسین حقانی ان دنو ں امر یکا میں موجود ہیں۔عدلیہ کی جا نب سے حسین حقانی کو عدالت میں پیش کر نے کے احکامات سے ایک دو روز پہلے نوازشریف نے بیان دیا کہ میمو گیٹ کا قضیہ عدالت لے جانا ان کی غلطی تھی انہیں ایسا نہیں کر نا چاہیے تھا ، میمو گیٹ اسکینڈ ل کی کہانی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ پی پی کے مر کز ی رہنما اعتزازاحسن اس کیس کی فائل لے کر عمر ان خان کے کزن حفیظ اللہ نیا ز ی جن کوا س وقت پی ٹی آئی میں جہا نگیر ترین کی طرحپذیرائی حاصل تھی کے پاس لے گئے تھے اور نیا زی صاحب کے گو ش گزار کیا کہ وہ یہ فائل سپر یم کو رٹ میں میمو گیٹ کے مقدمے کے طورپر دائر کر دیں مگر حفیظ اللہ نیا زی نے ایسا کر نے سے معذرت کر لی تاہم حفیظ اللہ نیا زی نے اس استفسار پر اعتزازاحسن نے اشارہ دیا کہ یہ چیف صاحب چاہتے ہیں۔ چیف صاحب سے ان کا اشارہ اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف پر ویز کیا نی کی طرف تھا ، حفیظ اللہ کے بقول ان سے مایو س ہو کر یہ فائل نو از شریف کی طر ف بھیجی گئی اور نو از شریف خر ما خرما اپنے قدم مع فائل عدلیہ کی طرف بڑھاتے کمرہ عدالت میں وارد ہوگئے تھے۔ اب وہ اپنے پچھتا وے پر کف افسو س مل رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پا کستان کی سیا ست ہو یا حالا ت نہ سمجھ میں آنے کو نہ سمجھا نے کوجیسے ہیں۔