Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت انس بن النضر ؓ معروف صحابی و خادم رسول ؐ ، حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا ہیں ۔ آپ ؓ بے شمار فضائل و خصائل کے مالک تھے۔

آپ ؓ غزوہ احد میں شہید ہوئے ۔ جبکہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے ۔

آپ ؓ کی شہادت کا واقعہ بڑادلچسپ ہے ۔ یہ واقعہ خود ان کے بھتیجے حضرت انس بن مالک ؓ کی زبانی سنئے ۔

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں : ’’میرے چچا جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے ، جن پر انہوں نے کہا : اے رسول خداؐ ! میں اس پہلی لڑائی میں شریک نہ ہو سکا ، جو آپ نے مشرکین کے خلاف لڑی ۔ خدا کی قسم ! اب اگر خدا نے مجھے مشرکین سے قتال کا موقعہ دیا تو ضرور خدا دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ چنانچہ جب جنگ احد کا موقع آیا اور مسلمان پیچھے ہٹ گئے تو انہوں نے کہا:

خدا یا! میں آپ سے اس کام پر معذرت کرتا ہوں جوان مسلمانوں نے کیا اور میں اس کام سے بھی برأت کا اعلان کرتاہوں ، جوان مشرکین نے کیا ۔ پھر وہ آگے بڑھے تو ان کی ملاقات حضرت سعد بن معاذؓ سے ہوئی ۔ (انہیں دیکھ کر ) آپ ؓ نے کہا : یہ رہی جنت ۔ انس ؓ کے پروردگار کی قسم ! میں احد کے دامن میں جنت کی خوشبو پارہا ہوں ۔ حضرت سعد بن معاذؓ فرماتے ہیں کہ پھر اس دن انہوں نے جو کچھ کیا ، میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ چنانچہ آپؓ لڑائی میں کود گئے (اور اسی دن لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ) ہم نے ان کے جسم پر تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے اسی (80) سے زیادہ زخم پائے ۔ مشرکین نے آپ ؓ کا مثلہ بھی کردیا تھا ۔ یعنی ، ناک ، کان وغیرہ کاٹ دیئے تھے ۔ آپ ؓ کو آپ کی بہن حضرت ربیع بنت النضر ؓ نے انگلیوں کے پوروں سے پہنچانا۔ (اسدالغابہ ، الاصابہ )

حضرت ثابت بن عدی ؓ انصاری صحابی ہیں ۔ قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے ۔ غزوۂ احد میں آپ ؓ اپنے تین بھائیوں حارث ؓ ، عبدالرحمن ؓ اور سہل ؓ سمیت شریک ہوئے ، گویا ایک گھر کے چار سپوت اور ایک ماں کے چار لخت جگر بیک وقت میدان جہاد میں اترے ! آپ ؓ کی والدہ کانام ام عثمان بنت معاذ بن فروہ تھا ۔ جن کا تعلق انصار کے دوسرے بڑے قبیلے ’’خزرج ‘‘ سے تھا ۔ آپ ؓ کی شہادت واقعہ جسر میں ہوئی ۔(الاصابہ )

سلطان محمود کے پاس ایک قیمتی جام تھا ، اراکین دوست کو حکم دیا کہ اس کو توڑ دو ، سب نے عذر کیا کہ جناب ایسی نایاب چیز کوتوڑنا مناسب نہیں ، آخر ایاز کو اشارہ کیا ، اس نے بلا تامل اس کو چو ر چور کردیا ۔

دربار میں سب نے اس کو ملامت کی کہ افسوس اتنی قیمتی چیز ضائع کردی ، ایاز نے جواب دیا کہ تم نے پیالے کی نایابی کو مدنظر رکھا اور میں نے سلطان کے حکم کو مد نظر رکھا ۔

پھر سلطان نے بھی اس کی تعریف کی اور کہا کہ اسی فرمانبرداری پر اس کو دوسرے خادموںسے بڑا مرتبہ ملا ہے ۔

(مخزن صفہ نمبر ، 440)

متعلقہ خبریں