Daily Mashriq

متبادل ٹریفک پلان اور انتظامات پر توجہ کیوں نہیں؟

متبادل ٹریفک پلان اور انتظامات پر توجہ کیوں نہیں؟

خیبر پختونخوا میں کسی اہم منصوبے کی منصوبہ بندی کے وقت عوام کو متاثر کئے بغیر اور منصوبے کو عوام کے لئے بلائے جان بنائے بغیر مکمل کرنے کا رواج کم ہی ہے۔ مفتی محمود فلائی اوور اور ارباب سکندر خان خلیل فلائی اوور کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے علاوہ دیگر منصوبوں کی تکمیل میں عوام کو جن مشکلات کا سامنا رہا وہ پرانی بات نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ بھی کہ کسی ترقیاتی منصوبے کے لئے کھودی گئی جگہ کی بروقت مرمت کی زحمت ہی کم ہی گوارا کی جاتی ہے۔ اس پس منظر کے باوجود موجودہ حکومت نے باب پشاور کی تکمیل مقررہ مدت کے قریب قریب اور عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا شکار بنائے بغیر کرکے ایک مثال ضرور قائم کی ہے لیکن اس کے باوجود محولہ خدشات بے موقع اس لئے نہیں کہ باب پشاور کے تعمیراتی مقام کی نوعیت مختلف تھی اور اس امر کی کافی گنجائش تھی کہ عوام متبادل روٹس کا استعمال کریں البتہ اس کی مدت تکمیل بہر حال ایک خوش گوار تجربہ ضرور تھا جس سے اس توقع کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت پشاور رپیڈ بس منصوبے کی مدت تکمیل کے حوالے سے جو وقت مقرر کرچکی ہے یہ منصوبہ مدت تکمیل میں وجود میں آئے گا اور باب پشاور کی بروقت تکمیل کرنے والی حکومت پشاور ہیڈ ٹرانزٹ بس منصوبے کی بھی بروقت تکمیل کا سہرا اپنے سر باندھے گی۔ تمام تر توقعات کے باوجود بھی جائزہ لیا جائے تو اس منصوبے کا عوام کے لئے مشکلات کا باعث بننا فطری امر ہوگا۔ اس لئے کہ اس منصوبے پر کام بیک وقت کئی مقامات پر شروع ہوگا بلکہ اگر یہ قرار دیا جائے کہ پشاور کی مرکزی سڑکیں بیک وقت کھود کر رکھ دی جائیں گی اور صوبائی دارالحکومت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کی مواصلاتی تجارتی معاشرتی اور عام شہری زندگی متاثر ہوگی۔ ہمارے تئیں ایسا ہونا مجبوری بھی ہے اور فطری امر بھی۔ اب جبکہ محض دو ماہ بعد یہ منصوبہ شروع ہونے کو ہے صوبائی دارالحکومت میں اس حوالے سے تیاریاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں کوئی متبادل انتظام اور تیاریاں نظر نہیں آتیں۔ ہمارے تئیں اس صورتحال میں شہریوں کو کم سے کم متاثر کرنے کے لئے پشتہ خرہ چوک رنگ روڈ تا صدر کی سڑک پر توسیع و مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع اور مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اولاً پشاور صدر سے حیات آباد باڑہ پشتہ خرہ اور ملحقہ علاقوں کی آمد و رفت کا ذریعہ بحال رہے اور اس سڑک پر یونیورسٹی روڈ کے متاثر ہونے کے بعد ٹریفک کا جو دبائو پڑے گا اس کی توسیع و مرمت کرکے عوامی مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس منصوبے پر کام کی رفتار اتنی سست ہے کہ چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ سڑک کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے اور توسیعی منصوبے پر کام کے دور دور تک آثار نہیں۔ رنگ روڈ کے ساتھ سروس روڈ کی تعمیر کا کام تکمیل کے قریب ادھورا چھوڑنے کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے۔ پشاور کی مرکزی سڑک کی بندش کے بعد ٹریفک کا رخ رنگ روڈ پر ہونا فطری امر ہوگا۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ صرف سڑک کی تکمیل و ضروری لوازمات کو پورا کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے بلکہ فوری طور پر اڈے سے رنگ روڈ حیات آباد اور کارخانو تک ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جائے۔ اس ضمن فوری طور پر روٹ کی منظوری دے کر ہنگامی طور پر ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جائے تاکہ صوبائی دارالحکومت کے جنوبی حصے کے عوام اور خیبر ایجنسی' باڑہ یہاں تک کہ طورخم بارڈر تک سفر کرنے والوں کی آمد و رفت کا معقول بندوبست ہو۔ چارسدہ روڈ کی جانب والی رنگ روڈ کی جہاں تک تکمیل ہوئی ہے وہاں تک کمبوہ اڈہ سے ورسک روڈ تک یہاں بھی روٹ کی منظوری دے کر ٹرانسپورٹ سروس کا اجراء کیا جائے۔ ان دو روٹس کے اجراء سے جہاں ٹرانسپورٹروں کو متبادل روٹ اور مسافروں کو ٹرانسپورٹ میسر آئے گی وہاں شہر کی مرکزی سڑک پر رش میں کمی آئے گی اور ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹوں میں حتی المقدور کمی ممکن ہوسکے گی۔ کنال روڈ اور مضافاتی رابطہ سڑکوں کو تجاوزات سے پاک اور مرمت کرکے خاصی آبادی کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ حیات آباد میں شٹل سروس شروع کرکے ٹرانسپورٹروں کو مواقع اور عوام کی سہولت کا خیال رکھا جاسکتا ہے۔ ریپڈ بس منصوبے کے حوالے سے سروے اور اندازوں کے حصول کے مظاہر سے تو واسطہ پڑتا ہے لیکن صرف اعداد و شمار اکٹھا کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی روشنی میں قلیل المدتی عارضی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے ٹھوس اقدامات نظر بھی آنے چاہئیں۔ موجودہ سال سے مدت اقتدار کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ اس سال کی حکومتی کارکردگی اور عوام کو مشکلات میں مبتلا کرنے یا سہولیات کی فراہمی کے اثرات آمدہ عام انتخابات پر پڑ سکتے ہیں اس لئے یہ خود حکومت کے حق میں بہتر ہوگا کہ وہ اپنے منصوبوں اور اقدامات کے ذریعے عوام کو بہتر تاثر دے جائے۔گو کہ اس منصوبے کو یکم اگست سے شروع کرکے چھ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اس منصوبے کی بروقت تکمیل یقینا خوشگوار اور مثالی شمار ہوگی لیکن اگر اس میں تاخیر بھی ہوئی تب بھی اگر صوبائی حکومت عوام کو متبادل ذرائع سے ممکنہ سہولیات فراہم کرے تو عوام اس میں ایک آدھ ماہ کی تاخیر سے بھی آزردہ خاطر نہ ہوں گے لیکن اگر اس منصوبے کو عوام کے لئے عذاب بنانے کے سلسلے کا اعادہ کیا گیا تو یہ مثبت کی بجائے منفی تاثرات کاباعث ہوگا جو حکومت کے لئے خوشگوار امر نہ ہوگا۔ صوبائی حکومت کے پاس اس ضمن میں صرف دو مہینے ہی باقی ہیں جس کے دوران ضروری اور متبادل انتظامات کئے جاسکتے ہیں۔ وقت کم ہے عملی اقدامات میں ایک دن کی بھی تاخیر کی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں