Daily Mashriq

سانحہ جاوید ٹائون' مزید زندگیوں کو بچایا جائے

سانحہ جاوید ٹائون' مزید زندگیوں کو بچایا جائے

پشاور کے علاقہ گلبہار جاوید ٹائون میں ہائی ٹرانسمیشن لائن سے کرنٹ لگنے سے تین افراد کے جاں بحق ہونے اور دو کے زخمی ہونے کا واقعہ انتہائی رنج دہ ہے۔ اس واقعے میں عدم احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی گنجائش ضرور ہے لیکن ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنوں کا آبادی اور مکانات سے اس قدر قریب گزارنا کہ دوران صفائی اوزار صفائی کا تاروں کو چھو جانا واپڈا کے حکام اور اہلکاروں کی حد درجہ غفلت کا ارتکاب ہے جو لوگ لوڈشیڈنگ پر پیسکو کے خلاف سڑکوں پر ہیں اس واقعے کو نہ صرف احتجاج کا حصہ بنا لینا چاہئے بلکہ اس واقعے پر متاثرہ خاندان کی طر ف سے پیسکو کے اعلیٰ حکام کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج میں مدد بھی کرنی چاہئے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں جو معصوم خاندان کو نگل گیا بلکہ شہر میں جہاں بھی جائیں کم و بیش یہی صورتحال ہے ۔ گنجان آبادی قدیم اور شہری علاقوں میں ہی یہ مسئلہ نہیں بلکہ گزشتہ روز حیات آباد میں بھی اس طرح کے ایک واقعے میں بچی کے جھلس جانے کا سانحہ پیش آیا تھا حالانکہ حیات آباد میں تاریں گزارنے کے لئے مناسب فاصلہ موجود ہے اس کے باوجود بھی تاروں کو فاصلے سے گزارنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔ بہر حال صرف مکانات سے فاصلہ ہی مسئلہ نہیں بلکہ گنجلک اور لٹکتی تاریں پورے صوبائی دارالحکومت میں جہاں جائیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بعض علاقوں میں میٹروں کو ایک فریم میں لگانے کی نمائش کا اہتمام ضرور دیکھنے کو ملتاہے وگرنہ لٹکتی تاروں کے سروں پر خطرناک طور پر لٹکے بجلی کے میٹر شہریوں اور خاص طور پر بچوں کے لئے ڈیتھ وارنٹ ہیں ۔ کیا یہ سب کچھ حکام کو نظر نہیں آتا۔ گلبہار جاوید ٹائون کے اندوہناک واقعے کے بعد سول سوسائٹی کے نمائندوں کو عدالت سے رجوع کرلینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عدالت عالیہ کے معزز چیف جسٹس کو اس کا از خود نوٹس لے کر مزید شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کے ازالے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پیسکو حکام کے لئے جاوید ٹائون کا واقعہ چشم کشا ہے اگر وہ ذمہ داری محسوس کریں تو نہ تو ان کے خلاف عدالت سے رجوع کی ضرورت باقی رہے گی اور نہ ہی از خود نوٹس کی ضرورت ہوگی۔

بے قابو مہنگائی' بے بس انتظامیہ

ڈپٹی کمشنر پشاور نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شہر میں کہیں بھی اگر ان سے سرکاری نرخ نامہ سے زیادہ قیمتیں وصول کی جائیں تو وہ کمپلینٹ نمبرزپر رابطہ کریں ضلعی انتظامیہ کی چھاپہ مار ٹیم موقع پرپہنچ کر متعلقہ دکاندار کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔دریں اثناء رمضان المبارک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ضلعی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے سپیشل سکواڈ نے علی الصبح سبزی و فروٹ منڈی کا دورہ کرتے ہوئے سرکاری نرخ نامہ جاری کیا۔ہمارے نمائندے کے مطابق انتظامیہ کے ان اقدامات کو گرانفروشوں نے ہوا میں اڑا دیا۔ڈپٹی کمشنر پشاور اپنے اختیارات اور اقدامات میں کامیاب نہ رہے تو شہری ان سے لا حاصل شکایت بھلے کیوں کریں۔ ہمارے تئیں ضلعی انتظامیہ کی بساط بھر سعی اپنی جگہ لیکن انتظامیہ جب تک مزید سخت اقدامات نہیں کرتی اور دکانداروں کے دلوں میں یقینی قید اور جرمانے کا خوف جاگزیں نہیں ہوتا تب تک صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو شکایات ملنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے ان کو اس امر کا سو فیصد یقین ہونا چاہئے کہ صوبائی دارالحکومت میں کسی ایک چھوٹے بڑے سٹور پر سبزی اور فروٹ منڈیوں میں سرکاری نرخنامے کی پابندی نہیں کی جاتی اور نہ ہی کوئی پھل فروش' سبزی والا اور مرغی فروش سرکاری نرخنامے کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ ایسے میں سرکاری نرخنامہ نمائشی اور مذاق بن کر رہ گیا ہو شہریوں سے شکایات وصولی کا ڈھکوسلہ کرنے کی بجائے راست اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ اگر روزانہ کی بنیاد پر ہر چھوٹے بڑے بازار سے دکانداروں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کرے اور ایسی دفعات لگائے کہ عیدالفطر جیل میں گزارنی پڑے تب بھی سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد تو ممکن نہ ہوگا البتہ تاجر کم ازکم اسے تھوڑی سی وقعت دینے کی زحمت ضرور گوارہ کرلیں گے۔ عوام کو سہولت کی فراہمی کے لئے سستے رمضان بازار لگانے اور موبائل یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے مناسب داموں اشیاء کی فراہمی کی سعی سے شہریوں کوکچھ فائدہ ضرور ملے گا۔ مصنوعی مہنگائی کا مقابلہ مارکیٹ کے اقدامات سے کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی اور عوام کے پاس متبادل خریداری کا کوئی موقع دستیاب ہوتا تو صورتحال شاید اس قدر بے قابو نہ ہوتی جتنی اب ہے۔

متعلقہ خبریں