Daily Mashriq

قومی ڈپریشن میں جانے سے کیسے بچیں؟

قومی ڈپریشن میں جانے سے کیسے بچیں؟

انٹرنیٹ پر موجود بلاگز پڑھیں، اخبارات دیکھیں، اسکول و کالجز میں ہونے والے تقریری مقابلے سنیں یا دوست احباب کے تبصرے سنیں توآپ کو زیادہ تر پاکستانی پرانے دور کے قصیدے پڑھتے ہوئے اور موجودہ دور کے حالات پر ماتم کرتے ہوئے نظر آئیںگے۔ ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے یہ دور اچانک ہم پر تھوپ دیا گیا ہو۔ ان تحریرو مباحث میں ہماری نظر سماجی مسائل پر تو ہوتی ہے لیکن ان کے اسباب پر نہیں۔ ہماری شکایتیں اور دہائیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ پرانا بڑا پیارا دور تھا سچے لوگ تھے سچی باتیں کرتے تھے، ان میں اتفاق و اتحاد تھا لوگ ایک دوسرے پر مر مٹتے تھے، کم آمدنی کے باوجود لوگ خوش تھے جبکہ اب سب پیسے کے پیچھے دوڑ پڑے ہیں، پرانا دور اچھا سچا اور بابرکت دور تھا،یہ باتیں ہماری روزمرہ کی گفتگو سے نکل کر ہمارے تحت الشعور میں ایسا گہرا اثر کر گئی ہیں کہ ہم ''قومی ڈپریشن'' کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمیں ہر شخص اور ہر کوشش پر شک ہے، غیر یقینی ہے، غصہ ہے، بلاوجہ اور منفی مقابلہ بازی ہے، نا امیدی ہے اور اسی لئے ہمیں مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ اس ساری صورتِ حال کا اگر سماجی نفسیات کی روشنی میں جائزہ لیں تو ہمارا یہ قومی ڈپریشن سات ذاتی اور باہمی اسباب کا نچوڑ ہے۔ پہلا سبب ہمارے ذاتی رویوں پر مبنی ہے۔ سادہ لفظوں میں کہئے تو ہماری پسند اور نا پسند پر۔ اس معاشرے میں کثیر تعداد ایسے افرادکی ہے جو دوسروں کے جھوٹ، دھوکہ بازی، رشوت خوری، فحاشی، ملاوٹ اور اس جیسے بہت سارے افعال کو تو ناپسند کرتے ہیں لیکن جب اپنی باری آئے تویہی کام کرنے کے دس دلائل نکال لائیںگے۔ اس ذاتی رجحان کا تربیت اور باقی سماجی رجحانات کیساتھ گہرا تعلق ہے۔ کیونکہ فرد معاشرے کا بنیادی حصہ ہے اسلئے اس رجحان سے افراد کاایک دوسرے پر اعتبار کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اسکا دوسرا سبب قائل کرنے کی صلاحیت کا کمزور پڑجانا ہے۔ عام طور پر ہر فرد اپنے والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دینی علمائ، اساتذہ، ساتھیوں، علاقائی اور قومی رہنماؤں یا میڈیا پر دکھائے جانے والے کرداروں سے قائل ہوکر اپنی زندگی کے اصولوں کا تعین کرتا ہے۔ آج کے دور کا بچہ، جوان یا عمر رسیدہ شخص اپنے آئیڈیل کے طور پرکس کے نقشہ قدم پر چلے کہ جب اس کے گھر، گلی، محلہ، اسکول، آفس، میڈیا، حتیٰ کہ عبادت گاہ میں آئیڈیل یا تو ناپید ہیں یا پھر انکو کونے سے لگادیا گیا ہے۔ اس رجحان کو درست سمت دینے کیلئے ہمیں اپنے ماضی اور حال کے عمدہ کرداروں کو اثرانداز طریقے سے روشناس کرنا ہوگا۔ قومی ڈپریشن میں جانے کا تیسرا اشارہ ہماری ایک دوسرے کیلئے متفرق پہچانیں ہیں۔ آزادی کے ستر سالوں بعد بھی ہم ایک دوسرے کو پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ، گلگتی اور کشمیری کے طور پر زیادہ اور پاکستانی کے طور پر کم جانتے ہیں۔ قومی پہچان کیلئے ہمیں اپنی قومی شہریت کے کچھ رہنما اصول مرتب کرنے ہونگے اور ان پر عمل بھی کرنا ہوگا۔ اس قومی ڈپریشن کا چوتھا سبب کمزور ہوتی ہوئی خودشناسی ہے۔ ہم میں سے بہت سارے افراد اپنے آپ کو ایک خاندان کے فرد، اپنے قبیلے، اپنی زبان اور اپنی سیاسی وابستگی سے آگے دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ نتیجتاً ہمارا قومی مسائل کی طرف رویہ بھی کافی حد تک خودغرضانہ ہے۔ ہمیں قومی خودشناسی کی ضرورت ہے جو پارہ چنار میں ہونے والے دھماکے پر بھی ایسے ہی تڑپ اٹھے جیسے سیہون یا داتا دربار پر۔ اس ڈپریشن سے نکلنے کیلئے ہمیں ''میں'' اور ''میری'' سوچ سے نکل کر ''ہم'' اور ''ہماری'' سوچ پر آنا ہوگا۔ آج کل کے قومی ڈپریشن کا پانچواں سبب سماجی اثرورسوخ سے منسلک ہے۔ ہم ایک دوسرے پر تین طریقوں سے اثرانداز ہوتے ہیں،مطابقت، تعمیل، اور اطاعت۔ آج کے پاکستان میں یہ تینوں طریقے ایک مضبوط قومی تشخص کی عدم موجودگی میں منفی روایات کا نمونہ بن گئے ہیں جہاں دنیاوی آسائشیں مطابقت کا اثرورسوخ تعمیل کا اور شدت پسندی اطاعت کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ ہمیں ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو اس سماجی اثرورسوخ کی بگڑتی ہوئی شکل کو سنبھالیں۔ پچھلی دہائیوں کی انتخابی سیاست نے گروہوں کے مفادات کی صورت میں قومی ڈپریشن کے چھٹے سبب کو پروان چڑھایا ہے۔ ہر شخص اپنی کاروباری، ذاتی، علاقائی، صوبائی یا دیگر مراسم کی بنا پر کسی نہ کسی گروہ کا حصہ بن جاتا ہے اور پھر سیاست کے کھیل میں اپنی حیثیت کے مطابق داؤ کھیلتا ہے اور اس داؤ پیچ میں ''سب چلتا ہے'' والا قانون رائج ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں پرانے وقتوں پر رونے کے بجائے اپنے گروہ بندی والے اعمال پر نظر ڈالنی ہوگی۔ پاکستان میں موجود ان سارے سماجی رجحانات میں سے ایک رجحان ابھی بھی بہت مثبت ہے۔''اچھے لوگ ابھی باقی ہیں'' والا رجحان۔ انفرادی مطلب پرستی سے لیکر ادارتی تباہ حالی تک ہر قسم کا وار برداشت کرنے والا یہ ملک اگر ابھی بھی زندہ ہے تو ایسے ہی خاموش کرداروں کی وجہ سے جو اپنا کام پوری ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ کررہے ہیں۔ لیکن اس ملک کی اصل ترقی اور شاندار مستقبل تب ممکن ہے کہ جب اس میں بسنے والا ہر شخص اپنی ذاتی پہچان سے نکل کر قومی پہچان پر یقین رکھے گا۔ جب پرانے دور کے قصیدے پڑھنے کے بجائے موجودہ دور کے حالات کے اسباب کا بغور جائزہ لیکر سماجی ہم آہنگی پیدا کرینگے۔ جب ہم گلوبل ویلیج کے حصے کے طور پر اپنے آپ کو تیار کرینگے۔ ترقی کوبرا بھلا کہنے کی بجائے اس کے مثبت ثمرات سے فائدہ اٹھائیںگے۔ 

متعلقہ خبریں