Daily Mashriq

ایٹمی اوسان

ایٹمی اوسان

دربار اکبر ی میں بحث چھڑی ہو ئی تھی کہ جنگ میں سب سے اہم ترین ہتھیا ر کونسا ہے جو کام آتا ہے ، اکبر ی دربار کے نو رتن لن ترانیاں ما ررہے تھے کسی کا کہنا تھا کہ گھوڑا ، کوئی گولہ بارود کو ترجیح دے رہا تھا کافی بحث ہوئی۔ کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو پا رہا تھا کہ یکا یک اکبر بادشاہ کی نظر ملا دوپیا زہ پر پڑی استفسار ہو ا کہ کیو ں میا ں کس گہر ی سوچ میں پڑے ہو تم بھی تو رائے دو۔ ملا دو پیا زہ اس تخاطب پر ذرا سنبھلے اور بولے کہ صرف اوسان ہی ایسا ہتھیا ر ہے جو جنگ میں سب سے زیا دہ کار آمد ہے۔ جب اوسان ہی ٹھکانے نہ ہو ں گے تو جنگ کی کامیا بی بے معنی ہو جا تی ہے ۔ اس جو اب پر اکبر بادشاہ جھو م گئے لیکن جب سے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کو سزائے مو ت کا حکم ہو ا ہے تب سے ایسا محسو س ہو تا ہے کہ جنگ کی دھمکیا ں دینے والے بھارتی نیتاؤں کے اوسان خطا ہو گئے ہیں۔ بھارت جو کلبھوشن یا دیو کی گرفتاری پر ایسا لا تعلق تھا کہ گویا وہ بھارتی باشندہ ہی نہیں ہے مگر اب اس کی پھانسی کی سزا رکوانے کے لیے پاکستان کو آئے دن ایسی دھمکیا ں دی جا رہی ہیں کہ گو یا بھارت کے سب سے بڑا اوراہم مسئلہ یہ ہی ہے یا دیو کے بارے میں بہت سے سوال بھارت کو ہنو ز دینا ہیں کہ جیسا بھارت نے ادعا کیا ہے کہ یا دیو کو ایر ان سے اغوا کر کے پاکستان لا یاگیا مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کلبھوشن یا دیو جو حا ضر سروس فوجی افسر ہے وہ ایر ان میںکیا کر رہا تھا ، کیا بھا رت کے کسی حاضر سروس فوجی کو بیرون ملک جا کر کا روبار کرنے کی اجازت ہے ، خیر یہ باتیں چھو ڑئیے ، اس وقت بھارتی نیتاؤ ں کاحال یو ں نظر آرہا ہے کہ وہ کلبلا ئے ہو ئے ہیں ان میں چلبلا ہٹ عود کر گئی ہے۔ عجیب و غریب سے حالات پید ا کر نے کی مساعی بد میں مبتلا ہیں۔ دھمکیو ں پر دھمکیا ں دئیے جا رہے ہیں ۔ تازہ ترین دھمکی بھارت کے وزیر دفاع جینی نے دی ہے ویسے جب سے انہو ں نے بھارت کے دفاع کی ذمہ داریا ں سنبھالی ہیں اس وقت سے ان کا رویہ پاکستان کے بارے میں یہ ہو کر رہ گیا ہے کہ'' اب کی ما ر کے دیکھ ''۔ 

بھارتی وزیر دفا ع نے بھا رت کے سرکاری ٹی وی دور درشن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فوج پو ری طر ح چوکس ہے کہ مگرتفصیلا ت عا م نہیں کی جا سکتیں ، انہو ں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اس ملک (پاکستان )نے جو کچھ کیا ہے اس کی قیمت چکا نی پڑے گی ، بھارت کے وزیر دفاع قیمت چکا نے کی بات یکطر فہ کر رہے ہیں۔ ان کوچاہیے کہ ایسی باتین پھینکنے سے پہلے بھا رت کے آنجہا نی وزیر اعظم کے مشیر خاص بہر امنا م کی تحریر کا مطالعہ کر لیں۔ پاکستان کے صدر جنر ل ضیا ء الحق کے بارے میں بہر امنا م لکھتے ہیںکہ ''وہ نہ جا نے کس مٹی کے بنے ہو ئے تھے وہ اس بے عزتی (بے عزتی کر کے )کے باوجود مسکر ارہے تھے۔ جنرل ضیا ء الحق جے پو ر کے لیے روانہ ہو نے لگے تو وہ بھارتی وزیر اعظم کی طرف دیکھ کر مسکر ائے اور نہایت ہی ٹھنڈے لہجے میں بولے ''مسٹرراجیو آپ پا کستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ، تو ضرور کریں لیکن آپ ایک بات یا د رکھیئے گا کہ اس حملے کے بعد دنیا ہلا کو خان اور چنگیز خان کو بھو ل جا ئے گی۔ یہ صرف راجیو گاندھی اور ضیا ء الحق کو یا د رکھے گی، کیو ں کہ یہ روایتی جنگ نہیں ہو گی '' نیوکلیر وار '' ہو گی اور جنگ میں ہو سکتا ہے کہ پو را پاکستان تباہ ہو جا ئے مگر اس کے باوجود دنیا میں مسلما ن رہیں گے، لیکن آپ یہ یا د رکھنا کہ اس جنگ کے بعد دنیا میں کوئی ہندو نہیں پایا جا ئے گا ''۔بقول بہر امنا م کے یہ فقرے بولتے وقت جنر ل ضیا الحق کی آواز اور آنکھوں میں ایسی سختی اور ایسا عزم تھا کہ وہ سمجھے کہ اس وقت وہ دنیا کے خطرنا ک ترین شخص کو دیکھ رہے ہیں ۔ یہ الفاظ سن کر راجیوگاندھی کی پیشانی پر پسینہ آگیا اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیل گئی ۔

جنرل ضیاء الحق نے یہ فقرے بڑے تحمل اور سنجید گی سے کہے ، پھر راجیو گاندھی کوچھو ڑ کر وہا ں موجود تما م لو گو ں کے ساتھ بڑے پر تپاک سے ہا تھ ملا یا اور پھر رخصت ہوگئے ۔مو دی سر کا ر کو چاہیے کہ وہ راجیو گاندھی کے مشیر خاص کی اس کتا ب کے یہ ورق اپنے نیتاؤں ، فوج ، اور سیا ست دانو ں میں تقسیم کرے اور نصیحت کر ے کہ پہلے تولو پھر بولو ۔ بھارتی حکو مت کو یا د رکھنا چاہیے کہ جنرل ضیا ء الحق کا یہ حوصلہ اس وقت تھا جب پاکستان ایٹمی طا قت ڈیکلیئر نہیں ہو ا تھا ، اب پاکستان بھی بھارت کی طرح ایٹمی طا قت ڈیکلیئر ہو چکا ہے ، ماہر ین حرب کا بھی یہ کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی ایک خطر ناک جنگ کا منبع بن سکتی ہے جو اس خطے میں تباہ کن ثابت ہو گی۔ چنانچہ دونو ں کو کشیدگی بڑھا نے سے گریز کر نا چاہیے اور مثبت سوچ کے ساتھ کشید گی کو ختم کرنا چاہیے جس کے لیے زمینی حقائق کو تسلیم کر نا اولین شرط ہے ۔اب ملا دو پیا زہ کے خالی خولی اوسان کی بات نہیں ہے بلکہ جنرل ضیا ء الحق جیسے اوسان کا معاملہ ہے راجیو گاندھی سے رخصت کے وقت دونو ں منظر دیکھنے میں آئے۔ ایک طرف اوسان قائم تھے تو دوسری جانب اوسان خطا تھے ۔

کلبھو شن جس کے بارے میںبھارت کا پہلے رویہ یہ تھا کہ اس کو فوجی افسر تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا اور ایک عام شہر ی کا درجہ دیا جا رہا تھا مگر جب ہر راز سے پر دہ اٹھ گیا تو اس کو بچانے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے مسائل دھمکیو ں سے حل نہیں ہو ا کرتے ۔ اس کے لیے حوصلے کی ضرورت ہے پا کستان کو مخاطب کر نے سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ پاکستان اب ستر کی دہائی کا پاکستان نہیں ہے بلکہ ایک جو ہر ی طاقت ہے جس طرح دوسرے جو ہر ی طاقت کے حامل ہیں ۔

متعلقہ خبریں