Daily Mashriq

قصور اپنا نکل آیا ؟

قصور اپنا نکل آیا ؟

یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا 

میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے عوام اور حکومت کی مشترکہ نااہلی پر تاسف کا اظہار کیا ہے کہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت اُن کے بجلی کی بچت کے زریں اصول اور کلیے کو خاطر میں لانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ہم بھی کتنے بد نصیب ہیں کہ اللہ والوں کی بات پر کان نہیں دھرتے ۔ایک وفاقی وزیر جو بلحاظ عہدہ کافی معتبر ہوتا ہے اور اس کی دانش ، فہم و فراست میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی اگر ہوتی تو ہم جیسے عام ذہن کے لوگ بھی وفاقی وزیر کے منصب جلیلہ پر کیوں بیٹھ جاتے ۔سو ایک معتبر وزیر باتدبیر کی بات کو ہم نے لفٹ ہی نہیں دی ورنہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بقول ان کے ختم ہی ہوجاتا ۔حالانکہ یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ کہ بچت اس چیز کی کی جاتی ہے کہ جو وافر ہو۔ اب جو چیز سرے سے میسر ہی نہ ہو تو اس کی بھلا کیسے بچت کی جائے ۔وزیر موصوف نے بچت کا کلیہ تو بتا دیا لیکن یہ نہیں بتا یا کہ کمیاب اور نایاب چیز کی بچت کیسے کی جائے ۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جن علاقوں میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہووہاں کے مکین بقیہ چھ گھنٹے بجلی کی آمد پر پانی کی ٹنکی بھر لیتے ہوں گے ، یا کپڑے استری کرلیتے ہوں گے یا کوئی دوسرا ناگزیرکام کرتے ہوں گے ۔ ان چھ گھنٹوں میں وہ کتنی عجلت میں یہ کام کرتے ہوں گے اس کا ہمیں علم نہیں تو معزز وزیر صاحب کو کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ تو یقینابجلی کی نعمت سے براہ راست اور مسلسل مستفید ہوتے ہوں گے ۔ لیکن کہنے میں کیا حرج ہے سو ایک بات تھی انہوں کہہ ڈالی ۔ ہم تو ایسی سرزمین میں بستے ہیں کہ لوڈ شیدنگ سے مطمئن سے ہوگئے ہیں کہ اگر یہ بجلی وافر ہوتی اور مسلسل میسر ہوتی تو ہمارے بجلی کے بل کیسے ہوتے ؟ گویا کہ بجلی کے بل مجسم بجلی بن کر صارفین پر گرتے ۔ اب وزیر موصوف کو جاکر کون یہ مشورہ دے کہ جناب ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ جس کے دریاؤں سے سالانہ سولہ لاکھ کیوسک میٹھا پانی سمندر میں گرا دیا جاتا ہے ۔نہ تو اس پانی کو بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کا کام لیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے سستی ترین بجلی بنائی جاتی ہے ۔ آپ ٹھہرے پانی اور بجلی کے وزیر آپ سے کوئی معصوم سا سوال پوچھ لے کہ آپ نے گزشتہ چار برس کی وزارت میں کتنے کیوسک پانی کو قید کرکے کوئی چھوٹا موٹا ڈیم بنایاہے ؟ یا کوئی نئی نہریں نکالی ہیں ؟ یقینا ان کا جواب نفی میں ہوگا۔ ایک نندی پور پراجیکٹ حکومت کے گلے میںپھانس بن کر رہ گیا ہے۔ نیلم جہلم پر قوم سے بجلی کے بلوں میں سے کٹوتیاں ہورہی ہیں جیسے اس سے پیدا ہونے والی بجلی عوام کو مفت ملے گی ۔اوپر سےdebt servicing surcharge نامی ایک اور سرچارج بھی بل ادا کرنے والوں سے لیا جارہا ہے کہ جن کا حکومتی پالیسیوں کی ناکامی میں کسی قسم کا کوئی قصور نہیں ۔ اسی سرچارچ سے آئی پی پیز کو ادائیگیاں کر کے آئندہ الیکشن میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بناکر ووٹ لیا جائے ۔گویا ہمارے ہی پیسوں سے ہم سے ووٹ لینے کی حکمت عملی پر کام شروع ہوچکا ہے ۔پالیسی صفر اور عوام پر بوجھ بے انتہا ، لیکن یہ تو طے ہے خود خواجہ صاحب اور دوسرے دانشور وزیر عابد شیر علی چار سال نکال ہی گئے ہیں اگرچہ بجلی کا بحران ویسے کا ویسا ہی ہے ۔ لیکن مجال ہے کہ ان کے سامنے کوئی کہہ تو دے کہ جناب بحران موجود ہے وہ آپ کو اپنی دانشوری سے قائل کرہی لیں گے کہ یہ قصور منسٹری کا نہیں بلکہ خود عوام کا ہے۔بھلا عوام سولر پینل کیوں نہیں لگاتے یا اپنے لیے جنریٹر کیوں نہیں خریدتے۔موجودہ وفاقی بجٹ ہی کو دیکھ لیجئے اس میں بھی توانائی کے اس بحران کو مدنظر رکھ کر کوئی بڑا منصوبہ دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ البتہ اسحاق ڈارنے اپنی بیگم کا کہا مانتے ہوئے چاکلیٹ سستے کردیے ہیں ۔ چلیں ان کی مہربانی ورنہ اکثریت کا مسئلہ چاکلیٹ نہیں بلکہ روٹی ہے ۔ چاکلیٹ سستی بھی ہوجائے تو غریب کا بچہ پھربھی نہیں کھاپائے گا کیونکہ اسے پیٹ بھرنے کو روٹی بھی مل جائے تو غنیمت ہے ۔میاں صاحب نے تو یہاں تک فرمادیا ہے کہ وہ اگلا بجٹ بھی پیش کریں گے ۔ گویا آئندہ پانچ برسوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہونے والا کیونکہ میاں صاحب نے پھر یہ وزارت عابد شیرعلی اور خواجہ آصف ہی کو دینی ہے کہ جن کے مشوروں کو عوام لفٹ نہیں کرواتے ۔ بجٹ آگیا اور موضوع بحث بھی ہے لیکن ہم آپ کے ساتھ جناب انور مسعود کی بجٹ کے موضوع پر ایک نظم شئیر کرتے ہیں دیکھئے کہ کتنی حزب حال ہے ۔

بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے تیرے

انوکھے انوکھے خسارے تیرے

اَللّے تلَلّے اْدھارے تیرے

بھلا کون قرضے اتارے تیرے

گرانی کی سوغات حاصل مِرا

محاصل تِرے، گوشوارے تیرے

وزیروں کا جمگھٹ سلامت رہے

بہت کام جس نے سنوارے تیرے

مِری سادہ لوحی سمجھتی نہیں

حسابی کتابی اشارے تیرے

کئی اصطلاحوں میں گوندھے ہوئے

کنائے تیرے، استعارے تیرے

تو اربوں کی کھربوں کی باتیں کرے

عدد کون اتنے شمارے تیرے

تجھے کچھ غریبوں کی پرواہ نہیں

وڈیرے ہیں پیارے، دْلارے تیرے

اِدھر سے لیا، کچھ اْدھر سے لیا

یونہی چل رہے ہیں ادارے تیرے

متعلقہ خبریں