Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ہیثم بن عدی کہتے ہیں کہ تین افراد کا مسجد حرام میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ اس دور کا سب سے بڑا سخی کون ہے؟ ایک نے کہا: حضرت ابن جعفر' دوسرا بولا: حضرت قیس بن سعد اور تیسرا بولا نہیں' حضرت عرابہ اوسی۔فیصلہ ہوا کہ ہر شخص اپنی پسندیدہ شخصیت کے پاس چلا جائے اس سے کچھ مانگے اور جو کچھ دے وہ آکر یہاں بتا دے پھر اس بات کا جائزہ لے لیتے ہیں کہ بڑا سخی کون ہے؟ حضرت ابن جعفر کا عقیدت مند ان کے گھر گیا اور ان سے کہا: خدا کے رسولۖ کے بھتیجے! میں مسافر ہوں اور زادراہ ختم ہے۔ حضرت ابن جعفر اس وقت گھوڑے پرسوار کہیں جانے کے لئے تیار تھے۔ اسی وقت گھوڑے سے نیچے اترے اور فرمایا: گھوڑے کی رکاب پر پائوں رکھو اور اس پر سوار ہو جائے۔ اب یہ تمہارا ہے۔ اس کے ساتھ ایک تھیلا بھی ہے (جس میں چار ہزار دینار اور ریشمی چادریں تھیں)وہ بھی تمہارا ہے اور ہاں اس میں ایک تلوار بھی ہے اس کو معمولی نہ سمجھنا یہ سیدنا علی کی تلوار ہے۔ حضرت قیس بن سعد کا عقیدت مند ان کے گھر گیا تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ اس نے ان کی لونڈی سے کہا مسافر ہوں اور زاد راہ ختم ہوگیا ہے۔ لونڈی نے حضرت کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور کہایہ تھیلی پکڑو ' اس میں سات سو دینار ہیں۔ اس وقت حضرت قیس کے گھر میں یہی کچھ موجود ہے۔ گھر کے ساتھ ہی حویلی میں اونٹ بندھے ہوئے ہیں ' اپنی مرضی کا اونٹ پسند کرلو اور غلام کو اپنی خدمت کے لئے لے کر سفر پر روانہ ہو جائو۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت قیس بھی اٹھ بیٹھے۔معلوم ہونے پر وہ کہنے لگے: بہتر تھا مجھے اٹھا لیتی اور میں خود اس کی حاجت پوری کرتا۔ نہ معلوم جو کچھ تم نے اسے دیا ہے اس کی ضرورت کے مطابق ہے یا نہیں۔ تاہم تم نے جو اچھا کام کیاہے اس کے بدلے میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔ ادھر حضرت عرابہ اوسی کا عقیدت مند بھی ان کے گھر جا پہنچا۔ اس وقت نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ حضرت عرابہ بہت بوڑھے اور نا بینا ہوچکے تھے ' نماز کے لئے گھر سے نکل رہے تھے۔ دو غلاموں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ اس آدمی نے کہا: اے عرابہ! میں مسافر ہوں اور میرا زاد راہ ختم ہوگیا ہے۔ حضرت عرابہ نے اپنے دونوں ہاتھ غلاموں کے کندھوں سے ہٹائے اور بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر زور سے مار ا اور کہنے لگے: عرابہ نے اپنا تمام مال و دولت خرچ کردیا ہے مگر یہ دو غلام باقی ہیں تم ان دونوں کو لے جائو۔ اب یہ تمہارے ہوگئے۔یہ کہنے کے بعد آگے بڑھے۔ دیوار کا سہارا لیا اور ٹٹولتے ہوئے مسجد کی طرف چل دئیے۔ اس شخص نے ان دونوں غلاموں کو ہمراہ لیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آگیا۔ ہر ایک نے اپنے عطیے اور سکوں کا ذکر کیا اور ان دوستوں نے تینوں کی تعریف کی کہ بلا شبہ یہ تینوں بہت سخی ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں۔ اب رہا یہ فیصلہ کہ سب سے بڑا سخی کون ہے؟ تو فیصلہ حضرت عرابہ اوسی کے حق میں ہوا۔ کیونکہ انہوں نے سارا مال تنگ دستی کے باوجود خرچ کردیا تھا۔ (سخی لوگ)

متعلقہ خبریں