Daily Mashriq


خود کو سدھاریں تو اس کی حاجت پیش نہ آئے

خود کو سدھاریں تو اس کی حاجت پیش نہ آئے

شاہد خاقان عباسی نے مستقبل میں سول ملٹری تعلقات، عدلیہ، محتسب اور دیگر ریاستی اداروں کے کردار پر بات چیت کیلئے قومی مباحثہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ بات وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کی کارکردگی کا 5سالہ جائزہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس بات سے قطع نظر اگلی حکومت کون بنائے گا، اہم اداروں جیسا کہ عدلیہ، قومی احتساب بیورو اور میڈیا کے کردار اور سول ملٹری تعلقات کا مسئلہ درپیش رہے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عدلیہ، حکومت کے کاموں میں مداخلت کرتی رہے اور نیب حکومتی معاملات کو مفلوج کر دے تو کوئی حکومت بھی کارکردگی نہیں دکھا سکتی، یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت بننے کے پیش نظر عدلیہ اور نیب کے کردار پر قومی مباحثے کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالت کے فیصلے کے اثرات سے اربوں روپے کا نقصان ہو جاتا ہے تو ذمہ دار کون ہوگا؟ اور اگر نیب سرکاری اداروں کو مفلوج کر دے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ لے سکیں تو کون جوابدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے اختیارات کیساتھ ایک قومی مباحثہ سول اور ملٹری تعلقات پر بھی ہونا چاہئے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک اس طرح نہیں چلتے نہ حکومتیں ان حالات میں کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ سابق چیئرمین سینیٹ اور پی پی پی کے سینئر رہنما سینٹر رضا ربانی اداروں کے درمیان مکالمہ پر زور دیتے آئے ہیں۔ سیاستدانوں اور میڈیا میں اس حوالے سے اکثر وبیشتر تبادلہ خیال سامنے آتا ہے۔ اب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دم رخصت یہ کہہ کر اس تجویز کا اعادہ کیا ہے جب تک یہ ضروری کام نہیں ہوگا سول حکومت الجاؤ کا شکار رہے گی خواہ جس کی بھی حکومت آئے۔ سینیٹر رضا ربانی کا بیان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت کا بیانیہ ٹھہرتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بیک وقت سول حکومت اور مسلم لیگ ن کے نمائندے کے طور پر اس تجویز کا اعادہ کرتے ہیں، دیگر وہ سیاسی جماعتیں جو کسی نہ کسی صورت اقتدار اور حکومت کا حصہ رہے ہیں اس سے اتفاق کرتے ہیں گوکہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں پانچ سال حکمران جماعت رہی لیکن مقتدرہ سے ان کا واسطہ اس نوعیت کا نہیں رہا بلکہ اب تک پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے جن کو سیاسی مخالفین لاڈلا قرار دیتے ہیں اور ایک عام تاثر یہ ہے کہ مقتدرہ لاڈلے کو برسر اقتدار لانے کیلئے پوری کوشش کرنے والی ہے۔ اس سارے عمل میں فی الوقت تحریک انصاف متاثرہ جماعت نہیں باقی کو مسائل ومعاملات کا کافی سے زیادہ تجربہ ہے۔ پی ٹی آئی کا اس وقت ہی ان معاملات سے واسطہ پڑے گا جب اقتدار کی غلام گردشوں میں چوب دار ان کا نقارہ بجائیں لیکن طے ہے کہ ان غلام گردشوں میں ان کو بھی دیر یا بدیر انہی مشکلات اور معاملات سے دوچار ہونا پڑے گا جس کی نشاندہی تجربہ رکھنے والے سیاسی عمائدین کر رہے ہیں۔ اس قسم کی تجاویز کا ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی مضحکہ خیز محسوس ہوتی ہے کہ کیا بات کی جائے ظاہر ہے دستور پاکستان میں ہر ادارے ومحکمے ریاست وحکومت بارے صراحت سے فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین موجود ہے، کیا ایک مرتبہ پھر بیٹھ کر اس امر پر بات کی جائے کہ سارے راہگزر اپنے اپنے راستے چلیں ایک دوسرے کی راہ نہ کاٹنے لگیں اور اپنی اپنی ذمہ داریاں احسن طریق سے ادا کریں۔ یہ سب کچھ تو آئین میں طے ہے پھر وہ معاملات وہ رکاوٹیں وہ دباؤ کہاں ہے جس کا شور مچتا ہے اور اداروں کے درمیان مکالمہ کی تجاویز بار بار دی جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً ہمیں اس امر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مداخلت اور بے جا مداخلت ہوتی ہے اس کے بعد اس کے جواز اس کی وجوہات اور اس کے امکانات اور اسباب وعلل پر بات کی جائے اور باہم مشاورت سے اس کا حل نکالاجائے اور ہر ایک اپنی اپنی رہ لے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں اولاً سیاستدانوں کو اپنی سمت درست اپنے تعلقات وعمل کی اصلاح پر توجہ دینا ہوگی۔ سب سے پہلے تو سیاستدانوں کے اپنے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے اگر سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین ہر کام مشاورت، آئین ودستور کی پاسدار ی، دیانتداری، خلوص نیت اور شفافیت سے کرنے لگیں تو دوسرے فریقوں کیلئے مواقع ہی باقی نہیں بچیں گے کہ وہ مداخلت بے جا کے مرتکب ہوں، غیر سیاسی عناصر کے پاس براہ راست مداخلت کا کوئی فارمولہ نہیں یہاں جنگل کی لکڑی ہی دستے کیلئے دستیاب ہوتی ہے۔ بنابریں بہتر یہی ہوگا کہ اداروں سے بات چیت سے قبل سیاستدان آپس میں مفاہمت کرلیں سیاسی تنازعات اور سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے طے کیا جائے اور حصول اقتدار کی سیڑھی مقتدریں کی بجائے عوام کی حمایت واکثریت کا چنیں۔ حصول اقتدار سیدھے راستے پر چل کر ملے اور سیاسی معاصرین سیاسی معاملات کو سیاسی معاملات تک رکھ کر اپنے معاملات طے کرنے کا راستہ اختیار کریں تو مداخلت کاروں کا راستہ خودبخود مسدود ہو جائے گا۔ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت کے اثرات سے سیاستدانوں سے زیادہ کون واقف ہوگا۔ جہاں تک ایک کثیر الفریقی مفاہمانہ مذاکرات کا تعلق ہے اولاً اس کی گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہنے دینا چاہئے اور پھر بھی اگر سیاستدان اس کی ضرورت محسوس کریں تو جتھوں اور تتر بتر ہو کر خفیہ طور طریقے اختیار کرنے کی بجائے باقاعدہ اور منظم طور پر ایسا کرنے میں حرج نہیں۔ یہ مذاکرات اسی وقت ہی ممکن اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں جب سیاسی اتحاد ویگانگت کی فضا قائم ہو، بصورت دیگر اپنی اپنی بولیاں بولنے والوں کی بولی صدا بصحرا ہی ثابت ہوگی۔ 2018ء کے انتخابات میں سیاستدانوں کو سیاسی اکھاڑے میں خود کو سلجھا ہوا ثابت کرنا ہوگا اور بعداز انتخابات حکومت سازی میں بھی اسی کردار کا اعادہ کرنے ہی سے آئندہ کی حکومت مضبوط، طاقتور اور بالادست بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں