Daily Mashriq

سیکرٹری الیکش کمیشن کا پریشان کن بیان

سیکرٹری الیکش کمیشن کا پریشان کن بیان

سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے عالمی طاقتوں کی جانب سے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی کیا حقیقت ہے اور ان کو یہ حساس بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی، آیا اس ماحول میں اس قسم کے بیان کی گنجائش تھی بھی اور اس کے پس پردہ کیا مقاصد اور معاملات پوشیدہ ہیں۔ چیف الیکشن کمشنرکی بجائے اس امر کا اظہار سکریٹری الیکشن کمیشن نے کیوں کیا اور اگر اس قسم کی مستند معلومات ہیں تو اس کے اظہار کی بجائے تدارک کرنے کی کیوں کوشش نہ کی گئی اور سب سے ضروری بات یہ کہ انہوں نے اس کا اظہار کیوں کیا۔ ان سارے سوالات پر نگران حکومت کو غور اور سکریٹری الیکشن کمیشن سے استفسار آنے والے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی کوشش اکثر وبیشتر ہوتی رہی ہوں گی جن کا توڑ کرنا ہی الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس بیان سے تو الیکشن ملتوی کرنے کے امکان کی بو آتی ہے جو کسی طور مناسب نہ ہوگا اور نہ ہی دستور کے تحت اس کی گنجائش ہے۔ نگران حکومت کی اولین ذمہ داری ہی ملک میں انتخابات کیلئے ماحول کو سازگار رکھنا ہوتا ہے اور یہ ملکی اداروں کے اولین فرائض میں شامل ہے کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن طریقے سے ممکن بنائیں نہ کہ ان کے کردار وعمل پر انگلیاں اٹھیں اور قوم شرمسار ہو۔ اب جبکہ انتخابات کی تاریخ طے ہے، نگران حکومت بن رہی ہے، ملک میں انتخابات کیلئے تیاریاں کرتے ہوئے ماحول اور فضا کے بارے میں کسی قسم کے شکوک وشبہات پیدا کرنے کی بجائے سازگار فضا کا تاثر دینے کی ضرورت تھی سکریٹری الیکشن کمیشن کے اس بیان سے شکوک وشبہات میں اضافہ اور عدم اعتماد پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ جو بھی چیلنج درپیش ہوں ان کی تشہیر کی بجائے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے انتخابات کو مقررہ مدت کے اندر ممکن بنایا جائے اور منتقلی اقتدار کی مدت میں ایک دن کی بھی تاخیر نہ ہونے دی جائے۔
سکول فوری بند کئے جائیں
مجاز حاکم اور عدالتی احکامات کے باوجود سکولوں میں بچوں سے چھٹیوں کی ایڈوانس اور مکمل فیسوں کی وصولی اپنی جگہ اکثر سکولوں میں روزے اور گرمی کے باعث طالب علموں کی ایک چوتھائی حاضری کے باوجود بھی سکول کھلے رکھے جا رہے ہیں۔ عدالتی احکامات اور ریگولیٹری اتھارٹی کے احکامات کے برعکس جون کی فیس وہ مئی کی فیس کیساتھ ایڈوانس وصول کر چکے ہیں۔ طلبہ اور والدین سکول مالکان کی بہ امر مجبوری ماننے پر مجبور ہیں اور ان کو طوعاً وکرہاً فیسوں کی ادائیگی کرنی ہی ہے۔ اگر سکولوں کے بچوں کو چھٹیاں دی بھی جائیں تب بھی فیسوں کی ادائیگی بہرحال ہونی ہے مگر تعطیلات کی صورت میں فیسوں کی وصولی میں تعطل وتاخیر ممکن ہے جو تعطیلات اور گرمی کے باوجود سکول مالکان کو گوارا نہیں۔ اکثر سکولوں میں کورس مکمل کرایا جا چکا ہے بچوں کے امتحانات بھی ہو چکے ہیں اور بعض نے گرمیوں کی تعطیلات کیلئے گھر کا کام بھی دیدیا ہے مگر اس کے باوجود طالب علموں کو سکول نہ آنے پر بھاری جرمانوں کے چٹ تھمائے جا رہے ہیں جس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ متعلقہ حکام کو شکایات ملنے کے باوجود سکول مالکان کی ڈھٹائی باعث حیرت ہے ۔اس طرح کی صورتحال میں سکول کھلے رکھنے کا مقصد بچوں کی تعلیم وکورس کی تکمیل نہیں بلکہ مقصد ہوس زر کے علاوہ کچھ نہیں۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ سرکاری اعلامیے کا کھلے بندوں مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ شدید گرمی میں سکولوں میں جنریٹر کا معقول بندوبست بھی نہیں جس کی بناء پر بچوں کا شدید گرمی کے باعث سخت مشکلات سے دوچار ہونا اور بیمار پڑ جانا تقریباً یقینی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سکولوں میں فوری طور پر چھٹیاں دی جائیں اور جو سکول اعلان کے باوجود کھلے رکھے جائیں ان کیخلاف کارروائی کی جائے۔ یکم جون کے بعد تمام سکولوں میں مکمل تعطیلات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اداریہ