Daily Mashriq

ریاستی رازوں کے افشاء پر انکوائریاں

ریاستی رازوں کے افشاء پر انکوائریاں

لیفٹینٹ جنرل اسد درانی اور بھارتی خفیہ کار ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کی مشترکہ تصنیف ’’دی سپائی کرونیکلز‘‘ اس وقت منظر عام پر آئی جب پاکستان میں انتخابی مہم شروع ہونے والی ہے اور بھارت میں بھی عام انتخابات نزدیک آ رہے ہیں۔ خصوصاً بھارت میں عام انتخابات کے دوران حکمران بی جے پی کی پاکستان پالیسی اور کشمیر پالیسی اہم ترین ہو گی۔ پاکستان میں خاص موضوع حکمران مسلم لیگ کے حکمران شریف خاندان پر انٹرنیشنل کنسوریشئم آف انوسٹی گیٹو جرنلٹس کے انکشافات کے باعث ’’پاناما لیکس‘‘ کے حوالے سے مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ پاناما لیکس اب اگرچہ پرانی بات محسوس ہوتی ہے تاہم اس مقدمہ نے اس قدر طول کھینچا ہے کہ فیصلے کی تاریخ عام انتخابات کی تاریخ کے نزدیک آتی دکھائی دیتی ہے اور فریق مقدمہ سابق وزیر اعظم حکمران سیاسی پارٹی کے روح ِ رواں بھی ہیں اس سے انتخابی مہم پر اس مقدمے کی کارروائی کے اثرات کا نظر آنا بد یہی ہے ۔ لیکن انتخابی مہم پر اس مقدمے کے اثر انداز ہونے کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ اس مقدمے میں میاں نواز شریف نے اپنا دفاع اس انداز سے پیش کیا ہے کہ مقدمہ کا موضوع لندن کی جائیدادوں کی منی ٹریل کی بجائے میاں نواز شریف کے پارلیمنٹ کی بالادستی کے موقف کی طرف پھسلتا ہوا نظر آ تا ہے۔ اس دوران میاں صاحب نے اسی صحافی سے ایک انٹرویو کا بندوبست کیا جس نے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی ایک میٹنگ کی روداد بیان کی تھی (اس وقت میاں صاحب وزیر اعظم تھے اور انہوں نے خود اس صحافی کی خبر پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور اپنے دو قریبی ساتھیوں کو ملازمت سے سبکدوش بھی کر دیا تھا۔) اب کی بار اسی صحافی سے خصوصی انٹریو سے انہوں نے یہ تاثر دیا یا اس تاثر کی گواہی دی کہ بھارت میں ممبئی واردات کے حملوں آوروں کو پاکستان نے بھیجا تھا۔ اور یہ کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت جس میں ممبئی واردات کی سماعت ہو رہی ہے سست روی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان سے پہلے سابق صدر پرویز مشرف اور ‘ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی یہی بات کہہ چکے ہیں۔ یہ اسد درانی وہی ’’دی سپائی کرانیکلز ‘‘ کے بھارتی ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کیساتھ مشترکہ مصنف ہیں۔ اس کتاب میں کچھ ایسی باتیں بھی آشکار ہوئی ہیں جو اس سے پہلے عام معلومات کا حصہ نہیں تھیں اور پاکستان اور بھارت کے چند ہی افراد ان واقعات کے ان پہلوؤں سے واقف تھے جن کا ذکر بھارت اور پاکستان کے خفیہ کار اداروں کے دو سابق سربراہوں نے کر دیا ہے۔ ان کی کتاب کے مندرجات کو مزید تحقیقات کیلئے موزوں سمجھتے ہوئے ایک انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی گئی جسے وزارت داخلہ نے منظور کر لیا ہے۔ اس میں کارفرما اصول یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شواہد اور حقائق جنہیں سرکاری راز سمجھا جاتا ہے وہ کسی اہلکار کو خواہ اس کی ذاتی کاوش سے حاصل ہوئے ہوں ، خواہ بلحاظ عہدہ اس کے علم میں آئے ہوں وہ اس اہلکار کی ملکیت نہیں ہوتے ۔ یہ اس کی آجر تنظیم اور ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں اور متعلقہ اہلکار ان ’’رازوں‘‘ کے امین ہوتے ہیں اور تاعمر امین رہتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام عہدیدار جو ایسے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں جن کے لیے وہ آئین اور ریاست کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں ، وہ عہدیدار بھی ایسی بہت سی باتوں کے امین ہوتے ہیں اور تاعمر امین رہتے ہیں جو بلحاظ عہدہ ان کے علم میں آتی ہیں یا وہ ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ باتیں یا یہ راز ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں اور متعلقہ عہدیدار وزیر ہوں ، خواہ رکن اسمبلی ، خواہ وزیر اعظم ہوں، خواہ صدر مملکت وہ ان رازوں کے امین ہوتے ہیں ۔ ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان رازوں کو افشاء کرنے کی خیانت کے مرتکب ہوں خواہ اس کیلئے وہ اپنے ذاتی ضمیر کی آواز کا جواز پیش کریں کیونکہ جب آپ کسی عوامی عہدے کا حلف اٹھاتے ہیں یا جب آپ کسی ایسے عہدے پر پہنچتے ہیں جو قومی رازوں یعنی ایسی شواہد اور حقائق کا امین ہوتا ہے جو ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں تو آپ اس ضمیر اجتماعی کے تقاضوں کے تابع ہوتے ہیں جو ریاست کے مؤقف کو منضبط کرتا ہے نہ کہ آپ اپنے ذاتی ضمیر کی آواز پر ریاست کے ضمیر اجتماعی کے خلاف رویہ اختیار کر سکیں۔ جنرل درانی اور اے ایس دلت کی کتاب میں کیا ایسی باتیں ہیں جو نہیں کرنی چاہئیں تھیں اس کا اندازہ جلد ہی پاکستان میں جنرل اسد درانی کی انکوائری سے ظاہر ہو جائیں گی۔ اگر اسد درانی نے کوئی ایسی باتیں افشاء کی ہوں جو ریاست کے راز شمار کی جا سکتی ہیں تو انہیں یقینا اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ لیکن میاں نواز شریف کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ ممبئی حملہ آور پاکستان سے گئے اور انہوں نے وہاں قتل و غارت گری کی ۔ انہوں نے پاکستان پر ان حملہ آوروں کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے جبکہ ریاست کے چیف ایگزیکٹو اس وقت وہ خود تھے۔ اگر یہ صرف الزام ہے تو بھی اور اگر وہ اسے قومی راز ثابت کر سکتے ہیں اس صورت میں بھی نواز شریف نے اپنے اوپر ہی الزام لیا ہے۔ جنرل درانی کے خلاف اگر کوئی ایسی بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے سرکاری راز افشاء کیے تو یہ نواز شریف کے خلاف بھی ایک نظیر کی صورت اختیار کرے گی۔ ایک خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں دیگر امور کے علاوہ اسد درانی کی کتاب کا معاملہ بھی زیرِ غور آئے گا۔ فوج نے اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنے ایک سابق افسر کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے۔ کیا قومی سلامتی جو ایک سو یلین سیاسی فورم ہے ایسی کسی انکوائری کا راستہ اختیار کرے گا؟ کیا اس اجلاس میں اسد درانی کی کتاب کے مندرجات کے ساتھ ساتھ نواز شریف کا ممبئی حملوں کے ملزموں کے بارے میں بیان بھی زیرِ غور آئے گا؟۔

اداریہ