Daily Mashriq

سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا

سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا

اچھی سوچ رکھنے میں کیا حرج ہے اسلئے اگر الیکشن کمیشن نے بھی عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سے پارٹی کی فنڈنگ وaصول کرنے سے روکنے کیلئے تجویز دے دی ہے تو اصولی طور پر اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے لیکن کیا کیا جائے کہ ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں اس میں ہر شعبہ زندگی کے اپنے اصول ہیں جنہیں آپ اصولوں کی بے اصولی بھی قرار دے سکتے ہیں، اور جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو اس بارے میں تو مقولہ مشہور ہے کہ سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا، اتنی اہم بات ظاہر ہے مولانا ابوالکلام آزاد جیسا نابغہ ہی کہہ سکتا تھا جبکہ آج کے دور کے ایک دانشور خورشید ندیم کی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سیاست کی آنکھ میں شرم بھی نہیں ہوتی، اس لئے الیکشن کمیشن کی تجویز کو خوش کن قرار دینے کے باوجود جب ہم اسے عملی طور پر پرکتھے ہیں تو اس کے عمل درآمد کیلئے خود (سیاسی حلقوں) کو آمادہ پانے سے محروم ہی قرار یوں دے سکتے ہیں کہ اگر یہ ’’کاروبار‘‘ بند ہوگیا (جو ناممکن ہے) تو جو سیاسی منڈیاں سجی ہوئی ہیں ان کو اربوں کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، یہ سیاسی خانوادے بالکل اسی اصول پر قائم ہیں جیسے کہ ہمارے ہاں مختلف شہروں اور علاقوں میں ’’روحانی‘‘ خاندانوں کی اجارہ داری ہے اور ایوبی دور میں جب ایک قانون پاس کر کے ملک بھر کے مذہبی خانقاہوں اور روحانی آستانوں پر گدی نشینوں اور مجاوروں کو نذرانے پیش کرنے پر پابندی لگا دی گئی اور ہر دربار کو اوقاف والوں نے اپنے قبضے میں لے کر وہاں بڑے بڑے آہنی گلے (رقم جمع کر کے رکھی جانے والی الماریاں رکھ دیں، انہیں موٹے موٹے تالے لگا دیئے گئے تاکہ ان روحانی درباروں پر آنیوالے زائرین نذر نیاز کی رقمیں انہی الماریوں میں ڈالیں تو اس صورتحال کا توڑ ان مذہبی درباروں کے گدی نشینوں اور مجاوروں نے یہ نکالا کہ دروازے پر اپنے کارندے کھڑے کر دیئے جو ہر آنیوالے مرید کو ہدایات جاری کرتے کہ نذرانے لوہے کی تجوری میں نہ ڈالے بلکہ اندر حجرے میں جاکر پیر صاحب، گدی نشین یا مجاور کی نشست کے گدیلے کو اٹھا کر خاموشی سے وہاں رکھ دے، یوں محکمہ اوقاف والوں کی تمام تر حکمت عملی ناکام ہوتی چلی گئی اور نذرانے ’’اصل حقداروں‘‘ کے پاس ہی پہنچتے رہے۔ یہ بندوبست عرصے تک چلتا رہا اور خداجانے کب مکمل ناکامی سے دوچار ہوتے ہوئے بالآخر مفقود ہوگیا، مگر اب مریدین اور زائرین ان آہنی تجوریوں کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں اور بہ مشکل ہی ان میں تھوڑی بہت رقم جمع ہو جاتی ہوگی۔
اُلجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
جیسا کہ عرض کر چکا ہوں اکثر سیاسی جماعتیں بھی دراصل سیاسی گدی نشین اداروں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور الیکشن کمیشن سے معاف کیجئے گا درست اندازہ لگانے میں چوک ہوگئی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہر الیکشن کے ہنگام ٹکٹو ں کی تقسیم میں سیاسی منڈیاں سجتی ہیں، ٹکٹ کے حصول کے ہر خواہشمند کو جہاں درخواست کیساتھ ایک خاص رقم بطور فیس ادا کرنی پڑتی ہے تاکہ اسے بھی متوقع امیدواروں کی فہرست میں شمولیت کا موقع مل جائے، یہ رقم اتنی زیادہ نہیں ہوتی اور پارٹیوں کی مضبوطی کے حوالے سے مقرر کی جاتی ہے یعنی جس پارٹی کے جتنے چانسز جیتنے کے ممکن ہوتے ہیں اتنی ہی یہ ’’انٹری فیس‘‘ رکھی جاتی ہے اور یہ رقم ناقابل واپسی ہوتی ہے خواہ ٹکٹ ملے یا نہیں، تاہم ٹکٹ کس کے ہاتھ لگتا ہے اس کیلئے اور بڑے پاپڑ پیلنے پڑتے ہیں جن میں پارٹی لیڈروں کو اپنے اپنے حلقے میں جلسے جلوسوں کیلئے بھاری اخراجات برداشت کرنا اور اسی نوع کی دیگر سرگرمیوں میں دامے، درمے، سخنے حصہ لینے کے علاوہ درپردہ بھاری رقوم ’’لیڈر‘‘ کو ادا کرنے کیلئے باقاعدہ سودا بازی ہوتی ہے اور یوں یہ موقع ہوتا ہے جب ’’پارٹٰی لیڈر‘‘ ٹکٹوں کے عوض کروڑوں بلکہ اربوں کا اثاثہ جمع کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ’’مذہبی درباروں‘‘ کے گدی نشین بے پناہ دولت ہر روز جمع کرتے رہتے ہیں، تاہم روحانی مقابر پر تو مریدین اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے بڑے نوٹ ہی بطور نذرانہ پیش کرتے ہیں جبکہ ’’سیاسی گدیوں‘‘ پر یہ نذرانے یا تو بڑے نوٹوں یا پھر مبینہ طور پر ڈالروں اور یورو کی شکل میں بیرون ملک بھی جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ اب اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان ماضی کے محکمہ اوقاف کی مانند ان سیاسی گدیوں کے کاروبار کو محدود کرنے پر آمادہ ہے تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس ضمن میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکے گا، کیونکہ یہاں تو ’’انڈر ہینڈ‘‘ ادائیگیوں اور وصولیوں کی روایت پہلے ہی سے موجود ہے، جو ہمارے ہاں رائج ’’سیاسی تجارت‘‘ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زیادہ دور جانے کی بجائے حال ہی میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے جس طرح ضمیروں کا سودا کروڑوں میں طے ہونے کے معاملے کو خود سیاسی رہنماؤں ہی نے طشت ازبام کیا بلکہ تحریک انصاف نے تو ’’فروخت‘‘ ہونے والوں پر خود ہی الزامات لگا کر انہیں پارٹی سے خارج کیا، اس سے کیا مترشح ہوتا ہے، یہی کہ جنہوں نے اربوں خرچ کئے کیا اگلے چھ سال میں وہ یہ رقم بمع معقول منافع واپس کرنے میں کوئی موقع ضائع کریں گے؟ ظاہر ہے نہیں، تو جہاں سیاست کاروبار بن چکا ہو وہاں کسی خیر کی توقع عبث ہے، کیونکہ واقعی سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا اور آنکھ میں شرم بھی نہیں ہوتی۔

اداریہ