Daily Mashriq


مسائل ہی مسائل

مسائل ہی مسائل

گوکہ رمضان المبارک کی ان بابرکت ساعتوں میں مغفرت یقینی ہے لیکن اگر ہم اپنے اعمال کی طرف دیکھیں تو رمضان المبارک میں عام معافی کی منڈی لگنے کے باوجود رمضان کے گزر جانے پر محروم رہنے والے افراد میں سے ہونے کا خوف دامن گیر رہتا ہے کہیں ہم ان لوگوں میں شمار نہ ہوں جو محروم ہوں۔ کیا رمضان اور کیا معمول کی زندگی مالک کائنات کے غضب کے مقابلے میں رحمت کے بہت بڑی بہت زیادہ اور بہانے بہانے سے نوازنے اور مغفرت کرنے کا یقین نہ ہو تو ہم جیسوں کی تو کشتی بھنور سے نکلے ہی نہ۔ بہرحال بندہ بشر کمزور سہی پر تقصیر سہی مگر خدارا اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی تھوڑی بہت کوشش تو ہونی چاہئے۔ رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں ہماری معاشرتی دنیا پہلے ہی کی طرح آباد ہے۔ جھوٹ، غیبت، دھوکہ، ناجائز منافع خوری، فرائض سے غفلت کا ارتکاب اور دوسروں کا حق مارنا وغیرہ وغیرہ۔ ذرا سوچئے ہم نے رمضان المبارک میں بھی تو کچھ نہ چھوڑا کسی بری عادت، کسی برائی گناہ ومعصیت، کسی خامی کو چھوڑنے کسی خوبی کو اپنانے میں کوئی سرگرمی نہ دکھائی، درست ہے کہ روزے رکھ رہے ہوں گے مگر ماہ صیام کے آداب اور روزے کی حرمت کی ہم کتنی پاسداری کرتے ہیں۔ ہر کسی کو اپنا آپ معلوم ہے ایک لمحہ ٹھہر کر ذرا سوچتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ آدھا گزرنے کو ہے اور ہم ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ قارئین کرام سے اس ماہ مقدس سے ناتہ برقرار رہا ایس ایم ایس موصول ہونے کی شرح قدرے کم رہی مگر پھر بھی دوتین کالم کے بقدر پیغامات موصول ہوئے۔مہمند ایجنسی سے ناصر احمد اور فضل وہاب سمیت ان کے چھتیس ساتھی 1998 اور 2000 سے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز میں پڑھاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تعلیمی انقلاب کی دعویدار اور وفاق میں تعلیم پر توجہ دینے والوں کی حکومت رخصت ہوگئی بلکہ کئی حکومتیں آئیں اور رخصت ہوئیں مگر اس طرح کے مستحق لوگوں کی کسی دور میں نہ سنی گئی۔ اس کے باوجود کہ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ سے مقدمہ بھی جیتا ہے مگر عدالتی احکامات کے باوجود ان کو مستقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ اب تو عدالت سے ہی توہین عدالت کا نوٹس لینے کی فریاد باقی ہے۔ کیا کیا جائے اس بیوروکریسی اور حکمرانوں کا۔ نگران دور حکومت میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہئے، اگر یہ لوگ سیاسی طور پر بااثر ہوتے تو ان کا مسئلہ پی ٹی آئی کی حکومت حل کر چکی ہوتی۔ صبر سے کام لیں آسمان والے کے پاس دیر ہے اندھیر نہیں۔ضلع چارسدہ کے ایک نوجوان نے این ٹی ایس میں گٹھ جوڑ اور ایک دو فوٹو سٹیٹ والوں کی نشاندہی کی ہے جن کی ملی بگھت سے پرچے آؤٹ ہوتے ہیں اور ملی بھگت کے حامل اُمیدواروں کو ان لوگوں کی مدد سے سوالات کے جوابات حال کے اندر موصول ہوتے ہیں۔ این ٹی ایس سے ٹیسٹ کی خدمات لے کر اب ایٹا کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے مگر اب تک کیا ہوتا رہا ہے اس کی اگر نیب خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے معاملات کی طرح نوٹس لے تو ایک اچھا اور عوامی کیس ان کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ میں اس بات پر اپنے تجربے کی بنیاد پر زور دوں گی کہ بھرتیوں کی تحقیقات ہوں تو ہر محکمے میں بہت کچھ مل سکتا ہے۔ میں خود میرٹ پر بھرتی کرنے کی کامیاب وناکام کوشش میں وفاقی وزیر ریلوے غلام بلور کی مہربانیاں بھگت چکی ہوں۔ مجھے دلی مسرت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی نوجوان کسی ریلوے سٹیشن پر ادب سے سلام کر کے یہ کہتا ہے کہ میڈم میں آپ کی طرف سے میرٹ پر بھرتی شدہ ہوں آپ نہ ہوتیں تو یہ نوکری مجھے کون دیتا حالانکہ اس میں میرا کوئی کمال نہ تھا میں نے تو جو میرٹ پر آیا اسی کو بھرتی کیا، صرف یہ ہے کہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالو تو بھڑ چمٹتے ضرور ہیں مگر روح خوش اور دعائیں ملنے سے اطمینان بہت ہوتا ہے۔ کوالیفائیڈ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن لوئر دیر کے جنرل سیکرٹری محمد ارشد کا خیال ہے کہ سرکاری سکولوں پر والدین کا اعتماد بحال ہونے لگا ہے۔ اساتذہ کرام کو سکولوں میں اور والدین کو گھروں پر بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے ارباب اختیار سے سکولوں کی عمارتوں اور سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ سرکاری سکولوں میں بہتری کی امید اپنی جگہ مگر جاری صورتحال میں یہ تاثر انفرادی اور خال خال تو ہوسکتا ہے مگر مجموعی طور پر سکولوں میں تدریس اور سہولیات کی فراہمی ہنوز دور ازکار نوعیت کا معاملہ ہے، بہتری کی توقع اور کوشش ہونی چاہئے۔فقیر محمد آفریدی کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ تاروجبہ میں سڑک عبور کرتے ہوئے حادثات کی روک تھام کیلئے جی ٹی روڈ کے اوپر پل بنایا جائے۔ بدقسمتی سے اولاً ہمارے ہاں زیبرا کراسنگ ہے ہی نہیں۔ جی ٹی روڈ مصروف بازاروں اور پرہجوم آبادیوں سے گزرتی ہے، جگہ جگہ پلوں کی تعمیر کیلئے وسائل درکار ہیں، عوام احتیاط سے سڑک پار نہیں کرتے اور خاص کرکے بچوں کو سڑک بھیجنے سے ذرا نہیں کتراتے۔جملہ وجوہات حادثات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، ڈرائیور بھی احتیاط نہیں کرتے، اس مسئلے پر بہرحال توجہ اور غور کر کے کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ کم ازکم زیبرا کراسنگ اور اس کی پابندی ہی ہو جائے تو حادثات میںکمی آئے گی۔ لوگ بھی سڑک احتیاط سے پار کریں اور اپنے بچوں کو تو کسی طرح بھی اکیلے سڑک کراس کرنے نہ دیں۔میں سمجھتی ہوں کہ اس قسم کے معاملات میں سیاسی مصلحتوں اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے جب تک جان نہ چھڑائی جائے اصلاح احوال ممکن نہیں۔ سخت گیر حکومت اور سخت گیر انتظامیہ اور سنجیدہ اقدامات سے ہی اس قسم کے مسائل کا حل اور اس میں کمی آسکتی ہے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں