Daily Mashriq


پانی کی قدر وقیمت اور ہماری بے حسی

پانی کی قدر وقیمت اور ہماری بے حسی

پختونخوا میں ایک ضرب المثل ہے کہ ’’دنیا پہ اوبو آبادہ دہ، قدر د غوڑو ڈیر دے‘‘ پانی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے صحرائی زندگی گزاری ہو۔ بنی اکرمؐ کو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کا اتنا احساس تھا کہ آپؐ جس مقدار کے پانی سے وضو اور غسل فرماتے، آج بعض لوگ اسے جان کر حیران ہوتے ہیں۔ وہ نعمت عظمیٰ پر جس پر زندگی کا دار ومدار ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسولؐ نے انسان کو کس انداز میں خبردار کیا ہے، اُس میں عقلمندوں کیلئے نشانیاں ہیں لیکن ہم عقل سے بہت تھوڑا کام لیتے ہیں ورنہ ہمارے معاملات یوں بے ہنگم نہ ہوتے۔ اسراف تو اسلام میں ہر شعبہ زندگی کے معاملات میں منع ہے لیکن پانی میںاسراف نہ کرنے کی تاکید وتشرید کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’دریا کے کنارے بھی وضوکرتے وقت پانی کے اسراف سے منع فرمایا گیا ہے‘‘۔ نبی کریمؐ نے جب مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو وہاں میٹھے پانی کا ایک ہی کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت تھا اور وہ اُس کا پانی بیچا کرتا تھا۔ غریب لوگ وہ پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ آپؐ نے حضرت عثمان غنیؓ کے ذریعے وہ کنواں خریدوا کر اُس کے پانی کو عام وخاص کیلئے بے دام کروایا۔ یوں لوگوں کو جی بھر کر میٹھا پانی پینے کو ملا۔ آج بھی خلیجی ممالک میں نیسلے کا پانی کا بوتل پٹرول سے مہنگا پڑتا ہے۔پاکستان پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کی بارش فرمائی تھی۔ شہید پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کے بقول پاکستان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے حوالے سے سورۃ رحمن کی تفسیر ہے لیکن ہم مسرف اور ناقدرداں قوم ہیں۔ اسلئے ایک بڑی ناقدری اور سخت بیوقوفی اور نادانی تو یہ کی کہ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے بھارت کو خواہ مخواہ تین دریا دے دیئے۔ آج وہ اس احسان کا بدلہ یوں اُتار رہا ہے کہ ہمارے حصے کے دریاؤں کے، ہیڈ ورکس پر بند باندھتے ہوئے پانی کا رخ موڑ رہا ہے اور پاکستان کو بوند بوند کیلئے ترسانے اور صومالیہ وایتھوپیا بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ دوسری ناقدری وبیوقوفی یہ ملاخطہ کیجئے کہ تربیلا، منگلا اور وارسک کے بعد کوئی بڑا ڈیم بہترین مقامات پر بند ہونے کے باوجود اسلئے نہ بن سکا کہ ہم سیاست کرتے نہیں کھیلتے ہیں، ایک ملک ایک قوم ہوتے ہوئے ہمارے دل اندر سے پھٹے ہوئے ہیں۔ لہٰذا پانی کی تقسیم، ضیاع کا روکنا اور ڈیم بنانا سب گندی سیاست کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں یہودیوں نے جو نظام سیاست ومعاشرت متعارف کروا کر مضبوط کیا اُس میں مال کا حصول بنیادی مقصد زندگی بن گیا ہے اور پوری دنیا کا سارا نظام ڈالر کیساتھ منسلک کر دیاگیا۔ ڈالر پاؤنڈ کے حصول کیلئے ماحولیات کا تحفظ باڑھ میں جائے تو پروا نہیں اور یہی ہو رہا ہے۔ اوپر سے مفادات کے حصول کیلئے اقوام وملل کے درمیان جنگیں الگ سے ماحولیات اور بالخصوص پانی کے ذرائع تباہ وبرباد کر رہی ہیں۔ ہم مل کر اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے احکام وتعلیمات کے مطابق زندگی گزارتے تو ان کو یوں واک اوور نہ ملتا اور انسانیت یوں ذلیل نہ ہوتی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان سے اپنے نبی آخرزمان کی زبان سے کیا لرزا دینے والا سوال کیا ہے ’’آپؐ فرما دیجئے کہ تم بتاؤ اگر تمہارا پانی زمین میں نیچے چلا جائے تو وہ کون ہے جو تمہارے پاس چشمہ والا پانی لے آئے‘‘۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہماری نافرمانیوں اور نعمتوں کی ناقدری کی پاداش میں پانی خشک فرما دے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو ذرا بتلاؤ! پھر کون ہے جو ہمیں جاری، صاف اور ستھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ کوئی نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ ہماری معصیتوں کے باوجود ہمیں پانی سے محروم نہیں فرماتا۔ تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ سورۃ الملک کی پہلی آیت ’’کون ہے جو تمہارے پاس چشمہ والاپانی لے آئے‘‘۔ اُس وقت بعض متکبروں نے سنی تو جواب میں کہا کہ ’’کدال اور پھاوڑہ کے ذریعے پانی لے آئیں گے‘‘ ان الفاظ کے کہنے کیساتھ ہی اُس کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا۔ جسے کدال، پھاوڑہ اور اپنی مشینری پر غرور ہے وہ اپنی آنکھ کا خشک شدہ پانی ذرا لے آئے نا!۔ اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں کے حصول کا ایک ہی راستہ ہے۔ اطاعت الٰہی اور نعمتوں کا شکر گزار ہونا، اہل پاکستان کو رمضان المبارک میں عہد کرنا چاہئے کہ یہ عظیم ملک جس مقصد کیلئے حاصل کیا گیا تھا، اُس کیلئے خلوص نیت کیساتھ عمل کریں گے، اور وہ شریعت مطہرہ کا نفاذ، سارے مسائل حل ہو جائینگے۔ سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ یا کوئی اور پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔ اس ملک پر (اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بارش برسنا شرو ع ہو جائیگی۔ ورنہ ایک پانی کی قلت اور بھارت کا تعصب اور دشمنی، پاکستان کو (خاکم بدہن) برباد کرنے کیلئے کافی ہوگا لیکن نہیں، پاکستان قائم رہنے، آباد رہنے اور عالم اسلام کی قیادت کرنے کیلئے وجود میں آیا۔ آئیں سب مل کر اس کی حفاظت کریں اور وسائل کی قدردانی کرکے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اضافہ کے مستحق بنیں۔

متعلقہ خبریں