Daily Mashriq


حکومت نے ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا

حکومت نے ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا

مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت اقتدار کے خاتمے پر زرمبادلے کے ذخائر میں مصنوعی اضافہ کرنے کیلئے اس ملک کو مزید قرضوں میں جکڑ کر جانا چاہتی ہے، اس معاملے سے آگہی رکھنے والے بینکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ادائیگیوں میں بڑھتے ہوئے عدم توازن کے دباؤ سے نکلنے کیلئے نئے قرض کی درخواست کی ہے جو ایک سال کی مدت کے دوران قابل ادائیگی ہوگی۔ دوسری جانب ایک برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایک بار پھر چین کا رخ کر لیا ہے اور اپریل میں چینی بینکوں سے اچھی مسابقتی شرح پر ایک ارب ڈالر کا قرض لیا جا چکا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر طارق باجوہ چینی بینکوں سے اچھی شرح پر قرض حاصل کرنے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے بینکوں سے مسابقتی بنیاد پر حاصل کی گئی اس رقم سے دونوں ممالک کے درمیان مالی، سیاسی اور عسکری تعلقات مضبوط ہوں گے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر طارق باجوہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین کے کمرشل بینکوں کے پاس پیسوں کی بھرمار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو امید ہے کہ چینی بینکوں سے ملنے والی اس رقم سے پاکستان، قرض کیلئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانے سے بچ جائے گا۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پاکستانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو قرض دینا چین کے بھی مفاد میں ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ حاصل کئے گئے ایک ارب ڈالر سے قبل بھی پاکستان، چینی بینکوں سے اپریل 2017 سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے، جبکہ مزید قرض لئے جانے کی بھی توقع ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کیساتھ مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کیلئے فنڈ کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اب حکومت جانے سے پہلے اس کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈز کے تخمینے کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مجموعی ملکی پیداوار کے 5.5 کے مساوی رہ گئے ہیں۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان 20کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ملک پر واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں مدد مل سکے، مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نئے قرض اپنے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافہ کرنے کیلئے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں مختلف اداروں کو ادائیگیاں کرنا ہیں یہ ادائیگیاں کرنے کیلئے ہمیں اپنے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم فی الوقت20کروڑ ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگلے ہفتوں کے دوران یہ رقم بڑھا کر 35کروڑ ڈالر تک کی جاسکتی ہے، مفتاح اسماعیل نے کہا کہ غیر ملکی بینکوں سے مزید قرض حاصل کرنے کیساتھ حکومت ملکی کرنسی میں بھی کم وبیش اتنی ہی رقم بطور قرض حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔حکومت پاکستان کے دعوے کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 5فیصد سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود ماہرین اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے تیزی سے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے زرمبادلے کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے رواں سال ہی آئی ایم ایف سے نیا بیل آؤٹ پیکیج لینے پر مجبور ہونا پڑیگا۔ پاکستان نے گزشتہ سال بھی ایک ارب ڈالر مالیت کے سکوک بانڈ اور 1.5 ارب یعنی ایک ارب 50کروڑ ڈالر مالیت کے روایتی بانڈز جاری کرکے بھی ڈھائی ارب ڈالر جمع کئے تھے، پاکستان میں قرضوں کا توازن بہت زیادہ خراب ہو جانے کے بعد حال ہی میں قرضوں کی منڈی میں پاکستان کو بہت زیادہ فعال دیکھا گیا، اس سے قبل پاکستان نے گزشتہ سال 10 سال میں ادائیگی کی بنیاد پر 70کروڑ ڈالر جمع کئے تھے۔ اب پاکستان ایک دفعہ پھر سال رواں کے اوائل میں کریڈٹ اور انڈسٹریل اور کمرشل بینک آف چائنا کی زیر قیادت ایک سال کی مدت کیلئے 45کروڑ ڈالر کے قرض کیلئے مارکیٹ میں آیا تھا۔ 30جون2013 کو پاکستان پر واجب الادا ملکی وغیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 134کھرب 82ارب 70کروڑ روپے تھا جو 30جون 2016 تک بڑھ کر 178کھرب 24ارب 60کروڑ روپے تک جا پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق جون2013 میں مقامی قرضوں کا حجم 86کھرب 86ارب 20کروڑ روپے تھا جو جون2016 میں 117کھرب 73ارب 50کروڑ روپے ہوگیا۔ ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے قرضوں میں 8000ارب روپے کا اضافہ کیا، اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ جون2013 میں غیر ملکی قرضوں کا حجم 47کھرب 96ارب 50کروڑ روپے تھا جو جون2016 تک بڑھ کر 60کھرب 51ارب 10کروڑ روپے ہوگیا۔

متعلقہ خبریں