Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

دمیری ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دو رخلافت کا ایک واقعہ یہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ملک میں گرانی ہوگئی ۔ لوگ پریشان ہوگئے اسی دوران عرب کا ایک وفد امیر المومنین کی خدمت میں آیا۔ ان میں سے ایک صاحب بحیثیت متکلم چن لئے گئے ۔ متکلم نے کہا کہ اے امیر المومنین ! ہم سب آپ کی خدمت میں ایک شدید ضرورت کی وجہ سے عرب علاقوں سے حاضر ہوئے ہیں۔ بیت المال کے سلسلے میں کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ متکلم نے کہا کہ بیت المال کی رقم یا تو خداوند قدوس کی ہے یا اس کے بندوں کے لئے ہے یا آپ کی رقم ہے ۔ اگر خداوند قدوس کی ہے تو وہ اس سے مستعفی ہے اور اگر مخلوق کی ہے تو آپ ان کی عنایت کر دیجئے اور اگر ان کی تمہیں ہے بلکہ آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ہم لوگوں پر صدقہ کر دیجئے ۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بہتر صلہ دیں گے۔ یہ سن کر امیر المومنین کی آنکھیں آنسوئوں سے ڈبڈبا گئیں۔ فرمایا وہی ہوگا جو تم لوگ خواہش رکھتے ہو۔ جب ان لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوگئیں تو امیر المومنین نے فرمایا : اے فلاں جس طرح کہ تم نے لوگوں کی ضروریات کو مجھ تک پہنچایا ہے میری حاجت کو بھی خدا تک پہنچا دے او رمیرے لئے فقروفاقہ کے رفع ہونے کے لئے دعا کردے یہ سن کر متکلم نے دعا کی ۔ خدایا تو عمر بن عبدالعزیزؒ کے ساتھ اپنے مخصوص بندوں جیسے معاملہ فرما۔ جملہ کی ادائیگی مکمل نہ ہوئی تھی کہ آسمان سے ایک بادل اٹھا اور زوردار بارش ہوئی اسی بارش میں ایک بڑا اولہ ٹوٹ کر بکھر گیا اس سے ایک چھوٹا کاغذ نکلا جس میں یہ لکھا ہوا تھا۔ یہ رقعہ عمر بن عبدالعزیز کے لئے زبردست قوت والے جابر کی طرف سے جہنم کی آگ سے برات کا پروانہ ہے۔ (بحوالہ کتاب الحیوان ، جلد اول)

امام ابن کثیر ؒ نے لکھا ہے کہ جب منصور نے ابو ہبیرہ کا محاصرہ کیا تو منصور نے کہا ۔ ابوہبیرہ تو خود ہی اپنی عورتوں کے لئے خندق کھود رہا ہے جب یہ بات ابو ہبیرہ کو معلوم ہوئی تو اس نے منصور سے کہلایا کہ تم نے میرے بارے میں یہ بات کہی ہے تو چلئے اسی بات پر آپ کا اورمیرا مقابلہ ہوجائے۔ منصور نے ابوہبیرہ کے پاس یہ جواب بھیجا کہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک مرتبہ شیر کی مڈبھیڑ ایک خنزیر سے ہوگئی۔ خنزیر نے کہا ۔ آئو مجھ سے مقابلہ کر لو۔ شیر نے جوا ب دیا۔ میں تمہارے سامنے مقابلہ کے لئے کیسے آسکتا ہوں۔ جب کہ تو میرے برابر نہیںہے ۔اگر مجھ سے میرا کوئی نقصان ہوگیا تو میرے لئے ایک عار کی بات ہوگی ۔خنزیر نے کہا اگر تومیرے مقابلے کے لئے نہیںنکلتا تو میں تمام درندوں سے بتادوں گا کہ شیر میرے مقابلہ کے لئے نہیں آیا وہ بزدل ہے ۔ شیر نے جواب دیا۔ تیرے جھوٹ بولنے کی عار کو برداشت کرنا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ میرے ہاتھ تیرے خون سے رنگین ہوں۔(البدایہ والنہایہ)

متعلقہ خبریں