Daily Mashriq

بی جے پی کی جیت کے بھارت پر اثرات

بی جے پی کی جیت کے بھارت پر اثرات

مودی کی دوسری شاندار کامیابی نے جہاں بھارت میں طوفان برپا کیا وہیں دنیا کو حیرت کے جھٹکے دئیے۔ جب تک مودی آر ایس ایس کے ہندتوا نظرئیے اور خود سے بالاتر ہوکر اپنی سوچ وفکر کا دائرہ وسیع نہیں کرتے تب تک یہ انتخابی جیت ہندوستان اور اس کے پڑسیوں کیلئے نیک شگون ثابت نہیں ہوسکتی۔

واجپائی کا اس طرف جھکاؤ دیکھنے کو ملا مگر مودی خود کو کافی محدود رکھے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اب خود کو ہندتوا نظرئیے کے حقیقی روپ اور اس کی جائز حیثیت کے ایک مظہر کے طور پر دیکھیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مودی اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوتوا نظرئیے، بیانیے اور وژن کو ایک زیادہ اجتماعی اور معقول سیاست میں بدلنا چاہیں تو بدل سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت دور دور تک اس قسم کی تبدیلی کے آثار تک نظر نہیں آتے۔

چنانچہ آپ کو یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی کہ آر ایس ایس تو جیت چکی ہے لیکن انڈیا ہار چکا ہے۔ ہندتوا بطور ایک فاشسٹ، فرقہ وارانہ، غیرمعقول اور انتقام خواہ نظریہ کبھی بھی بھارت کو ایک ایسی بنیاد فراہم نہیں کرسکتا جس پر کھڑے ہو کر یہ ملک خود کو21ویں صدی میں ایک زبردست طاقت کے طور پر ابھار سکے۔ بطور ایک انتہاپسند تحریک، اس کا وجود تمام ہی سیاسی معاشروں میں پایا جاتا تھا مگر اسی نظرئیے کو مرکزی دھارے کی حیثیت ملنے سے بھارت کے مستقبل کا رخ پست حالی کی طرف موڑ دے گا اور خطے بلکہ ممکنہ طور پر عالمی استحکام کیلئے خطرہ بن جائے گا۔

چینی انقلاب اس جذبے کی قوت سے برپا ہوا تھا کہ ذلت آمیز صدی کو دوسری بار برداشت نہیں کیا جاسکتا جو افیمی جنگوں سے شروع ہو کر آزادی پر ختم ہوئی تھی۔ مایت اور بعد ازمایت کے ادوار نے متعدد پالیسی غلطیوں، دشواریوں اور اتار چڑھاؤ کے باوجود اس تاریخی کارنامے کی راہیں ہموار کیں۔ آر ایس ایس کے زیرحکومت ہندوستان نے مسلم حکمرانی کے ذلت آمیز ہزار سال کی انتہائی منظم لیکن مہلک تصور کو اس قدر سر پر سوار کردیا ہے کہ خود کو نقصان پہنچانے سے بھی باز نہیں آتا۔ آج یہ سر پر سوار تصور کرپٹ، کارپوریٹ اور پرتشدد اشرافیائی ریاست کو باآسانی سیاسی ڈھال فراہم کرتا ہے۔اسی فرسودگی اور جہل پسندی سے بھرپور تصور نے اس ترقی پسند اور سیکولر تصور کو چکناچور کردیا جو ہندوستان میں ایک حقیقت سے زیادہ ایک آرزو بلکہ فریب سا بنا رہا ہے۔ محرومیوں اور استحصال کا شکار جو طبقات اس فرسودہ تصور کی دیوانہ وار حمایت کرتے ہیں، ان کی مایوسیوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور انہیں انہی کے مفادات کیخلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ آر ایس ایس، سنگھ پریوار، بی جے پی اور مودی ملکر اس سیاسی کینہ پروری کو عملی شکل دیتے ہیں۔

اب یہاں سے پاک بھارت تعلقات کی راہ کس طرف نکلتی ہے؟ پاکستان کی جانب فاتح مودی کے حوالے سے وسیع بنیادوں پر دو خیالات ملتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک وہ پاکستان کو بھارت ماتا کی کوکھ میں سے ناجائز طور پر کاٹے گئے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں جو اب ہندوستان کے جنوبی ایشیا پر غالب طاقت بننے کے خواب کی تعبیر میں دشوار رکاوٹ بنا ہوا ہے چنانچہ وہ پاکستان کو اسٹریٹجک میدان میں سبق سکھانے کی کوشش کریں گے۔ وہ دوطرفہ اور عالمی سطح پر دستیاب تمام آپشنز کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان پر شدید اور بے رحمانہ دباؤ ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے تاکہ اسے بھارت کی مرضی کے تابع بنایا جاسکے۔

یا پھر متبادل طور پر، حد سے زیادہ پراعتماد مودی، دشوار حالات سے دوچار پاکستان کیلئے چند ایسے تدبیری آپشنز کا انتخاب کرسکتے ہیں جو پاکستان کو درست سمت پر گامزن ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ ان میں غیررسمی، بعدازاں منظم مذاکرات کی بحالی اور رفتہ رفتہ دو طرفہ تعلقات میں ایک حد تک تحرک کی حمایت کے آپشنز شامل ہوسکتے ہیں۔ جس کے بدلے میں مودی پاکستان سے کشمیر بشمول بیک چینل مذاکرات کی ممکنہ بحالی اور ایل او سی پر شدت پسندانہ سرگرمیوں کا مستقل طور پر خاتمے، دہشتگردی بشمول ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی تکمیل اور مبینہ دہشتگرد ڈھانچوں، پناہ گاہوں اور سروسز کے خاتمے اور افغانستان سمیت خطے میں ہندوستانی اسٹریٹجک مفادات کے احترام کے حوالے سے روئیے میں تبدیلی کی توقع کریں گے۔ مودی پاکستان سے یہ توقع وابستہ کریں گے کہ وہ چین اور بھارت کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن کو برقرار رکھے جو سی پیک میں اس کی شمولیت کا سیاق وسباق واضح کرتا ہو۔اس بات سے تو سبھی متفق ہیں کہ وزیراعظم نے بھارت کیساتھ تعلقات، بالخصوص حالیہ تنازع کے موقعے پر اپنے اوسان قائم رکھتے ہوئے خوداعتمادی سے سنبھالے ہیں۔ جون میں ہونیوالی شنگھائی کوآپریشن سمٹ(ایس سی او)کے دوران ان کی مودی سے ملاقات متوقع ہے۔ اختلافات اور چیلجنز کی پھیلی فضا میں یہ ملاقات کافی اہم ثابت ہوگی جو مواقع سے بھرپور اصولی اور حقیقی تعلقات کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ اس قسم کی ملاقات، اگرچہ غیررسمی اور مختصر ہوتی ہے تو بھی اس کیلئے ملک کے اندر سیاسی مشاورت اور نئی دہلی کیساتھ مفصل مشاورت کیساتھ محتاط انداز میں تیاریاں کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

اگر مودی کی سفارتکاری سخت اور غیر مصالحانہ ہی رہتی ہے تو پاکستان بھارت کے بالکل برعکس اصولی سفارتکاری کی اعلیٰ مثال قائم کرے اگر مودی زیادہ لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پاکستان کو طویل مدتی اصولی تعلقات کے مواقع کی تلاش کرنے میں ذرا بھی شرمانا نہیں چاہئے۔ (بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں