یوتھ پالیسی، عملدر آمد امتحان ہوگا

یوتھ پالیسی، عملدر آمد امتحان ہوگا

تحریک انصاف کی قیادت پر نوجوانوں کی جماعت ہونے کے ناتے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ صوبے میں حکومت کے قیام کے تین سالوں کے دوران کوئی ایسا مثالی قدم نہیں اٹھایا گیا جس پر مخالفین نہ سہی کم ازکم خود تحریک انصاف سے وابستہ نوجوان ہی اطمینان کا اظہار کرسکتے ۔اگر صوبے کے نوجوانوں اور بالخصوص تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کی ایک قدر مشترک ضرورت کا جائزہ لیں تو بلا شبہ وہ روز گار ہی ہوگا گوکہ صوبے میں سرکاری آسامیوں کا اتوار بازار اب نہیں لگتا لیکن یہ دعویٰ بھی درست نہ ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں خالصتاً میرٹ اہلیت و استعداد کے مطابق ملازمتوں کی فراہمی جاری ہے۔ اگرچہ صوبے میں شفاف طریقہ کار اختیار کرنے کے دعوے پر این ٹی ایس کا نظام وضع کرایاگیا اور بظاہر ایک شفاف طریقہ کار کے تحت اہل امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی جاتی ہے لیکن یہ نظام ابتداء ہی سے امیدواروں کے لئے شکوک و شبہات کا باعث بنا۔ رفتہ رفتہ اس نظام پر انگشت نمائی ہوتی رہی۔ بعض امیدواروں کو البتہ این ٹی ایس سے ریلیف اس صورت میں ضرور ملا کہ این ٹی ایس پاس کرنے کے باوجود جب ان کی مطلوبہ آسامی پر تقرری نہ ہوئی تو انہوں نے عدالت سے انصاف ضرور حاصل کیا۔ این ٹی ایس میں شامل امیدواروں کی اکثریت اب اسے بھی غیر شفاف اور درد سر کے علاوہ بے روز گار نوجوانوں کی جیب پر ڈاکہ نہیں تو بھاری بوجھ ضرور تصور کرنے لگی ہے۔ اگر صوبائی حکومت اس نظام کو شفاف رکھنے اور اس کے مطابق خالی آسامیوں پر تقرری کو اب بھی یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے تو اس نظام کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ امیدوار اس نظام کے مخالف نہیں اس کی آڑ میں ہونے والی نا انصافیوں سے نالاں ہیں۔ ہمارے تئیں صوبائی حکومت کو نوجوانوں کو مطمئن کرنے کے لئے اس کے حوالے سے شکایات کا جائزہ لینے اور ان کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ قطع نظر غم روز گار کے اس اہم مسئلے کے صوبائی حکومت کی جانب سے جس جامع یوتھ پالیسی کا اعلان کیاگیا ہے عملدرآمد کی شرط پر یہ ایک موزوں پالیسی ہے جس کے نکات پر عمل درآمد سے صوبے کے نوجوانوں کو مختلف النوع سہولیات دستیاب ہوں گی۔یوتھ پالیسی کے بنیادی طور پر تین ستون اقتصادی ، سماجی اور سیاسی اختیارات کے ذریعے نوجوان کی ترقی ہیں ،یوتھ پالیسی کے دیگر مقاصد میں رسمی تعلیم کی جانب نوجوانوں کو متوجہ کرنا، ان کی پسند (پروفیشنل تعلیم) کیلئے سہولیات کی فراہمی، سکل ڈویلپمنٹ (پروفیشنل، ٹیکینکل اینڈ ووکیشنل، جنرل اور نفسیاتی ، زندگی کی مہارت) ، نوجوانوں کے حقوق، کمیونٹی کی مشغولیت و ترقی ، تعلیم کیلئے آرام دہ اور پرسکون ماحول کی فراہمی، کیرئیر کونسلنگ ، پیشہ ورانہ مہارت ، ہنر(مواصلات، قیادت اور مینجمنٹ )، تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت میں مختلف ٹریڈز اینڈ ٹیکنالوجی میں تربیت ، نفسیاتی ، نوجوانوں کے حقوق جس میں (صحت ، فیصلہ سازی، سیاسی وشہری شرکت ، پسماندہ و اقلیتی نوجوان) ، یوتھ سرگرمیاں، رضاکاری قیام امن، مرکزی تنظیم بنانے میں پسماندہ و اقلیتوں کے نوجوانوں کی شمولیت کی مصروفیت میں اہم کردار ادا کرنا ، کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت ، انٹرن شپ پروگرام اور ملازمتوں کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کیلئے صوبہ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ میں32 یوتھ مراکز بنائے جا ئیں گے جبکہ ڈسٹرکٹ یوتھ آفس نوجوانوں کیلئے مختلف نصابی ، غیر نصابی سرگرمیوں سمیت ایڈونچر ٹورازم ، میگا چیلنج ، ادبی پروگرام، تجارتی مرکز اور مختلف صوبوں کے چیمبر دفاتر کے دورے اور ملاقاتیں، یوتھ ایکسچینج پروگرام، انٹراپراونشل پروگرام سمیت15مختلف سرگرمیاں منعقد کریگا جو نوجوانوں کیلئے روزگار حاصل کرنے سمیت مستقبل میں کافی مددگار ثابت ہوں گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے جو یوتھ پالیسی تشکیل دی ہے اور جن اقدامات کا تفصیلی ذکر پالیسی کا حصہ ہیں وہ ہرلحاظ سے جامع پالیسی ہے جس پر عملدرآمد احسن ہوگا۔ اس پالیسی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ اگر دیکھا جائے بلکہ تجربات اور شواہد کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو دیگر تمام معاملات کی طرح اس پالیسی پر بھی عملدرآمد کسی بڑے امتحان سے کم نظر نہیںآتا۔حکومت کی نیت پر شبہ کئے بغیر اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ اصل کامیابی عملدرآمد کا ہے جس پر حکومت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے ۔اس حوالے سے کم از کم اتنا تو وثوق سے کہا جاسکتاہے کہ اس پالیسی کے تمام نکات پر عملدرآمد کسی بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔ ہمارے تئیں بعض نکات تو ایسے بھی ہیں جن پر ابتدائی پیشرفت بھی ممکن نہیں۔ صوبائی حکومت کو ان اندازوں کو غلط ثابت کرنا ہوگا اور اپنی پالیسی پر عملدرآمد اور پیشرفت کرکے دکھانا ہوگا کہ صوبے کی حکومت نوجوانوں کو کاروبار و روزگار سمیت ہر قسم کی سہولتوں کی فراہمی اور ان کے مسائل کے حل میں حتیٰ الوسع کوشاں ہے۔

اداریہ