مئو ثر احتساب کے لئے مئو ثر قانون سازی کی جائے

مئو ثر احتساب کے لئے مئو ثر قانون سازی کی جائے

قومی اسمبلی میں معقول اکثریت رکھنے کے باوجود حکومت کی کمیشن آف انکوائری بل کو منظور کرانے میں ناکامی کی کوئی دوسری وجہ شاید ہی ہو سوائے اس کے کہ خود حکومت کو اپنی ہی تیار کردہ کمیشن آف انکوائری بل کو منظور کرانے سے دلچسپی نہ تھی۔ سینٹ پہلے ہی اس بل کو مسترد کر چکی ہے ۔ کمیشن آف انکوائری بل کی حزب اختلاف کی کوئی جماعت حمایت نہیں کرتی ان کی دانست میں یہ بل اس لئے بھی ناقابل قبول ہے کہ اس کے ذریعے حکمران خاندان کو تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔حزب اختلاف نے یہ بھی مناسب نہ سمجھا کہ بل کو اپنی ترامیم اور تجاویز کے ساتھ پاس کرنے پر زور دیتی اور اس کی ہیئت میں ایسی تبدیلی لائی جاتی جس کے نتیجے میں یہ بل قومی دولت لوٹنے والوں کے کڑے احتساب کا ایک ذریعہ بنتی ۔ اس طرح کی صورتحال میں عوام میں اس سوچ کا اجاگرہونا کہ سیاسی عناصر خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف ہوں ایک دوسرے کو موقع اور تحفظ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ان کا عوام کے مسائل کے حل اور قومی وسائل کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں ۔ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس تاثر کی نفی کے لئے سنجید گی کے ساتھ معروف ماہرین قانون کی مشاورت سے ایک ایسے بل کاڈرافٹ تیار کر کے مشترکہ طور پر دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کی ضرورت ہے جو جامع ہو اور مختصر المدت وطویل المدت احتساب کے تقاضو ں پر پورا اترتا ہو اور ایسے ٹرم آف ریفرنس کی ضرورت پوری کرتا ہو جس کے ذریعے عدالت عظمیٰ کو بد عنوان عناصر کا احتساب کرنے میں آسانی ہو اور ملک سے آئندہ کے لئے بد عنوانی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو۔ ملک میں سنجیدہ احتساب ہی ماضی کی بد عنوانیوں کا حساب اور آئندہ کے لئے بد عنوانی کی روک تھام کی ضمانت بن سکتا ہے ۔
ہاکر کے قتل کے محرکات کا سراغ لگانے میں پولیس کی ناکامی
پشاور کے علاقہ ہزار خوانی میں جواںسال اخبار فروش کے قاتلوں کا چھٹے روز بھی سراغ لگانے میں ناکامی پولیس کی ناقص تفتیش اور عدم دلچسپی کا ثبوت ہے ۔ پولیس بجائے اس کے کہ واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے اصل حقائق سامنے لائے اس واقعے کو تنازعہ کا شاخسانہ قرار دے کر بری الذمہ ہونے کے لئے کو شاں ہے ۔اگر اس واقعے کے حوالے سے پولیس کا اندازہ درست ہے تو بھی پولیس ملزمان تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہے حالانکہ پولیس کے پاس اتنے قانونی وغیر قانونی حربے ہوتے ہیں کہ اگر چاہے تو ان کو بروئے کار لا کر ملزم کو پکڑ نے میں پیشرفت کر سکتی ہے ۔جب تک پولیس کے دعوے کے حقائق سامنے نہیں آتے معروضی طور پر یہ موبائل اور موٹرسائیکل چھیننے کا معمول کا ایک واقعہ ہے ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی یکہ توت کے علاقے میں خونی رہزنی اور ڈکیتی کی وارداتیں رونما ہوچکی ہیں۔ غیر معمولی وارداتوں نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیاہے جبکہ بھتہ دینے سے انکار پر دھمکی آمیز کالز نے کاروباری طبقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں ایک غریب اخبار فروش کا قتل پولیس کے لئے شاید کوئی بڑی بات نہ ہو مگر ان کے لواحقین ان کے ساتھیوں اور اخبار ی کا رکنوں کے لئے یہ نہایت رنج دہ اور ناقابل برداشت واقعہ ہے جس پر پوری اخبار برادری میں شدید غم و غصہ پایا جانا فطری امر ہے ۔ آئی جی خیبر پختونخوا اور پولیس کے سینئر افسران کو اس کیس کی تفتیش کا سنجید گی سے نوٹس لینا چاہیئے اور قاتلوں کی گرفتاری اور حقیقی صورتحال کو سامنے لانے میں تاخیر پر متعلقہ تھانے سے جواب طلبی کرلینی چاہیئے ۔ پولیس اخباری برادری اور میڈیا کو اس امر پر مجبور نہ کرے کہ وہ ان کے خلاف سڑکوں پر آئے ۔
ملازمین رجسٹریشن میں تاخیر نہ کی جائے
بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو حقوق دلانے کے لئے ملازمین کی انجمن کی جانب سے ای او بی آئی اور سوشل سیکورٹی کے اداروں میں ملازمین کی رجسٹریشن کا مطالبہ فوری توجہ کا حامل ہے ۔ جن داروں کے ملازمین محکمہ پینشن کے حقدار نہیں ان اداروں میں ای او بی آئی اور سوشل سیکورٹی میں رجسٹریشن ہی ملازمین کے لئے اشک بلبل کی حد تک ہی سہی امید و سہولت کا باعث ضرورہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ نیم سرکاری و نجی شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کی سوشل سیکورٹی میں اندراج اور ماہانہ بنیادوں پر ان کے اداروں سے باقاعدہ فیس کی وصولی اور ملازمین کو کارڈوں کا اجراء یقینی بنائے ۔ بد قسمتی سے اس ضمن میں شعور کی کمی ، لاپرواہی غفلت اور قانون سے احترازجیسے امور عام مشاہد ے کی بات ہے اٹھارہویں ترمیم کے بعد تو ای او بی آئی جس طرح وفاق اور صوبوں کے درمیان معلق ہو کر رہ گیا ہے ۔ حکومت کو ملازمین کے تحفظ میں تاخیر کا مظاہر ہ نہیں کرنا چاہیئے ۔

اداریہ