Daily Mashriq


فولادی اور کانچ کی جمہوریت

فولادی اور کانچ کی جمہوریت

بھارت میں ایک ہزار اور پانچ سو کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کا وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک فیصلہ ان دنوں عوامی اور سیاسی اُبال اور شدید نزع کی بنیاد بن کر رہ گیا ہے ۔ نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعدمیڈیا میں زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا ہے ۔وہ اپنے ماضی کے باعث جس میڈیا سے بھاگتے تھے اب انہیں اسی میڈیا کا سامنا کرنے میں مزہ آنے لگا ہے۔ملک میں کرپشن روکنے کے نام پر پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو ضبط کرنے کا فیصلہ بھی میڈیا میں زندہ رہنے اور عوامی جذبات سے کھیلنے کا ایک اندازتھا ۔اس فیصلے کے بعد نوٹ تبدیل کرنے کے خواہش مند لوگوں کی بینکوں کے آگے قطاریں لگنا شروع ہوگئیں۔پارلیمانی اپوزیشن جماعتوں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج کا راستہ اپنارکھا ہے ۔نریندر مودی اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں کہ یہ قدم کرپشن روکنے کی خاطر اُٹھایا گیا ہے مگر حزب اختلاف عوامی نفرت کی اس لہر پر سوار ہو رہی ہے اور مودی حکومت سے اپنا فیصلہ تبدیل کروانے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کر رہی ہے۔کئی علاقوں میں مشتعل عوام ٹرینیں روک رہے ہیں شٹر ڈائون ہڑتالیں ہو رہی ہیں ۔پاکستان کے تناظر میں سب سے دلچسپ بات یہ کہ مغربی بنگال کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی نے خود ایک مظاہرے کی قیادت کی اور ''جیئں گے یا مریں گے مودی کو ہٹائیں گے '' کا نعرہ بلند کیا۔پارلیمنٹ میں کرنسی بحران پر اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحد ہو گئی ہیں اور وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں بلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔نریندرمودی کا اب تک صرف اتنا ہی تبصرہ سامنے آیا ہے حزب اختلاف عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔بھارت میں میڈیا سے حکومت تک کسی طرف سے عوام کے اس احتجاج اور عوامی جذبات کے بارود کو دیا سلائی دکھانے والی پارلیمانی حزب اختلاف پر سسٹم کے خلاف سازشیں کرنے اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا الزام سامنے نہیں آیا ۔حد تو یہ ایک بڑی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی مرکزی حکومت کے خلاف خود سڑکوں پر نکل آئی ہیں مگر کسی نے اسے بھارت کی ریاست اور نظام کے خلاف بغاوت قرار نہیں دیا ۔کوئی یہ نہیں کہہ رہا حزب اختلاف ملک میں ایمر جنسی لگوانے یا فوجی مداخلت کی راہ ہموار کرتی ہے ۔یوں لگتا ہے کہ بھارت میں کوئی آہنی اور فولادی جمہوریت قائم ہے اس کے برعکس پاکستان میں کوئی چھوئی موئی اور کانچ کی جمہوریت ہے ۔جہاں سیاسی جماعتیں کسی عوامی مسئلے پر سڑکوں پر نکلیں تو حکومت اور دانشوروں کا ایک طبقہ ''پس پردہ'' محرکات کی تلاش میں سرگرداں ہوجاتا ہے ۔ہر اضطراب اور بے چینی کی جڑ حکومت کی بے تدبیری اور غلط فیصلے کی بجائے جی ایچ کیو میں تلاش کیا جاتی ہے ۔حد تو یہ کہ اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھتی ہیںپارلیمان سے باہر بیٹھا کوئی گروہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی خواہش تو پال سکتا ہے پارلیمان کے اندر اور جمہوری سسٹم پر یقین رکھنے والا کوئی گروہ ایسا کرکے اپنے پیروں پر کلہاڑی کیونکر مار سکتا ہے ؟ممتا بینر جی کا احتجاج دیکھ کر گزشتہ دنوںخیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا احتجاج یاد آرہا ہے کہ جس کو حکومت اور میڈیانے دنیا میں جمہوریت کا انوکھا واقعہ بنا کر پیش کیا ۔فیڈریشن کے یونٹس کو مرکز کے کسی سیاسی فیصلے سے اختلاف ہو سکتا ہے اور وہ اس کے لئے شہباز شریف کی طرح پنکھا اُٹھا کر بھی دھرنا دے سکتا ہے اور پرویز خٹک اور ممتا بینر کی طرح سڑکوں پر بھی نکل سکتا ہے ۔حقیقت میںپاکستان میں میثاق جمہوریت کے بعد سسٹم اور جمہوریت کوچھوئی موئی بنادیا گیا ہے۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ فوج ایک اصول کے تحت اب سیاسی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے کام سے دور رہنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اب جمہوریت اور پارلیمنٹ کو متحرک اور ثمر آور کردار ادا کرنا ہے تاکہ کسی دوسری طاقت کو خلاء پر کرنے کا موقع نہ ملے۔بھارت میں پارلیمنٹ سے سڑکوں تک جمہوریت کے خلاف جمہوریت کا احتجاج چل ہی رہا تھا کہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا ایک دلچسپ بیان سامنے آیا ۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوتے توسسٹم ختم ہوجاتا۔قائد حزب اختلاف کے اس بیان سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں حکومت چلانے اور سسٹم کو رواں اور متحرک رکھنے کے دو ہی راستے رینگتی گھسٹتی سویلین حکومت یا پھر فوجی حکمرانی۔ گویا کہ ان دو آپشنزکے درمیان ایک ڈیلیور کرتے ،اپنی اخلاقی ساکھ کے ذریعے سپیس بڑھاتے ہوئے اور متحرک وشفاف سویلین اور سیاسی سسٹم کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہی ۔ بے سُدھ اور غیرفعال حکومتی سسٹم کو متحرک اور فعال بنانافوج اور فوجی ایجنسیوں کی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے اور پارلیمنٹ دو پہیوں حکومت اور حزب اختلاف کانام ہے ان میں ایک پہیہ اپنا کام چھوڑ دے تو جمہوریت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی ۔فعال پارلیمنٹ کے لئے ایک فعال او ر دیانت دار حزب اختلاف کا وجود لازمی ہوتا ہے ۔حزب اختلاف اپنا کام چھوڑ دے تو جمہوریت اور سسٹم کی گاڑی کا ایک ٹائر پنکچر ہوتا ہے ۔جمہوریت اور الیکشن کا مطلب کسی جماعت کو سیاہ و سفید کا اختیار دینا نہیں ہوتا نہ اس کا مطلب یہ کہ پانچ سال تک حکومت جو چاہے کرتی پھرے اور نہ ہی اس دوران اپوزیشن کا کام محض بحث و مباحثہ یا گلے سڑھے سسٹم کو کندھے پر اُٹھائے رکھنا ہے ۔جمہوری نظام بیک وقت حکومت اور احتساب کا کام نہ کرتا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ نظام اپنا کام نہیںکر رہا اور نظام کو دوبارہ کام پر لگانے کے لئے کسی طاقت کا سڑکوں پر آنا قطعی جمہوریت کی مخالفت اور سسٹم کی بساط لپیٹنا نہیں ہوتا۔یوں نہ بھارت کی جمہوریت آہنی ہے اور نہ پاکستان کی جمہوریت کانچ کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہی وہاں جمہوریت اپنا کام کررہی ہے اور یہاں جمہوریت کا ایک ٹائر میثاق جمہوریت کے باعث پنکچر ہو چکا ہے ۔

متعلقہ خبریں