Daily Mashriq


آواز سے آہنگ تک

آواز سے آہنگ تک

ریڈیو سے ہمارا ایک نہایت ہی دیرینہ تعلق ہے ۔ جسے ہم بجا طور پر نصف صدی کا قصہ کہہ سکتے ہیں ۔ آج کی تحریر میں ہم ریڈیوپاکستان کے ماہانہ مجلے آہنگ پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن پہلے ریڈیو کے بارے کچھ پرانی باتوں کا ذکر بھی ضروری ہے تاکہ آہنگ پر ہمارے تبصرے کی اہمیت کا پتہ لگ سکے اور یہ کہ ہم کہا ںتک اس پر بات کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی کار کردگی آج کل کیا ہے لوگ ریڈیواب بھی سنتے ہیں یا نہیں اور ریڈ یو جو کسی زمانے میں اپنی مقبولیت کی انتہا پر تھا اب عوام میں اُسکی پسندیدگی کا کیا معیارہے ۔ آپ یقین کرینگے کہ پرانے وقتوں میں ریڈیو ڈرامے کی لوگ بڑی شد ت سے منتظر رہتے تھے ۔یہاں سے نشر ہونے والے موسیقی کے پروگرام بڑے مقبول تھے اور عمومی پروگراموں کی بھی بڑی اہمیت تھی ''درد ۔۔خبرے اترے'' پشاور ریڈیو سے کم و پیش 40برس تک نشر ہوتا رہا۔ اسی طرح پشتو میں پانچ منٹ کا پروگرام دحق آواز د بیدارئی اعلان کی افغانستان میں سننے پر پا بندی لگا دی گئی تھی ۔ ابھی ہم سکول میں پڑھتے تھے کہ ریڈیو سے ڈرامے سنتے ہوئے اس صنف میںطبع آ زمائی کا خیال آیا۔ لکھ کر ایک ڈرامہ ریڈیو کے لئے روانہ کیا۔ اتفاق سے وہ نشر بھی ہوگیا اس کے بعد لکھتے ہی رہے ۔ بے شمار ڈرامے ، فیچرز اور گیت بھری کہانیاں جسے پختومیں سندریزی قیصئی کہتے ہیں لکھ ڈالے ، ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ڈراموں میں گل افضل خان ، سید ممتاز علی شاہ ،سید سردار بادشاہ ، عبدالجلیل اور رحیم شاہ نسیم جیسے اپنے وقت کے بہترین اداکاروں نے حصہ لیا ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ تم آج کل کیوں نہیں لکھتے ریڈیو اور ٹیلی وژن سے کنارہ کشی کے بارے میں یہی جواب ہوتا ہے ۔ وہ ساقی نہ رہے وہ جام ہی ٹوٹ گیا ہے ، جس کے نتیجے میں ان اداروں کے اندر ہماری شناخت ختم ہوچکی ہے ۔ اب ہم ان اداروں میں جا کر اس عمر میں اپنا تعارف کرنے سے تو رہے کہ وہ نام پوچھیں اور ہم جواب دیں ۔کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا 

ریڈیو سے متذکرہ 52سا ل کی طویل وابستگی کی بنیاد پر اس ادارے کے ماہانہ مجلے آہنگ پر ہمارا تبصرہ ،کچھ زیادہ نا مناسب نہیں لگے گا ، بتا تے چلے کہ آہنگ کسی زمانے میں'' آواز ''کے نام سے شائع ہوتا تھا ، محشر بدایونی اور غلام عباس جیسے نامور قلمکار اس کے مدیر ہوا کرتے تھے ۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ کے سر براہ بلحاظ عہدہ آہنگ کے نگران ہوتے ہیں ان کے علاوہ نگران مجلس ادارت ، اور کچھ ان کے معاونین آہنگ کی ترتیب و تدوین میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں یاد رہے کہ آہنگ 1948سے مسلسل اور بڑی باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے ۔ آہنگ میں شامل تحریروں کی فراہمی کے لئے پاکستان کے طول و عرض میں قائم ریڈیو سٹیشنوں سے وابستہ کارکن نمائندوں کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ ان نمائندگان میں پشاور ریڈیو کی جانب سے کوئی بھی شامل نہیں حالانکہ یہ پاکستان کی قدیم ترین نشر گا ہ ہے ۔ 1936میں اس کا قیام عمل میں آیا ، اور پاکستان کے تمام موجود ہ براڈ کاسٹنگ ہائوسز کے مقابلے میں سب سے پہلے یہاں سے آل انڈیا ریڈیوکی نشریات کا آغاز ہوا بلاشبہ آہنگ کی موجودہ اشاعتیں گٹ اپ کے اعتبار سے کافی دلکش ہو چکی ہیں لیکن مجلے میں اشاعت پذیر مواد کی ترتیب و تدوین میں وہ تازگی اور نئے دور کے تقاضوں سے وہ ہم آہنگی نظر نہیں آتی جو ملک کے اہم نشریاتی ادارے کے آرگن کا تقاضا ہے ۔ اور خبر سے قارئین کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے ۔ بالعموم آہنگ میں نصابی قسم کی تحریر یں اشاعت پذیر ہوتی ہیں ۔ آہنگ کے زیر نظر شمار ے (نومبر 2016) میں علامہ اقبال 139ویں یوم پیدائش کی مناسبت سے جو خصو صی گوشہ کے تحت کچھ تحریر یں شامل ہیں جن میں اُن کی نظم شکوہ کے کچھ بند اور اسکے ساتھ جواب شکوہ کا کچھ حصہ ہے ۔ ہمیں علامہ کی منظومات کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں رہا لیکن آہنگ میں اُن کی اشاعت خانہ پری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں اگر اس موقع پر اُن کے افکار کی توضیح و تشریح کے ضمن میں نئے دور کے تقا ضوں کے مطابق کچھ نئی تحریر یںشائع کی جائیں تو زیادہ مناسب ہوتا ۔ علاوہ ازیں اس مخصوص گوشے میں خطبات اقبال' اقبال کی اقبالیات اور نذ اقبال جیسے روایتی موضوعات پر مبنی تحریریں بھی شامل ہیں جنہیں کلیشے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح اسی شمارے میں علامہ شبلی نعمانی' ظفر علی خان اور فیض احمد فیض کے بارے میں مضامین کا مواد بھی اس سے پہلے بے شمار کتابوں اور مجلوں میں موجود ہونے کی وجہ سے ان شخصیات کے حوالے سے قطعاً نئی معلومات فراہم نہیں کرتا۔ اسی طرح عالمی ایام کے غیر موزوں عنوان کے تحت یوم شہداء کشمیر اور فلسطین کی یکجہتی کا دن کے ساتھ ذیابیطس کیا ہے اور ملیریا کی بیماری پر معلومات کی فراہمی کو آہنگ میں شامل کرنے کی منطق ہماری سمجھ سے بعید ہے۔ یہ مضامین آہنگ کے مزاج سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ اسی طرح مایہ ناز نغمہ نگار اور شاعر تنویر نقوی کے عنوان سے شامل اشاعت تحریر کے ساتھ مشہور ہندوستانی فلم ڈائریکٹر محبوب خان کی تصویر لگا دی گئی ہے جس سے آہنگ کے مرتبین کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محشر بدایونی اور غلام عباس جیسے لوگوں کی ادارت میں آہنگ کی اشاعتوں کا جو معیار قائم ہوا تھا اگر آج بھی اس مجلے کی اشاعتوں میں وہی روایت پیش نظر رکھی جائے تو تزئین و آرائش اور گٹ اپ کے اعتبار سے اس بلند آہنگ مجلے کا ادبی معیار بھی قائم بھی ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں