نئے آرمی چیف سے وابستہ امیدیں

نئے آرمی چیف سے وابستہ امیدیں

جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا کی بہترین آرمی کا چیف آف آرمی سٹاف کا کمانڈ سنبھال دیا ہے ، یوںنواز شریف پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں تیسری بارآرمی چیف کے انتخاب کا اعزاز حاصل ہے ،آرمی چیف کی تقرری کے بعد بہت سی قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔گو جنرل راحیل شریف کو توسیع سے متعلق طرح طرح کے مفروضے زیر گردش تھے لیکن انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے چندماہ قبل جو بیان دیا تھا آخری وقت تک اس پر قائم رہ کر یہ پیغام دیا کہ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ادارے مضبوط ہوں ۔جنرل راحیل شریف نے اپنے تین سالہ دور میں ملک کو پرامن بنانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان سمیت متعدد پراجیکٹس کا آغاز کیا جنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی بھاری ذمہ داری ان کے جا نشین کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ توجہ حاصل کرنے یا خبروں میں رہنے کے شوقین نہیںہیں بلکہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ایک پیشہ ور اور غیر سیاسی سمجھے جانے والے نئے فوجی سربراہ کے لیے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد بہت سے چیلنجز منہ کھولے کھڑے ہیں۔ انہیں اپنے پیش رو جنرل سے جو ورثہ ملا ہے وہ سیاسی جماعتوں کے نزدیک کافی ''سیاسی''ہے۔ نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے اس محاذ کاسب سے خطرناک چیلنج ہی یہ ہوگا کہ کرپشن اور دہشت گردی کے درمیان جو ربط (لنک)جنرل راحیل شریف کے عہد میں قائم کرکے اس پر ایک فوجی پوزیشن لی گئی ، وہ اس حوالے سے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔ اس معاملے میں ان کے کسی بھی قدم کااثر براہ راست ایک دوسرے اور درحقیقت پہلے سے بھی بڑے چیلنج یعنی سول ملٹری تعلقات پر پڑے گا۔ ایک طویل عرصے سے سول ملٹری تعلقات میں کافی ابتری پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کو ایک ایسے سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو فوجی کردار کو سیاسی اور سول سرحدوں پر نہ صرف ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں بلکہ اس کردار کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا بہرصورت نئے فوجی سربراہ کو کرنا پڑے گا۔ اس ضمن میں ''ڈان لیکس'' کی خبر کے حوالے سے ان کا موقف بھی ان کے کردار کا بنیادی طور پر تعین کردے گا۔ اگر نئے فوجی سربراہ اس حوالے سے خاموشی اختیار کرتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ وہ سول ملٹری تعلقات میں ''خوشگوار''تال میل کے خواہاں ہیں۔نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت میں ہی رہے گا۔ مگر اس حوالے سے ان کی حکمت عملی سے اندازہ ہوسکے گا کہ وہ اس جنگ کو ایک ورثے کے طور پر اختیار کرتے ہیں یا ایک نئے وژن سے اپناتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب کے نام سے جو جنگ اختیار کی تھی وہ جنرل کیانی کے دور کی حکمت عملی کو اختیار کرنے کے بجائے اس سے کچھ آگے بڑھ کر ان کے اپنے وژن کے ساتھ نئی شکل اختیار کرگئی تھی۔ نئے فوجی سربراہ کے لیے یہ ایک امتحان ہو گا کہ وہ در پیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کیا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کے حوالے سے بھی جاری فوجی آپریشن کی نوعیت بھی اس تبدیلی کو سمجھنے میں ایک کردار ادا کرے گی۔ گزشتہ کئی مہینوں سے بعض فوجی اقدامات کے حوالے سے یہ تاثر اجاگر کیا جاتا رہا ہے کہ اب فوج کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات دراصل کوئی شخصی نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی تائید کے ساتھ اٹھائے جارہے ہیں جو ہمیشہ جاری رہیں گے۔ کراچی کے علاوہ دہشت گردی اور کرپشن کے ربط پر اٹھائے جانے والے اقدامات اس امر کا تعین کریں گے کہ دراصل فوج میں آنے والی تبدیلی کے عملی معنی کیا ہوتے ہیں۔اور یہ تبدیلی کسی بھی طرح سے فوجی پالیسوں میں بھی تبدیلیاں لانے پر منتج ہوتی ہے یا نہیں؟پاک فوج کے نئے سربراہ کو افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے بھی سخت ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔ جنرل راحیل شریف عملاً افغانستان کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ اس ضمن میں سیاسی اور عسکری روابط کاوہ باریک فرق باقی نہیں رہا تھا جس کاعام طور پر کبھی خیال کیا جاتا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے فوجی سربراہ اس کردار کو اسی طرح جاری رکھتے ہیں یا اس کردار میں سیاسی اور عسکری سطح کی کسی تقسیم پر رضامند ہو پاتے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح کشمیر کے حوالے سے پاک فوج کی پالیسی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں تعینات رہے ہیں اور فوج کی دسویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں۔جو لائن آف کنٹرول کی ذمہ داری بھی سنبھالتی ہے۔ مگر نئے فوجی سربراہ نے اپنے دشمن ملک بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بطور بریگیڈ کمانڈر کام کیا ہے۔ جبکہ بھارتی فوجی سربراہ وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔جنرل راحیل شریف کے بہت سے مقبول اقدامات کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے نتائج کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔ اور نہ ہی وہ اقدامات ابھی اختتام کو پہنچے ہیں۔ اس لیے نئے فوجی سربراہ کا ان اقدامات کے ساتھ عملی رویہ ان کے مستقبل کے مقام کا تعین کرے گا۔

اداریہ