آنے والے دن

آنے والے دن

نئے آرمی چیف کی آمد کے بعدبہت سی باتیں کلیئر ہوگئی ہیں بہرحال میاں نوازشریف کے لیے یہ فیصلہ ضرور بہت اہم رہا ہوگا کہ ایک ایسا آرمی چیف لایا جائے کہ جو حکو مت کے ساتھ چل بھی سکے اور ملک کو درپیش موجودہ چیلنجوں کامقابلہ بھی کرسکے ۔سی پیک کی تکمیل تک تو بہرحال پاک فوج ہی نے حالات کو کنٹرول میں رکھنا ہے ۔راہداری کا یہ منصوبہ کوئی چھوٹا موٹا منصوبہ تو ہے نہیں بلکہ ایک اس کا اثرورسوخ پورے پاکستان پر محیط ہے اس لیے اس کی حفاظت اور بقاء کے لیے جنگی بنیادوں پر ہی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ادھر مودی سرکار پاک انڈیا بارڈر سے تناؤ بڑھاچکی ہے ، اور اس پر انڈیا کو افغانستان سے بھی پاکستان پر چرکے لگانے کی افغان حکومت کی جانب سے کھلی چھٹی مل چکی ہے ۔انڈیا کا ایسے وقت میں تناؤبڑھانا بڑی عام سی بات ہے اور جسے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انڈیا اس منصوبے سے قطعی خوش نہیں ہے اور اسے ختم کرنے کی اپنی سی کوشش میں مصروف ہے ۔جب بھی دنیا میں بڑے منصوبے بنتے ہیںانہیں روکنے کی اپنی سی کو شش کی جاتی ہے ۔خاص طور پر ایسے منصوبے کہ جو گیم چینجر ہوں تو اس میں ایک سے زیادہ قوتیں شامل ہوکر اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہیںجیسا کہ سی پیک کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو اپنے دشمنوں کا بخوبی علم ہے لیکن پاکستان نے اس وقت دفاعی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے اور یہی حکمت عملی وقت کا تقاضا بھی ہے ۔پاکستان نے اپنی توانائیاں اس منصوبے کے تحفظ اور اس کی تکمیل پر مرکوز کررکھی ہیں ۔امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا بھی بہت ضروری ہے اور اس میں بہتری کی صورت ضرور آئی ہے ۔ پاکستان کے اپنے اہداف ہیں جو اس نے حاصل کرنے ہیں ۔یہ بھی طے ہے ایک دفعہ سی پیک کا پہیہ چل پڑے تو پھر یہ سب بیرونی بدمعاشیاں خود ہی خاموش ہوکر ختم ہوجائیں گی ۔یہ بات پاکستان کے لیے بہرحال خوشگوار ہے کہ تمام قومی قوتیں سی پیک کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں ۔ سی پیک کے بعد پاکستان کا منظرنامہ کیا بنتا ہے وہ بھی ابھی معلوم نہیں کیونکہ اگر پاکستان میں کرپشن کی یہی صورتحال رہی تو سی پیک کے فوائد کم ہی عوام کو پہنچ سکیں گے ۔جہاں تک اس سی پیک کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایران ، روس اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں نے اس منصوبے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔گویا اس منصوبے کے آغاز سے قبل ہی بہت سے کلائنٹس کو اپنی جانب راغب کرلیا ہے ۔ ایران کہ جو خود بھارت کے ساتھ چاہ بہار پورٹ کے منصوبے پر کام کررہا ہے لیکن اسے بھی علم ہے کہ گوادر کی اہمیت آنے والے دنوں میں کیا ہوگی ۔ اگرچہ بھارت نے اپنی حیثیت سے زیادہ آگے جاکر اس چاہ بہار منصوبے پر انویسٹمنٹ کی ہے لیکن اس جوئے کی جوبھی قیمت اسے چکانی پڑے گی وہ چکائے گا کیونکہ بھارت کسی صورت گوادر کی تکمیل برداشت نہیں کرسکتا ۔بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اکانومی ہی اس کے مکروہ چہرے پر ماسک کا کام کرتی ہے اور دنیا بہت کچھ جاننے کے باوجود بھارت کے اندر کی صورتحال پر خاموش رہتی ہے ۔ سی پیک سے بھارت بھی جانتا ہے کہ پاکستان کی اکانومی اچھی ہوگی تو ظاہر ہے کہ دنیا کا جھکاؤ پاکستان کی جانب ہوگا اور پاکستان کی بات سنی جائے گی جو فی الوقت نہیں سنی جارہی ۔اسی بنیاد پر بھارت پچھلے کئی برسوں سے علاقائی بالادستی کا خواب دیکھ رہا ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اس نے امریکہ کے ساتھ دوستی بھی بڑھائی ہے لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اس خطے میں روس اور چین جیسے بڑے اور مستحکم ممالک موجود ہیں جو کسی طور پر بھی بھارت کا یہ خواب پورا نہیں ہونے دیں گے ۔چین شروع سے بھارت کا دوست نہیں رہا اور ان دونوں ممالک کے درمیان تنازعات ابھی اپنی شدت کے ساتھ موجود ہیں ۔ بھارت چین کو سرحدی تنازعات کے حوالے سے گاہے بگاہے چٹکیاں بھی کاٹتا رہتا ہے ۔ دوسری جانب روس جو سپر پاور کی حیثیت سے بھارت پر ماضی میں بہت مہربان تھا لیکن بھارت نے اس دوستی کی قدر نہیں کی اور بڑی آسانی کے ساتھ وہ امریکہ سے دوستی بنانے میں کامیاب ہوگیا ۔روس اگرچہ سپر پاور نہیں لیکن اب بھی ایک بڑی قوت تسلیم کیا جاتا ہے ۔ روس کو امریکہ کی شہ پر یورپی یونین نے کافی ٹف ٹائم دیا ہے ۔ روس بھی نئی پالیسی کے تحت اپنے خطے میں تجارت کا خواہاں ہے ۔ روس کے چین کے ساتھ تعلقات بھی پہلے کی نسبت بہتر ہوئے ہیں ۔ جبکہ پاکستان کے ساتھ حالیہ برسوں میں روس کے تعلقات میں بھی بڑی تیزی کے ساتھ بہتری آئی ہے ۔ اس مقام پر دیکھا جائے تو بھارت جو ببانگ دہل پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھڑک مار رہا تھا خود اپنے خطے ہی میں اپنی پالیسیوں کی بناء پر اکیلا ہوتا جارہا ہے ۔ اوپر سے مودی کی تعصب پر مبنی پالیسیاںبھارت کو اندرونی سطح پر کمزورکررہی ہیں ۔ ایسے میں فرسٹریشن میں بھارت پاکستان کے خلاف کسی ایڈونچر کا سوچ سکتا ہے لیکن پاکستان کی موجودہ عسکری صلاحیت بھارت کو اس سے باز رکھ رہی ہے ۔مودی کہ جس نے پاکستان کی تباہی کے وعدے پرووٹ حاصل کیا ۔اس متعصب ووٹ کی لاج رکھنے کے لیے مودی سرکار ایسے کام کرجاتی ہے کہ جس سے اس کی پاکستان دشمنی کا پول تو کھل جاتا ہے لیکن بھارت کو کچھ حاصل وصول نہیں ہوتا۔نئے آرمی چیف کی آمد جمہوریت کے لیے بھی نیک شگون ہے اور پاکستان کے آنے والے دنوں کے لیے بھی اچھی نوید ہے ۔

اداریہ