Daily Mashriq


شامت اعمال

شامت اعمال

نومبر کا مہینہ باران رحمت کے بغیر ہی گزر گیا دسمبر بس آیا ہی چاہتا ہے اور بارش کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں ۔بارش کی جھڑی لگتی ہے تو لوگ گرم ملبوسات کی خریداری میں سرگرم عمل نظر آتے ہیں لنڈا بازار آباد ہو جاتا ہے کیا امیر کیا غریب سب اپنی اپنی پسند کے مطابق لنڈے سے خریداری کرتے ہیں۔ہم تو یہ سوچ رہے ہیں کہ ان دکانداروں کا کیا ہوگا جنہوں نے سردی کے لیے گرم ملبوسات کا سٹاک کر رکھا ہے ہم نے ایک کوٹ کی خریداری کا ارادہ اس لیے ترک کردیا ہے کہ اب سردی ہی نہیں پڑتی تو کوٹ کس لیے خریدا جائے ۔دسمبر ختم ہوتے ہی سردی کا زور ٹوٹ جایا کرتا تھا اب جبکہ سردی پڑی ہی نہیں تو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ!کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سب نے مل کر باری تعالیٰ کو ناراض کررکھا ہے؟ کہتے ہیں کہ گھر میں لڑائی جھگڑے ہوں تو برتنوں میں سے پانی بھی سوکھ جاتا ہے کچھ اسی قسم کی صورتحال اس وقت وطن عزیز کی ہے اس کے علاوہ ہم نے نافرمانیوں کی انتہا کردی ہے چپڑاسی سے لے کروزیر اعظم تک سب حمام میں ننگے ہیں۔ اگر کوئی سیاستدانوں اور حکمرانوں کے کچے چٹھے بیان کرے تو کس منہ سے؟کیا تاجر کسی سے کم ہیں؟سرکاری افسران مال بنانے میں مصروف ہیںکوئی شعبہ ایسا نہیں جس میںاندھیر نگری نہ مچی ہو !جسے دیکھیے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے سب نے پیسے کو مقصد بنا رکھا ہے تو پھر بارشیں کیسے برسیں؟ کیا یہ علامت کافی نہیں ہے؟ اگر ہم سنبھل جاتے اپنے اعمال و کردار کو بہتر بنالیتے تو اچھے حکمران ہمارا مقدر ہوتے ۔ہم روز یہ رونا روتے ہیں کہ ہمارے یہاں کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوتا ہمیں حکمران اچھے نہیں ملے وطن عزیز میں کوئی مہاتیر محمد پیدا نہیں ہوتالیکن کبھی اپنا محاسبہ نہیں کرتے اپنے کردار کو سنوارنے کی جھوٹی کوشش بھی نہیں کرتے ۔ہمارے حکمران بھی خواب غفلت میں ڈوبے میلہ لوٹ رہے ہیںلیکن کس کو کہہ رہے ہو ؟یہاں توسب ایسے مصروف ہیں جیسے یہ سب کچھ اسی طرح ہمیشہ چلتا رہے گا ۔ مثنوی میں مولانا روم نے حضرت عمر کے انداز حکمرانی کو ایک خوبصورت حکایت کے ذریعے بیان کیا ہے جو ہمارے حکمرانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ حضرت عمر جب خلیفہ تھے ان کی خدمت میں قیصر روم کا ایلچی آیا اور وہ سارے شہر مدینہ میں اونچی عمارت کو تلاش کرتا پھر رہا تھا مگر اسے کوئی ایسی عالیشان عمارت نظر نہیں آرہی تھی جب قیصر روم کے ایلچی کو مدینہ شریف میں کوئی بھی عالیشان محل دکھائی نہ دیا تو لوگوں سے اس نے پوچھا کہ خلیفہ وقت کا محل کہاں ہے؟تو لوگوں سے جواب ملا کہ مسلمانوں کے خلیفہ اور عام غریبوں کے گھر میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گایہ سن کر ایلچی کے دل میں شوق ملاقات اور بڑھ گیا اور وہ ہرطرف تلاش کرنے لگا وہ بڑا حیران تھا کہ اس قدر نامور خلیفہ ہو اور اس کا محل بھی نہ ہو! اور وہ شہر میں عام آدمی کی طرح پوشیدہ رہے بڑی عجیب بات ہے۔ آخر اسے ایک بڑھیا نے کہا کہ حضرت عمر پوشیدہ نہیں ہیں بلکہ ظاہر ہیں وہ دیکھ سامنے کھجور کے درخت کے نیچے تشریف فرما ہیںقاصد ان سے ملنے کے لیے آگے بڑھا اور جیسے ہی خلیفہ کے چہرے پر نظر پڑی تو اس کے قدم لڑ کھڑانے لگے قاصد کے دل پر مسلمانوں کے خلیفہ کا رعب طاری ہوگیا اور حیران ہوکر دل میں سوچنے لگا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ میں نے قیصر و کسریٰ کے عالی شان دربار دیکھے ہیں بہت سی بڑی بڑی جنگوں میں حصہ لیا ہے مگر کبھی مجھ پر خوف طاری نہیں ہوا میرے چہرے کا رنگ نہیں بدلامجھ پر کبھی اس طرح کپکپی طاری نہیں ہوئی یقینا اس شخص میں کوئی خاص خوبی اور صفت ہے؟ مولانا روم یہ حکایت بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ جس دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہو اور حق کے سوا کسی سے نہ ڈرے اس سے سب خوف کھاتے ہیں۔ ہم حق چھوڑ چکے ہیں اس لیے ہم سے آج کوئی بھی نہیں ڈرتا۔انڈیا کی طرف سے روزانہ ہم پر حملے کیے جاتے ہیں مودی ہمارا پانی بند کرنے کی دھمکیا ں دے رہا ہے ہم نے جس سے ڈرنا تھا اس سے نہیں ڈرتے جس کے سامنے سر جھکانا تھا اس کے سامنے نہیں جھکتے تو پھر ذلت ہمارا مقدر بن گئی ہے اب ہمارے سر سب کے سامنے جھک رہے ہیںیہ باتیں اچھی تو نہیں ہیں لیکن اب اس کا کیا علاج کہ آج کی زمینی حقیقت یہی ہے۔ ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے اعمال بد کی وجہ سے ہماری ہوا اکھڑ چکی ہے ڈریے اس وقت سے جب ہماری بربادی یقینی ہوجائے جب تک پھوڑے کا منہ نہ کھولا جائے اس وقت تک اس کے اندر کا گندا مواد باہر نہیں نکلتا جب تک درزی کپڑے کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکڑے نہیں کرے گا اس وقت تک لباس تیار نہیں ہوگا اور جب تک حکیم دوائوں کو کوٹ کوٹ کر باریک پائوڈر نہیں بنادے گااس وقت تک مفید ادویات تیار نہیں ہوسکتیںجب تک بکری کوذبح کرنے کے بعد گوشت کو چیر پھاڑ کر قیمہ نہ بنادیاجائے تو قیمے سے کوفتے اور دیگر لذیذ خوراک تیار نہیں ہو سکتی اور جب تک گندم کو چکی میں ڈال کر نہ پیسو گے اس وقت تک آٹا تیار نہیں ہوگا۔ ابھی تو صرف بارش روک دی گئی ہے نجانے اس کے بعد ہمارے لیے کیسے کیسے فیصلے کیے جائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جب آپ گندم کا بیج بوتے ہیں تو گندم ہی اگتی ہے گلاب کا تخم بونے کے بعد خوشبودار گلاب کی توقع ہی رکھی جاسکتی ہے لیکن کانٹے بونے کے بعد اگر ہم گلاب کی توقع رکھیںگے تو دنیا ہمیں پاگل اور احمق ہی کہہ کر پکارے گی ۔یہ ہماری شامت اعمال ہے اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے۔