مشرقیات

مشرقیات

حلیہ میں ابو عبداللہ نے منت ماننے کا عجیب واقعہ لکھا ہے کہ میں ایک بحری سفر کے لئے کشتی پر سوار تھا کہ اچانک زبردست ہوا چلی اور ہما ری کشتی ڈانو ا ڈول ہوگئی اور اس کے ٹوٹ جانے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ۔ چنانچہ کشتی پر سوار تمام لوگ مایوس ہوگئے اور رب تعالیٰ سے دعائیں کرنے اور نذریں ماننے لگے کہ اگر رب تعالیٰ مصیبت سے نجات دے دے تو ہم فلاں کام کریں گے ۔ چنانچہ لوگوں نے ابو عبداللہ سے بھی اصرار کیا کہ آپ بھی کوئی نذر مانیں ۔ ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو اچانک میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ رب تعالیٰ اگر مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے تو میں ہاتھی کا گوشت نہیں کھاں گا۔ کچھ دیر بعد کشتی ٹوٹ گئی اور تمام لوگ سمندر میں بہہ گئے ۔ مگر مجھے اور میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں پر رب تعالیٰ کی رحمت نازل ہوئی اور لہروں نے ہمیں ایک ساحل پر لا پھینکا ۔ ہم لوگ اس ساحل پر کئی دن تک رہے ، مگر ہمارے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ بھی نہ تھا ۔ اچانک ایک دن کہیں سے ایک ہاتھی کا بچہ ساحل پر آگیا ۔ لوگوں نے اسے پکڑ کر ذبح کر لیا اور سب نے مل کر اس کو کھایا ۔ لیکن میں نے نذر کی وجہ سے اس میںسے گوشت بھی نہ کھایا، حالانکہ مجھے شدید بھوک تھی ۔ میرے ساتھی چونکہ کئی دن سے بھوکے تھے ، لہٰذا انہوںنے شکم سیر ہو کر کھایا ، جس کی وجہ سے ان پر نیند کا غلبہ ہوگیا اور سب گہری نیند سوگئے ۔ میں چونکہ بھوکا تھا ، اس لئے مجھ کونیند نہ آسکی اور میں نقاہت سے ایسے ہی لیٹا رہا ۔ کچھ دیر بعد مجھے ایک ہتھنی نظر آئی ، جو اپنے بچے کے پائوں کے نشانات دیکھتی ہوئی ہم تک پہنچی تھی ۔ چنانچہ اس نے وہاں پہنچتے ہی ہر آدمی کا منہ سونگھا اور سونگھنے کے بعد ہی سب کو اپنے پیروں سے روند کر ہلاک کرتی چلی گئی ۔یہاں تک کہ وہ سب کو ہلاک کرنے کے بعد میرے قریب آئی اور منہ سونگھا ، جب اس کو میرے منہ سے اپنے بچے کی گوشت کی خوشبو نہ آئی تو اس نے مجھ کو اشارہ کیا کہ میں اس کی پیٹھ پر سوار ہو جائوں ۔
چنانچہ میں اس کی پیٹھ پر سوار ہو گیا ۔ ہتھنی مجھے لے کر اس قدر تیزی سے دوڑی کہ میں نے کبھی ہاتھیوں کو اتنا تیز بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔ یہاں تک کہ وہ اس دن اور پھر تمام رات مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھائے دوڑتی رہی حتیٰ کہ صبح ہو گئی اور پھر اس نے مجھے ایک ایسی جگہ پر پیٹھ سے اترنے کا اشارہ کیا ،جہاں پر کچھ لوگ کھیتی باڑی میں مشغول تھے ۔
چنانچہ کچھ لوگوں کی نظرمجھ پر پڑی اور ان میں سے ایک شخص آگے آیا اور مجھ سے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے ان کو تفصیل بتا دی تو وہ کہنے لگے کہ وہ ساحل یہاں سے آٹھ دن کی مسافت پر ہے اور اس ہتھنی نے یہ مسافت آدھے دن اور ایک رات میں قطع کر لی ۔ ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ان لوگوں کے پاس کافی دن رہا ۔یہاں تک کہ وہ ہتھنی پھر دوبارہ حاملہ ہوگئی ۔

اداریہ