Daily Mashriq


اس باب کو اب بند ہونا چاہئے

اس باب کو اب بند ہونا چاہئے

فیض آباد دھرنا جیسے تیسے ختم تو ہوگیا اور لاہور کا سطحی نوعیت کا دھرنا بھی توقع ہے کہ پر امن طور پر اختتام پذیر ہو جائیگا۔ فیض آباد کا دھرنا اور عدالت کے حکم پر انتظامیہ کے قوت نافذہ کے استعمال کے دوران جو صورتحال پیش آئی اور اس دوران مختلف نوعیت کے معاملات اور کردار سامنے آئے ان کا ایک عرصے تک سوالیہ نشان رہنا اور موضوع بحث رہنا فطری امرہوگا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس دھرنے کے خاتمے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے ادارے کے حوالے سے ایسے تاثرات سامنے آرہے ہیں یا جان بوجھ کر پھیلائے جا رہے ہیں جن کی صداقت و عدم صداقت سے قطع نظر اس طرح کے معاملات میں اس ادارے کے کردار کے حوالے سے شکوک و شبہات کااظہار پریشان کن ہے۔ غیر معمولی حالات اوراقدامات میں بعض اوقات قانون سے صرف نظر ہوجاتا ہے لیکن اس کا مطلب قانون شکنی یا آئینی کردار سے انحراف نہیں ہوتا بلکہ وقت کی مجبوری اور مصلحت ہوتی ہے۔ حکومت کو جہاں دھرنے کے خاتمے کی ذمہ داری پوری کرلینی چاہئے تھی از خود بعض معاملات پر اعتراض ہے۔ عدالت سے بھی سوال اٹھایاگیا لیکن جو کچھ کیاگیا اگر ایسا نہ کیاجاتا تو ممکنہ دوسرا طریقہ کار کیا ہوتا۔ اگر خدانخواستہ آگ پھیل جاتی اور ہنگامے پھوٹ پڑتے تو اس کا تدارک کیسے ہوتا۔ بہت سارے معاملات اس لئے بھی مبہم اور جواب طلب ہیں کہ ان پر کھل کر اظہار خیال کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔ ہمارے تئیں اس پریشان کردینے والی صورتحال میں وضاحت اور دفاعی موقف کو سامنے آجانا چاہئے۔ قطع نظر محولہ معاملات کے اس بارے دورائے نہیں کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ بہت حد تک رعایتی سلوک کیاگیا جو اس کے ہر گز مستحق نہ تھے۔ ان عناصر کے ساتھ نرم روی اختیار کرکے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندوں کی پیٹھ تھپتھپا کے پرانے الزام کو تقویت دینے کی غلطی سرزد ہوچکی ہے اور یہ تاثر بھی راسخ ہوگا کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسند اب بھی اتنی قوت کے حامل ہیں کہ وہ حکومت و ریاست پر پوری طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ہمارے کھاتے میں پہلے ہی سے کردہ و ناکردہ اعمال کے کئی باب پہلے ہی لکھے جا چکے ہیں۔ اب ان محررین کو اس میں مزید اضافہ کا با ثبوت مواد ہاتھ آگیا ہے جس کے بعد پاکستان سے ڈومور کے مزید مطالبات سامنے آسکتے ہیں اور حکومت و ریاست کے لئے اس کا دفاع اور اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا مشکل امر ہوگا۔ ہمارے تئیں ان عناصر سے رو رعایت کا فیصلہ اس لئے کرنا پڑا کہ خود ہمارے اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور مشاورت کا فقدان تھا۔ جب ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان ہی اعتماد کی جگہ بد اعتمادی آئے اور لٹھ بردار جتھے اچانک نمودار ہو کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کو پیچھے دھکیل دیں تو حیرانگی کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔ مظاہرین کے پاس ساز و سامان اور مقابلہ بازی کی مہارت پر مبنی قوت کے اظہار کے سامنے پولیس ‘ ایف سی اور رینجرز کی بھاری نفری کی بے بسی و پسپائی انتہا پسندوں کی قوت و طاقت اور بالادستی کا وہ مظہر تھا جس کے بعد اگر انتہا پسندوں کو ریاستی اداروں کے مقابلے میں مضبوط گردانا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس صورتحال میں اغیار کی طرف سے جن مزید خطرات کا اظہار کیا جاتا ہے ان کو باآسانی رد کرنے کی میسر آسانی باقی نہ رہی۔ گو کہ کسی ایک دھرنے سے پیدا شدہ حالات اور اس کو خلاف توقع اور خلاف عادت خاتمے کی مساعی اور اس سے پیدا شدہ حالات کو مجموعی صورتحال پر منضبط کرنا قرین انصاف نہ ہوگا اور نہ ہی اس کو آئندہ کسی صورتحال کا پیش خیمہ گرداننا حقیقت پسندانہ امر ہوگا لیکن جس امر کا ایک مرتبہ ظہور ہو جائے تو امکان کا قد بڑھ جاتا ہے نتیجتاً امکانات و خدشات بڑھنے لگتے ہیں اور ہوتے ہوتے یہ ایک مجموعی فضا اور خوف کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ اس کا تدارک اس وقت ہی ممکن ہوگا جب ملک میں بد اعتمادی اور نا وابستگی کی فضا کی اڑتی دھول پر چھڑکائو ہو۔ کیا اجتماعی قومی مفاد کی خاطر اس امر کی طرف کسی جانب سے توجہ دی جائے گی فی الوقت ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے بلکہ شیشے پر پڑی لکیر دراڑ کی صورت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔ باعث حیرت امر یہ ہے کہ ہذیان گوئی اختیار کرنے والے بعض حساس نوعیت کے اداروں کے کردار و عمل کے بارے میں اس بے احتیاطی سے بیانات دینے لگے ہیں کہ ان کو نادان دوستوں میں سے بھی شمار کرنے کی گنجائش نہیں مستزاد دھرنا دینے والے کون سی قومی خدمت پر مامور تھے کہ ان کو واپسی کا کرایہ بھی ادا کیاگیا۔ عقیدت و عقیدے کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ربیع الاول کی ان مبارک ساعتوں میں جگہ جگہ درود و سلام کی بابرکت محفلیں سجائی جا رہی ہیں، شان رسالتؐ کا بیان ہو رہا ہے نعت گوئی سے دلی عقیدتوں اور جذبات کو زباں دی جا رہی ہے۔ ان محفلوں میں کہیں بھی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جو تضادات تو کجا کسی دل شکنی کا ہی باعث ہو۔ پھر آخر یہ فرق یہ امتیاز اور اس تضاد کو کیا نام دیا جائے کہ ایک طرف امن و آشتی روحانیت اور سکون طمانیت کا باعث امور ہیں تو دوسری طرف برعکس معاملہ۔ عقیدت و عقیدے کا معاملہ بلا شبہ نازک اور حساس ہے مگر اس حساسیت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایسے معاملات جو براہ راست نہ ہوں اور ان کے بالواسطہ ہونے کا بھی امکان کم ہے اورا س سے انکار بھی ہو رہا ہے، وضاحتیں بھی پیش کی گئیں، سہو کا ازالہ بھی ہوچکا باوجود اس کے اس کو وجہ فساد کیوں بنایا گیا اور ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کیا اس ضمن میں علمائے کرام کو خاموشی اختیار کرنے کی بجائے رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی ضرورت نہیں؟ ۔آخر اس تضاد اور اس سے پیدا شدہ انتشار کا خاتمہ نہیں ہونا چاہئے اور اس باب کو بند نہیں کردینا چاہئے؟۔

متعلقہ خبریں