Daily Mashriq

طلبہ احتجاج پر مجبور کیوں؟

طلبہ احتجاج پر مجبور کیوں؟

متحدہ طلبہ محاذ جامعہ پشاور کی جانب سے فیسوں میں اضافے ‘ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور ہاسٹلز میں رہائش کی کم گنجائش جیسے مسائل پر انتظامیہ کی جانب سے عدم توجہ کے خلاف احتجاج اور شدید نعرے بازی اور ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے دھرنا سنجیدگی سے توجہ کا حامل امر اس لئے ہے کہ محولہ احتجاج میں عام طلبہ کے علاوہ تقریباً تمام قابل ذکر طلبہ تنظیموں کے نمائندے یک آواز تھے۔ اس موقع پر طلبہ رہنمائوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یونیورسٹی فیسوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کرکے عملی طور پر چالیس فیصد اضافہ کردیاگیا ہے۔ طلبہ کے لئے ہاسٹلز میں رہائش دستیاب نہیں۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت ادھوری اور ناکافی ہے اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے مناسب یقین دہانی نہ ملنے پر طلبہ نے احتجاج جاری رکھنے کااعلان کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان کو ٹھوس یقین دہانی کرائی جائے۔ انتظامیہ کی طلبہ کو ٹھوس یقین دہانی میں ناکامی اور ان کو مطمئن نہ کرسکنا اس امر پر دال ہے کہ انتظامیہ کو شاید طلبہ کے مسائل کے حل سے دلچسپی نہیں یا پھر وہ ان مسائل کا حل چاہتے نہیں۔ ممکن ہے انتظامیہ کی اپنی مجبوریاں ہوں لیکن طلبہ کے مسائل و مشکلات میں سے کوئی بھی ایسا نکتہ نہیں جس کی اہمیت سے انکار کیا جاسکے۔ جامعہ پشاور سمیت سرکاری جامعات میں فیسوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ جامعات کے سربراہوں نے سرکاری یونیورسٹیوں کی بھی نجکاری کی ٹھان لی ہے اور اس عمل میں ان کو گورنر خیبر پختونخوا کی بھی تائید حاصل ہے۔ سرکاری جامعات کی اس وقت فیسوں کا تناسب نجی یونیورسٹیوں سے کچھ ہی کم ہوگا۔ کچھ یونیورسٹیاں ایسی ہیں جن کی فیسیں خیبر پختونخوا کی جامعات سے کم ہیں اگر اسلامیہ کالج یونیورسٹی‘ پشاور یونیورسٹی کی فیسوں کا نمل یونیورسٹی اسلام آباد کی پشاور شاخ کی فیسوں سے تقابل کیا جائے تو موخر الذکر کی فیس نسبتاً کم ہوگی۔ اگر سرکاری جامعات میں بھاری فیسیں وصول کرنا ہی ہے تو پھر ان پر سے سرکاری جامعہ ہونے کا لیبل اتار دیا جائے اور سرکاری خزانے سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی اور گرانٹ کی فراہمی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ سرکاری جامعات کے ہاسٹلوں میں بیرونی عناصر کے قابض ہونے کے سبب طلبہ کو رہائش کی سہولت میسر نہ ہونے کے ساتھ ساتھ تحفظ اور دیگر مسائل بھی درپیش ہیں۔ ہاسٹلز میں منشیات کی وباء کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ بیرونی عناصر کی موجودگی ہے۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت کا مسئلہ بھی لاینحل نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ حکام کو اس کی پرواہ نہیں۔ بہتر ہوگا کہ طلبہ کے مسائل و مشکلات حل کرکے ان کو ایک پرسکون تعلیمی ماحول دیا جائے اور ان کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔ فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور طلبہ کے دیگر مسائل کے حل میں سنجیدگی کامظاہرہ کیا جائے۔
نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں سے متعلق احسن فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں نجی تعلیمی اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ فیسوں میں سالانہ صرف تین فیصد اضافہ ہی کرسکیں گے۔ اس کو اس امر کا بھی پابند بنایاگیا ہے کہ ریگولیٹری ادارے سے اجازت کے بعد قائم کئے جائیں اور بچوں کو وین کے پیچھے اور وین کی چھت پر بیٹھنے نہ دیا جائے، بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی ہوگی۔ امر واقع یہ ہے کہ نجی تعلیمی اداروں میں من چاہی فیسوں کی وصولی کے ساتھ ساتھ دیگرمدات میں بھی رقم بٹوری جاتی ہے جس کے باعث معیاری تعلیم اب بالادست طبقے ہی تک محدود ہوتی جا رہی ہے اور عوام کے بچوں کے پاس سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ کوئی دوسرا انتخاب میسر نہیں ۔سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال کے تذکرے کی ضرورت نہیں۔ نجی تعلیمی ادارے منافع بخش تجارت کے ادارے بنا دئیے گئے تھے اس صورتحال کے تناظر میں عدالت کا فیصلہ متوسط طبقے کے لئے کسی بڑی ریلیف سے کم نہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں ایک سے زائد بہن بھائیوں کے زیر تعلیم ہونے سے فیس میں رعایت کا جو قانون ہے اس پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے اس ضمن میں ریگولیٹری اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہم پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی بھرپور تائید اورتحسین کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ اس حکم سے بھاری فیسوں اور دیگر زیادتیوں کا تدارک ہوسکے گا جس سے والدین کو ریلیف ملے گا اور نجی تعلیمی اداروں کو بہتر طورپر ریگولیٹ کیا جاسکے گا۔

اداریہ