Daily Mashriq

ن لیگ کی حکومت پر میاں نواز شریف کا اظہارِ برہمی

ن لیگ کی حکومت پر میاں نواز شریف کا اظہارِ برہمی

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکمران مسلم لیگ کے چند معتمد لیڈروں کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں اسلام آباد کے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فوج کی وساطت سے طے پانے والے یک طرفہ معاہدے کی زبان پر بھی اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے ذرائع کا بتانا ہے کہ میاں صاحب نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے بیجنگ سمیت دنیا کے دارالحکومتوں میں منفی پیغام گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق میاں صاحب نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سال تک ہم دنیا کو یقین دلاتے رہے کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی میں واضح کمی آئی ہے ۔ اب انہیں یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ درحقیقت ہم مذہبی انتہا پسندی کو تحفظ دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ احسن اقبال سے کچھ سوالات بھی کیے۔ پوچھا کہ کس نے دھرنے والوں کو سہولت دی اور کون ان کی مالی اعانت کرتا رہا۔جہاں تک میاں صاحب کی بے خبری کا تعلق ہے پاکستان کا بچہ بچہ ٹی وی پر دھرنے اور اس پر پولیس ایکشن کے مناظر لمحہ بہ لمحہ دیکھ رہا تھا۔ ٹی وی پر یہ خبر بھی آئی کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آرمی چیف سے ملاقات میں اس صورت حال پر بات بھی کی۔ یہ خبر بھی آئی کہ انہوں نے آئینی اختیار کے تحت فوج بھی طلب کی جس پر سارے پاکستان میں تشویش بھی پھیلی۔ میاں صاحب کو بھی یہ سب کچھ معلوم ہو گا اور وہ وزیر اعظم عباسی سے رابطہ کر سکتے تھے۔ وہ احسن اقبال سے بھی رابطہ کر سکتے تھے۔ جب آپریشن ہوا تو احسن اقبال اور ن لیگ کے دوسرے اہم لیڈر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گھر بھی گئے تھے۔ جہاں تک ان کے اس سوال کا تعلق ہے کہ دھرنے والوں کو کون لایا تو میڈیا میں یہ باتیں آ چکی ہیں کہ دھرنے والے پنجاب سے چلے تھے۔ ڈی چوک بھی گئے اور اس کے بعد فیض آباد کے سنگم پر آئے۔ میاں صاحب نے حکومت کے قائدین سے معلوم کر لیا ہو گا کہ دھرنے والے کون لوگ ہیں، کیا چاہتے ہیں اور ان کا محرک کون یا کیا ہے۔ گزشتہ ماہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ن لیگ کے بھرے جلسے میں ان سے مطالبہ کر چکے تھے کہ اس معاملے کے ذمہ دار وزیروں کو نکال دیا جائے۔ میاں صاحب ایک بڑی سیاسی پارٹی کے بڑے لیڈر ہیں۔ انہوں نے اس معاملے (انتخابی اصلاحات کے بل میں عقیدہ ختم نبوت کے گوشوارے میں ترمیم) کی تحقیقات کے لیے پارٹی کے چیئرمین اور دو وزیروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ اسے تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی تھی اور کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے تحقیقاتی رپورٹ لندن جا کر میاں صاحب کو دے بھی دی تھی۔ جو اب تک عام مشاہدے کے لیے جاری نہیں کی گئی ہے۔ اس کے مندرجات کے باعث میاں صاحب کو قدرتی طور پر اس پر متوجہ ہونا چاہیے تھا۔ لہٰذا اب پارٹی ذرائع کا یہ کہنا کہ میاں صاحب کو شکوہ ہے کہ انہیں باخبر نہیں رکھا گیا یا ان سے مشاورت نہیں کی گئی ناقابل فہم ہے۔میاں صاحب جمہوریت کے داعی ہیں اور اپنی سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ لیکن اس حساس معاملے پر راجہ ظفر الحق کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس پر پارٹی کے کسی فورم میں مشاورت نہیں کی گئی۔ کیا عوام کو اس کے مندرجات سے بے خبر رکھنا مقصود تھا؟ ن لیگ کی حکومت نے بھی اس رپورٹ اور تحریک لبیک کے مطالبات کو نہ پارلیمانی پارٹی کے سامنے پیش کیا نہ کابینہ میں یہ مطالبہ زیرِ بحث آیا۔میاں صاحب نے یہ باتیں پارٹی کے چند معتمدین سے غیر رسمی ملاقات میں کی ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ جس صورت حال کو وزیر داخلہ ایسی سنگین صورت حال کہہ رہے ہیں اس معاہدے کے سوا کوئی چارہ کار ہی باقی نہیں رہ گیا تھا جس پر میاں صاحب برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سارے معاملے پر بھی پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس نہیں بلایا گیا ‘ نہ اس معاہدے کو جسے ناپسندیدہ قرار دیا جا رہا ہے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا ۔نہ معاہدے سے پہلے اس کی پارلیمنٹ یا کابینہ سے منظوری لی گئی تھی۔ اس غیر رسمی گفتگو میں اظہار برہمی کے بعد پارٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اب میاں صاحب کوئٹہ جائیں گے ، اس کے بعد دو ہفتے کے لیے وہ لندن جائیں گے ۔ تو اس معاملے پر جس کے باعث بقول میاں صاحب دنیا کے دارالحکومتوں میں منفی پیغام گیا ہے ‘ اب ن لیگی قیادت کی طرف سے مزید خاموشی اختیار کی جائے گی؟ اس منفی پیغام کے اثرات زائل کرنے کے لیے کیا کیا جائے گا‘ کب اس سوال پر غور کیا جائے گا؟ زیر بحث معاہدے کے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا تبصرہ یہ ہے کہ شکست تسلیم کی گئی اور فوج کا اس معاہدے میں کردار نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ فوج نے صورت حال کی کشیدگی کم کرکے ملک کو تباہی سے بچا لیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ فوج نے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ دونوں معزز عدالتیں ہیں ‘ ان کے فرمان کے بارے میں لب کشائی مناسب نہیں۔ البتہ یہ بات ضرور بیان کی جا سکتی ہے کہ فوج از خود نہیں آئی۔ بلکہ حکمران مسلم لیگ ن کے منتخب وزیر اعظم نے آئین کے مطابق بلائی تھی۔ اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت کا واضح حکم تھا کہ گولی نہیں چلائی جائے گی۔ اگر فوج کے کسی افسر نے تحریک لبیک اور حکومت کے نمائندوں کی معاملت میں سہولت بہم پہنچائی تو ملک کی اس وقت کی گمبھیر صورت حال کا اندازہ کرکے بہم پہنچائی۔ معاہدہ فریقین نے اپنی اپنی مصلحتوں کے تحت کیا۔ کس نے کیا گنوایا ‘ کس نے کیا حاصل کیا یہ فریقین کا مسئلہ ہے۔ لیکن فوج کے افسر کی یہ کامیابی شمار کی جانی چاہیے کہ اس نے گمبھیر صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچا لیا۔ اگر تحریک لبیک کے دھرنے کو میاں صاحب مذہبی انتہا پسندی قرار دیتے ہیں اور حکومت کے معاہدہ کرنے کے اقدام کو مذہبی انتہاپسندوں کے لیے تحفظ قرار دیتے ہیں تو انہیں اپنی پارٹی کے کسی اجلاس میں حکومت سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ ان کا یہ تبصرہ ان کی اپنی حکومت پر چسپاں ہوتا ہے۔

اداریہ