فصیل شہر سے فصیل فکر تک

فصیل شہر سے فصیل فکر تک

سومنات کا مندر کس نے توڑا ممتحن نے باری باری کلاس روم کے بچوں سے پوچھا۔ جس کے جواب میں ہر بچے نے کہا کہ’’جی میں نے نہیں توڑا‘‘ ۔جب اس نے اس بات کی شکایت کلاس ماسٹر سے کی تو وہ فرمانے لگے کہ’’ ہیں اس کلاس میں چند شرارتی لڑکے جن میں سے کسی ایک نے توڑا ہوگا ‘‘۔ ماسٹر جی کا یہ جواب سن کر ممتحن سے نہ رہا گیا اور وہ ماسٹر جی کو لیکر پرنسپل کے کمرے میں چلے گئے اور انہیں شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ عجیب بات ہے ماسٹر جی کی کلاس کا کوئی بچہ نہیں بتا پارہا کہ سومنات کا مندر کس نے توڑا تھا۔ پرنسپل یہ بات سن کر غصے سے لال پیلے ہوکر ماسٹر جی کو مخاطب کرکے کہنے لگے کہ’’ جس نے بھی توڑا ہے سومنات کا مندر۔ اس کا تاوان تمہاری تنخواہ سے کاٹا جائے گا‘‘۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ ہمارا معیار تعلیم اتنا بھی گیا گزرا نہیں کہ طالب علم یہ نہ بتا سکیں کہ سومنات کا مندر کس نے توڑا تھا۔ البتہ ہمارے شہر کے قاضی جی کو اس بات کا اندیشہ ضرور ہے کہ پشاور شہر کے گرد بنی فصیل شہر کو جگہ جگہ سے کس نے توڑا ہے اور یہ کہ جس نے بھی اس تاریخی فصیل کو نقصان پہنچایا ہے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ ضلع پشاور کے ناظم محمد عاصم خان نے یہ بات ایک بار نہیں بار بار فصیل شہر کی نا گفتہ بہ حالت زار کو دیکھ کر دہرائی ہے۔ آپ پشاور شہر کی فصیل کی تعمیر و مرمت کرکے اس کی شان رفتہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے اس جذبے کی قدر کرتے ہیں۔جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے پشاور شہر کے گرد تعمیر کی جانے والی اس فصیل کی عمر اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اس شہر کی تاریخ ۔ایک حوالہ کے مطابق پہلے پہل اس فصیل کو 60 عیسوی کے دوران پشاور میں قائم کشان خاندان کی حکومت کے نے تعمیر کروایا تھا۔ محققین بتاتے ہیں کہ 630 ء میں مشہور چینی سیاح ’ہیون توسانگ‘ جب پشاور آیا تو اس وقت یہ فصیل موجود تھی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہئے کہ یہ فصیل اس چینی سیاح کی آمد سے پہلے اپنا وجود نہ رکھتی ہوگی۔ شہر پشاور کی اس فصیل کو کبھی ہن قبائل نے تباہ کیا کبھی ساسانی، کبھی صفاری، کبھی ترک، کبھی یہ ہندو شاہی دور کے ہاتھوں کشتہ ستم بنی تو کبھی غزنوی، غوری، اور مغل حکمرانوں نے اسے گرایا اور گرا کر اٹھایا۔ حملہ آور اسے گراتے رہے اور پشاور کو اپنا مسکن بنانے والے اس کی تعمیر و مرمت کے مرحلے طے کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ جدید طرز کی فصیل رنجیت سنگھ کے گورنر ابو طبیلہ نے بنوائی تھی جب کہ آخری بار بالو کی پکی اینٹوں سے اس کی تعمیر انگریزوں کے دور میں ہوئی۔ اس فصیل کا مقصد اندرون شہر کے رہائشیوں کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب پشاور کے باہر گھنے جنگل تھے اور ان جنگلوں میں اگنے والا خوف ہر وقت قدیم پشاوریوں کے سروں پر منڈلایا کرتا تھا۔ آج کا پشاورفصیل شہر پھلانگ کر چاروں جانب پھیل چکا ہے۔ اس کے چاروں طرف کنکریٹ کے بہت سے جنگل آباد ہیں۔ ضلع پشاور چار بلدیاتی ٹاؤنز پر مشتمل ہے۔ ضلع ناظم کو پشاور اور اس کے مضافات میں خود رو پودوں کی طرح اگتے نت نئے مسائل سے نبٹنا چاہئے تھا لیکن ان کے سینے میں محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ کا دل دھڑکنے لگا ہے۔ بیٹھے بٹھائے قدیم شہر کی معدوم ہونے والی فصیل کا غم لا حق ہوگیا ان کو۔ کس نے توڑی یہ فصیل شہر ؟ وہ ایک ایک سے پوچھ رہے ہیں جس کے جواب میں سب کہہ رہے ہیں کہ جی میں نے نہیں توڑی۔ سچ پوچھئے تو ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے یہ فصیل۔ کچھ عرصہ پہلے تک فصیل تو فصیل اس کے دروازے تک معدوم ہوچکے تھے۔ بھلا ہو، انکا جنہوں نے اس کے سولہ دروازوں کو نقل بمطابق اصل تعمیر کرنے کا عزم کیا

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے مرمے صحن میں رستے بنا لئے
کے مصداق اس فصیل میں اتنے دروازے بنا دئیے گئے ہیں جن کا شمار ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ کب تک رہتے قدیم پشاور کے باسی اندرون شہر کی تنگ و بے ہنگم گلیوں کی قید میں۔ چھید ڈالا انہوں نے فصیل شہر کو اور لگادیں اس میں دکانیں ، نکال لئے اس میں دروازے، توڑ ڈالی انہوں نے اپنے راستے کی ہر رکاوٹ ، آخر انہوں نے زندگی کی معمولات پوری کرنے کے لئے فصیل شہر کے اندر کی دم گُھٹ گلیوں سے نکلنا بھی تو تھا ۔اور پھر یوںہوا کہ کم وبیش 600 ایکڑ رقبے میں رہنے والے پشاوریوں پر اندرون شہر کی زمین تنگ ہوگئی۔پاٹ ڈالی انہوں نے یہ بوسیدہ دیوار اور کرنے لگے آباد نئی بستیاں۔ کب تک رہتے مقید اہالیان شہر فصیل شہر کے اندر اور شہر بھی وہ جو تادم تحریر انکا اپنا نہ رہا۔ اب کے جو مردم شماری ہوئی تو پتہ چلا کہ پشاور آبادی کے لحاظ سے ملک کا چھٹا بڑا شہر بن گیا ہے جس کی آبادی 9 لاکھ 82 ہزار سے بڑھ کر 19 لاکھ نفوس سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ آبادی کے اس طوفان بلا خیز نے بلدیہ پشاور کو گونا گوں مسائل سے دوچار کیا ہوا ہے لیکن پشاور کے ناظم اعلیٰ کو فصیل شہر کے نابود ہونے کا غم کھائے جارہا ہے۔ ان کے لئے مشورہ ہے کہ وہ پشاور کے کسی قابل دید تاریخی مقام پرفصیل شہر کا ماڈل بنا کر اس پر ٹکٹ لگا دیں اس طرح بلدیہ کی آمدن میں بھی اضافہ ہوجائے گا اور وہ فصیل شہر سے بے پناہ محبت کا ارمان بھی پورا کرلیںگے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے توبنواڈالیں فصیل شہر جیسا ایک ڈیکوریشن پیس اپنے پر ہجوم دفتر میں سجانے کے لئے تاکہ ہم بھی بے اختیار ہوکر پکار سکیں کہ
بہلا رہے ہیں اپنی طبیعت خزاں نصیب
دامن پہ کھینچ کھینچ کے نقشہ بہار کا

متعلقہ خبریں