Daily Mashriq


گواہی دی تو عدالت میں ماراجائوں گا

گواہی دی تو عدالت میں ماراجائوں گا

فیض آباد دھرنے کے خاتمے پر اگرچہ مختلف آراء سامنے آرہی ہیں ، کہیں اس پر تنقید ہورہی ہے اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ ساتھ بعض دیگر آئینی اور قانونی ماہرین ایک خاص اینگل سے آئینی بنیادوں پر سوال اٹھا رہے ہیں ، جبکہ کچھ سیاسی رہنماء جسٹس موصوف کے ریمارکس پر بھی معترض ہیں اور ان کے بیان کو ’’سمجھ سے باہر‘‘ کہہ کر تبصرے کررہے ہیں ، خود وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے بیان سے مترشح ہورہا ہے کہ اس دھرنے سے بہت سے سوالات نے جنم لیا اوریہ کہ معاہدہ افسوسناک ہے ، اسی طرح ایک سیاسی رہنما نے اس معاہدے کو سوپیاز اور سو جوتے کھانے کے بعد تسلیم کرنے سے تشبیہہ دی ہے ، غرض جتنے منہ اتنی باتیں کی صورتحال ہے ، تاہم ان تبصروں اور تجزیوں سے ہٹ کر اس معاہدے کی ایک شق پر ہم ضروربات کرنا چاہیں گے اور جہاں معاہدے کی کئی شقیں ہیں ان میں سے صرف شق نمبر 2کا جائزہ لیتے ہوئے بات کو آگے بڑھائیں گے جو یوں ہے کہ ’’راجہ ظفرالحق کی انکوائری رپورٹ 30دن میں منظر عام پر لائی جائے اور جو اشخاص بھی ذمہ دارقرار پائے گئے ان پر ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی‘‘ ۔ جہاں تک اس شق کا تعلق ہے اس میں معاہدے کے تحت 30دن کے وقفے کی شرط رکھ کر دھرنا دینے والوں نے کیا حاصل کرلیا ہے یہ غور طلب بات ہے ،کیونکہ بد قسمتی سے پاکستان کی تاریخ انکوائری رپورٹوں کے حوالے سے کچھ زیادہ حوصلہ افزاء ریکارڈ کی حامل نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ اس ضمن میں تجزئیے کو آگے بڑھا یا جائے ، گزشتہ روز (پیر) ایک قومی اخبار میں خود راجہ ظفرالحق کے حوالے سے ایک تحریر پر نظر ڈالتے ہیں جو صورتحال کی مزید وضاحت کررہی ہے ، موصوف لکھتے ہیں کہ ’’میاں نواز شریف نے (انتخابی بل میں متنازعہ شقیں شامل ہونے پر) ایک انکوائری کمیٹی بنائی جسے 48گھنٹوں میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ، چنانچہ ابتدائی یا عبوری رپورٹ تیار کر کے انہیں بجھوادی ، 25نومبر کو مکمل رپورٹ تیار کر لی ہے ، جو آج پیر کو میاں نواز شریف کے حوالے کر دی جائے گی ، اس رپورٹ میں کس کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ؟ اس سوال کا جواب فی الحال نہیں دیا جا سکتا ۔ اخلاقی طور پر میری ذمہ داری ہے کہ اس رپورٹ کے کسی حصے کو ظاہر نہ کروں ، میاںنواز شریف ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ اسے کب منظر عام پر لانا ہے ۔ جہاں تک کسی وزیر کے استعفیٰ کا معاملہ ہے تو اس کا فیصلہ بھی وزیراعظم نے کرنا ہے ‘‘آگے چل کر قانون سازی کے طریق کا ر میں تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق نے اس حوالے سے آئین میں صراحت سے لکھے جانے کی بات کی ہے ۔ اگر چہ اب تک اس مسئلے کی تمام تر ذمہ داری سابق وزیر قانون زاہد حامد پر ڈالی جاتی رہی ہے اسی وجہ سے معاہدے میں ان کے خلاف کسی فتوے کو روکنے کی شق شامل کی گئی ہے ، حالانکہ دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد کے باخبر صحافتی حلقوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں کہ زاہد حامد تو قربانی کا بکرا ہے حالانکہ کھرا کسی اور نام کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے اور وہ بھی کسی خاتون کی جانب۔ اس حوالے سے 28نومبر کے ایک اور قومی روزنامے میں سابق سینیٹر اور سینئر سیاستدان طارق چوہدری کے کالم میں اس جانب اشارہ کیاگیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ’’یہاں بھی ایک عدد شیطان کی آپا یورپی سفارتکاروں کو بل پاس ہونے سے پہلے ہی قادیانیوں کے بارے خوش خبری سناتی رہی ہیں‘ گویا سارے یورپی سفارتخانے قادیانی دوستوں سے بھرے ہیں۔

کاغذ پہ تجھ کو سطر کیا عمر بھر نجیبؔ

اور حجرئہ سطور میں بیٹھا ہے کوئی اور

اس کیفیت میں جبکہ عدالت عالیہ نے پہلے ہی راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم صادر کر رکھا ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہؐ اور حکومت کے مابین معاہدے میں انکوائری رپورٹ 30دن کے اندر اندر منظر عام پر لانے سے شکوک و شبہات میں کیا اضافہ نہیں ہوگا اور جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کی تاریخ اس قسم کے معاملات میں انکوائری رپورٹوں کے حوالے سے حوصلہ افزا ریکارڈ نہیں رکھتی کتنا غلط ہوسکتا ہے؟ کیونکہ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں اس دوران حکومت راجہ ظفر الحق پر رپورٹ میں رد و بدل کے لئے دبائو ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ راجہ صاحب موصوف ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور ممکن نہیں کہ وہ کسی بھی حکومتی خواہش کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے۔ سو اب دیکھتے ہیں کہ طارق چوہدری نے جس ’’شیطانی آپا‘‘ کا تذکرہ کیا ہے اور جس کا نام اب دبی زبان میں لیا بھی جا رہا ہے انہیں بچانے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے؟ اور انکوائری کمیٹیوں کے حوالے سے جس صورتحال کی جانب توجہ دلائی ہے اس کو قیام پاکستان کے ابتدائی ایام ہی سے گنا جائے تو دیگر کو چھوڑ کر بڑے بڑے حادثات‘ سانحات اور معاملات سے متعلق کمیٹیوں کی رپورٹوں کا جو حشر ہم دیکھتے رہے ہیں ان میں ابتداء قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت‘ سقوط ڈھاکہ‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت‘ ان سے بھی پہلے محترمہ کے بھائی کا بہیمانہ قتل‘ سانحہ کار ساز‘ میموگیٹ سکینڈل‘ ماڈل ٹائون انکوائری رپورٹ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ کیا یہ بدقسمتی نہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے لئے قائم حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کو دبانے کی تمام کوششیں اگرچہ ملک کے اندر کامیاب ہوئیں لیکن اسے بھارت میں طشت از بام کردیاگیا جس کے بعد عدالتی حکم پر قوم کے سامنے لایا گیا اب اس قدر اہم مسئلے پر انکوائری رپورٹ جو بحیثیت مسلمان ہمارے لئے ایمان کا حصہ ہے اور جس پر کمپرومائز کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہوسکتا سامنے لانے کے لئے 30دن کی مدت دے دی گئی ہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انکوائری مکمل کی جاچکی ہے تو اسے سامنے لانے کی بجائے مزید 30دن تک التواء میں رکھنے کا جواز کیا ہے اور اس کے پیچھے کیا مقاصد پوشیدہ ہیں؟ بقول سعید دوشی

میں چپ رہا تو مجھے ماردے گا میرا ضمیر

گواہی دی تو عدالت میں مارا جائوں گا

متعلقہ خبریں