Daily Mashriq


’’یہ مناسب نہیں ‘‘

’’یہ مناسب نہیں ‘‘

شاید ہم ابھی تک بحیثیت قوم خود کو سمجھ نہیں سکے ۔ چاہے ہمارا ایک ملک کی حیثیت سے کوئی بیانیہ نہ ہو لیکن ہم ایک قوم ہیں اور قوموں کے بیانیے ان کے مزاج کے زیرو بم سے بن ہی جاتے ہیں اور کئی بار قوم اس سے واقف بھی نہیں ہوتی ۔ پاکستانی بڑے اچھے لوگ ہیں ، ذہین اور جذباتی اور باوجود اس کے ، کہ آج کل ہمارا انٹلیجنسیا اس بات پر لگا ہے کہ کسی طور ہم اپنے آپ کو سیکولر سمجھنے لگیں تاکہ بعد میں یہ بات ثابت کرنی آسان ہو سکے کیونکہ بہرحال انکے خیال میں دنیا میں ’’پنپنے کی یہی باتیں ہیں ‘‘ لیکن وہ ملک جو اسلام کے نام پر بناہو ۔ اس میں سبق پڑھانے والے قائد اعظم کی کسی بھی تقریر کو کیسے بھی معنیپہنائیں11اگست 1947ء کی تقریر کے بہت حوالے میں سنتی ہوں اور ملک میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے بھی کئی بار اس کا ذکر سننے میں آیا ۔ میں بار بار یہ کہتی رہی ہوں کہ ہمیں اس تقریر کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت کیا معاملات تھے اور اس سب کا کیا تاریخی پس منظرتھا ۔ حالات کی اس تصویر میں اس تقریر کو جڑکر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ نہ تو اس تقریر میں کہیں پاکستان کے ایک سیکولر ملک ہونے کی بات تھی نہ ہی لوگوں کے لامذہب ہو جانے کا خیال تھا ۔ یہ دونوں باتیں میں اس لیے کر رہی ہوں کہ اس تقریر کو اکثر اسیپیرائیمیں بیان کیا جاتاہے اور جب بھی پاکستان میں کچھ لوگ ، زندگی کے معمول میں کسی معمول کی طرح مصروف لوگوں کوجھنجھوڑ کر یہ یاد کرواتے ہیں کہ محض صبح کو شام کرنا ہی زندگی نہیں ہمارا مقصدحیات کچھ اور ہے ہماری پہچان کچھ اور ہے ، تو لوگوں کو ایک بار پھر 11اگست کی یہ تقریر یاد آتی ہے اور اسی کی مدد سے وہ پاکستان کو ایک سیکولر ملک ہونے کی تقویت بخشنے کی کوششیں کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے اپنی اس تقریر میں کہا تھا کہ ملک میں امن وامان کا قیام حکومت کا بنیادی کام ہے تاکہ لوگوں کا جان ومال ، املاک اور لوگوں کے مذہبیعقائدمحفوظ ہوں ‘‘۔ اسی تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک وقت ہوگا جب ہندو ہندو نہ رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہ رہیں گے لیکن یہ بات ان کے مذہبی عقائد کے حوالے سے نہ تھی بلکہ سیاسی اور سماجی طور پر پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے تھی ۔ قائد اعظم کی اس تقریر کے حوالے سے کتنے ہی نظر یئے اور ان کی باتوں کی کتنی ہی توجیہات سننے کوملتی ہیں ۔ میں نے اس تقریر کو بار بار پڑھاہے ۔ ان دنوں جب فیض آباد پر توہین رسالت ؐ کے قانون کے حوالے سے مظاہرین دھرنا دیئے بیٹھے تھے ،تب بھی پڑھا اور تب بھی یہی محسوس کیا ، کہ کسی بھی پیرائے میں نہ اس تقریر کو کسی بھی طور پاکستان کے ایک سیکولر ملک بنائے جانے کی خواہش کی جانب پہلا قدم ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ اور نہ ہی اتنے دنوں میں مجھے کسی بھی طور ان مظاہرین کا یہ مطالبہ غلط محسوس ہوا ۔ مذہب کی آزادی پاکستان بننے کی بنیادی وجہ تھی ۔ مسلمان اپنے مذہبی تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے سے محروم تھے اور یہی بات ان کے دُکھ کی اصل وجہ تھی ۔ یہ بات آج بھی انڈیا میں دکھائی دیتی ہے ، جہاں اس شبے میں لوگوں کو ماردیا جاتا ہے کہ وہ گائے کا گوشت بیچ رہے ہیں ۔ اگر اس ملک کو ایک سیکو لر ملک ہی بنانا مقصود ہوتا تو بھلا ابتداء ہی میں اس میں کیا مشکل تھی ۔ لیکن اپنی اس تقریر میں بھی قائد اعظم نے مذہبی آزادی کی بات کی اور اسے لوگوں کا بنیادی حق قرار دیا ۔ یہ لوگ جو فیض آباد چوک پر تقریباً ایک مہینہ مقیم رہے ۔ جن کے باعث دونوں شہروں کے لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ کئی نجی محفلوں میں ، میں نے خود لوگوں کی بیزاری دیکھی اور کئی مرد و خواتین کو یہ بھی کہتے سُنا کہ حکومت ان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کرتی ۔میں نے ان سے بھی کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی ترجیحات کا تعین کرنا نہیں آتا ۔ ہم لوگ اپنی بنیاد ،اپنے اصل سے ناواقف ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ ترقی کا خواہشمند ہونا بہت اچھی بات ہے لیکن جو اقوام اپنا اصل فراموش کردیتی ہیں ،ان کو مٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ یہ بات اتنی معمولی نہیں تھی جس طور اس سب کے بارے میں بات کی جارہی تھی ۔ یہ ہماری بنیاد کو زہر دینے کی بات تھی جس کے لیے ان مُٹھی بھر لوگوں نے بہت محنت کی ۔ کل میرے اور آپ کے بچے سیکو لر نہ ہو جائیں وہ یہی سوچ کر اتنے دن اتنی شدید سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے ۔ اور ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ واقعی چاہتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم چاہے خود کیسے بھی ہوں ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہت اچھے انسان ، بہت اچھے مسلمان ہوں ، ہم نے اپنی نمازوں میں کوتاہی برتی ہو لیکن ہمارے بچے پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہوں ۔ ہم جھوٹ بھی بول لیتے ہوں لیکن ہمارے بچے کبھی جھوٹ نہ بولیں ۔ہم کبھی کسی بات میں کچھ ٖڈنڈی بھی مار جائیں لیکن ہمارے بچے مکمل ایماندار ہوں اور ہم میں سے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ بچے عکس ہوا کرتے ہیں ، جو ہم کر کے دکھائیں گے ، وہ وہی کرینگے ۔ ہم توہین رسالت ؐ کی اہمیت سے واقف نہ ہوں تو بچے بھی یہ نہ سمجھیں گے کہ رسول پاک ؐ سے محبت کیئے بغیر تو دین ہی مکمل نہیں اور وہ بھی ایسی محبت جو رسول پاکؐ کو اپنے والدین ، اپنی اولاد ، اپنی جان و مال سے زیادہ محبوب کردے ۔ ہمیں تو خود یہ باتیں یاد ہی نہیں ہم اپنے بچوں کو کیا یاد دلائیں گے اور وہ لوگ جو ہمیں یہ یاد دلارہے تھے ان کے بارے میں کیا کہیں گے ؟ کتنی ہی باتیں ہیں جو اس حوالے سے دل میں ہیں لیکن خاموش ہوں ۔ہم تو مسلکوں میں اُلجھ کر بنیاد کو بھول رہے ہیں ۔ اپنے معاملات پر نظر ثانی کیجئے ۔ یہ مناسب نہیں ۔ اور اس کی کوئی تاویل کہیں سے دستیاب نہیں ۔

متعلقہ خبریں