Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

قارون حضرت موسیٰ ؑکے چچا کا لڑکا تھا ۔ یہ بہت خوش آواز تھا ۔ تورات بڑی خو ش الحانی سے پڑھتا تھا ۔ اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے ۔ یہ چونکہ بہت مالدار تھا ، اس لئے خدا کو بھول بیٹھا تھا ۔ قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا ، اس نے اس سے بالشت بھر نیچا بنوایا تھا ، جس سے ا س کا غرور اور تکبر اور اس کی دولت ظاہر ہو ۔ اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی ۔ اس کے بہت سے خزانے تھے ، ہر خزانے کی کنجی الگ تھی ، جو بالشت بھر کی تھی ۔ قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑ نا مت ، تو قارون نے جواب دیا کہ میں ایک عقلمند ، زیرک اور دانا شخص ہوں اور اسے خدا بھی جانتا ہے ، اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے ۔
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق بر ق عمدہ سواری پر سوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشا کیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اترا تا ہوا نکلا ، اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت و تجمل دیکھ کر دنیاد اروں کے منہ میں پانی بھرآیا کہنے لگے کاش ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا ، یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے ۔
قارون اس طمطراق سے نکلا ، وہ سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے تھا ، تب ادھر حضرت موسیٰ ؑ خطبہ پڑھ رہے تھے ، بنو اسرائیل کا مجمع تھا ، سب کی نگاہیں اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں ، حضرت موسیٰ ؑ نے اس سے پوچھا ، اس طرح کیسے نکلے ہو ؟ اس نے کہا ایک فضیلت خدا نے تمہیں دے رکھی ہے ، اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس عزت ودولت ہے ، اگر آپ کو میری فضیلت میں شک ہے تو میں تیا رہوں ، آپ خدا سے دعا کریں دیکھ لیجئے ، خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے ، آپ ؑ اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اسے لے کر چلے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا : میں پہلے دعا کروں یا تو کرے گا ؟ قارون نے کہا میں کروں گا ۔ اس نے دعا مانگی ، لیکن قبول نہ ہوئی ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی خدا یا ! زمین کو حکم کر جو میںکہوں مان لے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی ۔ میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے یہ سن کر زمین سے کہا : ’’اے زمین اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے ‘‘
وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے ، پھر مونڈھوں تک ، پھر فرمایا اس کے خزانے اور اس کے مال بھی یہیں لے آئو ، اسی وقت قارون کے تمام خزانے آگئے ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ قارون اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسادیا گیا ، پھر زمین جیسی تھی ، ویسی ہوگئی ۔
مال و دولت عارضی ہیں آج ہیں تو کل نہیں ۔ان پر اترانا نہیں چاہیئے ۔ غرور وتکبر سے بچنا چاہیئے غرور و تکبر اللہ کو سخت ناپسند ہے ۔ عاجزی انسان کا ہی شیوہ ہے ۔ اس لیے عاجزی اختیار کرنی چاہیئے ۔
(بحوالہ : تفسیر ابن کثیر ؒ )

اداریہ