Daily Mashriq

بی آرٹی کی تکمیل آخر کب ہوگی؟

بی آرٹی کی تکمیل آخر کب ہوگی؟

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بی آر ٹی کے نام سے جاری منصوبہ اگر تحریک انصاف کی دوسری صوبائی حکومت کے ابتدائی سودنوں میں بھی مکمل ہوتا تو اس کی تحسین ممکن تھی مگر جس منصوبے کی مدت تکمیل کی ابتداء ہی غلط بیانی سے کی گئی ہو اس کی تکمیل خود صوبائی حکومت اور عوام کیلئے وبال جان بننافطری امر تھا۔بی آرٹی کی مدت تکمیل چھ ماہ قرار دیتے ہوئے توپنجاب سپیڈ کو پیچھے چھوڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر بی آر ٹی کا منصوبہ اس قدر عجلت اور عدم تیاری کی حالت میں شروع کرنے کا عقدہ اس وقت کھلا جب کام شروع کرنے کے بعد اس کے منصوبہ سازوں کو اس میں بار بار تبدیلی کی ضرورت پیش آئی۔ منصوبے پر ہشتنگری ، گلبہار ، فردوس امن چوک اور حیات آباد کے آخری حصے ہی میں تبدیلی و توسیع نہیں کی گئی بلکہ تعمیر کرنے اور توڑ دینے کا عمل آج بھی ہشتنگری میں ملاحظہ ہو سکتا ہے ۔ معلوم نہیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اس بارے کیا بتایا گیا ہوگا جس منصوبے کی ابتداء ہی میں عوام سے غلط بیانی کی گئی اس کی گواہی کیلئے سینئر صوبائی وزیر عاطف خان کا یہ اعتراف کافی ہے کہ دراصل یہ منصوبہ ڈیڑھ سال کا تھا جسے چھ ماہ میں مکمل کرنے کی بڑھک ماری گئی۔ سیاسی ضرورتیں اور دعوئوں کی گنجائش رکھتے ہوئے بھی یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی کوئی توجیہہ ممکن ہی نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس کی مدت تکمیل ڈیڑھ سال ہی قرار دیا جاتا اور تاخیرو تعجیل کی گنجائش رکھی جاتی تو بی آر ٹی کے منصوبے کو ایک سیاسی نعرے اور امید کے طور پر انتخابات کے دوران استعمال کرنا ممکن تھا اب جبکہ بھانڈا خودصوبائی کابینہ کے ایک اہم رکن نے پھوڑ دیا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت عوام سے معافی مانگے جہاں تک اس منصوبے کی افادیت کا تعلق ہے اگر اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان بی آر ٹی قسم کے منصوبوں کی سخت مخالفت کے بیانات پر قائم رہتے تو آج پشاور کے عوام اس عذاب کا شکار نہ ہوتے ۔ بی آرٹی جیسے منصوبے ترقی یافتہ ممالک میں تو احسن منصوبے قرارپائے ہیں لیکن پاکستان میں اس قسم کے منصوبوں کی افادیت ان کی لاگت اور دیگر وجوہات کی بناء پر نقصان سے کہیں کم ہے ۔ بی آرٹی کے نام پر شہر کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھو د کر شہر کو گردوغبارٹریفک جام اور پورے شہر کو آلودگی کی لپیٹ میں دے کر شہر کو شہر مریضاں بنانے کی بجائے اگر موجود سڑکوں کی توسیع کرکے گرین بیلٹ اور اطراف کو کم سے کم متاثر کرکے مناسب رفتار کی ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جاتی تو آج صوبائی دارالحکومت کا نقشہ کہیں بہتر ہوتا۔ صوبائی دارالحکومت پشاوروہ محروم ترین علاقہ رہا ہے جہاں صوبے کے کونے کونے اور قبائلی اضلاع سے لیکر افغانستان تک کے شہری آکر بستے ہیں مگر تحریک انصاف کے سابق وزیراعلیٰ نے بمشکل ایک مرتبہ ہی شہر دیکھنے کی زحمت گوارا کی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے دورے کا انتظار ہے کہ وہ کب شہر کے مرکزی مقامات پر لوگوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنے جاتے ہیں ۔ عوام کی آراء سنتے ہیں اور صفائی کے ناقص انتظامات پر متعلقہ کمپنی اور حکام کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہیں ،پانی کے شکستہ پائپو کی مرمت کرواتے ہیں اور زنگ آلود پائپوں کی تبدیلی کا گزشتہ حکومت کا وعدہ پورا کرواتے ہیں ۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ پشاور کے مسائل سے کسی کو دلچسپی نہیں اضلاع کے حاکمان اعلیٰ کی اپنے اپنے علاقوں پر توجہ اور فنڈز کا استعمال اپنی جگہ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ وہ بھی شہر کے پوش علاقوں میں اقامت رکھتے ہیں مگر وسائل کا رخ انتخابی حلقوں کی مضبوطی کیلئے اپنے علاقوں کی طرف موڑتے ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کا کوئی حل تلاش کیا جا نا چاہیئے اور صوبائی دارالحکومت کے عوام کو ان کا حق دیا جانا چاہیئے، ستم بالائے ستم یہ کہ پشاور سے تحریک انصاف سمیت جس جس بر سر اقتدار جماعت کے اراکین منتخب ہوتے رہے ایک زمانے میں تو آدھی کا بینہ پشاور کے گرد گھومتی رہی مگران کو بھی اس امر کی توفیق نہ ہوسکی کہ وہ پشاور کی تعمیر وترقی کا فریضہ نبھاتے یا کم از کم مرکزی شہر کے عوام کے مسائل میں کمی لانے کے اقدامات کرتے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے بجا طور پر توقع ہے کہ وہ پشاور کو صوبائی دارالحکومت کے طور پر ترقی دینے اور یہاں کے عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دیں گے۔ بی آرٹی کی تکمیل کی جو مدت اب مارچ مقرر کی گئی ہے اس دوران اس کی تکمیل کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے گا۔پشاور کے عوام نے تحریک انصاف کو دوسری مرتبہ بھی بھر پور مینڈیٹ دینے میں اپنا کردار ادا کر کے حکمران جماعت پر جس اعتماد کا اظہا ر کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پشاور کے سنگین عوامی مسائل کے حل میں پوری دلچسپی کا مظاہرہ کریں ۔صوبائی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ارکان کابینہ اور ممبران اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے علم میں معاملات لائیں اور اُن کے حل کیلئے تجاویز کے ساتھ فنڈز کے حصول اور اُن کے شفاف استعمال کی مسلسل سعی کریں ایسا کر کے ہی وہ اس شہر اور اس کے مکینوں کے اعتماد پر پورا اتر سکتے ہیں اور اس کا حق ادا کر سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں