Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

رشوت کا ریاستی نظام

خیبرپختونخوا میں رشوت وبدعنوانی کا کیا عالم ہے اس بارے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ System generated Moneyکا حصول اور تقسیم سرکاری افسران اپنا اس طرح کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ اسے حرام کا درجہ بھی دینے کو تیار نہیں ۔ سادہ لوح بابائے مشرقیات کیلئے نظام کا اکٹھا کیا ہوا پیسہ کی اصطلاح کی مکمل تشریح کافی نہیں بس بھولے پن میںاس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ وہ رقم جو سرکاری اہلکاراکٹھی کرکے تقسیم کرتے ہیں وہ سڑکوں پر سرحدوں پر پٹوارخانوں پر فٹ پاتھوں پر غرض جگہ جگہ سے اکٹھی ہو کر نیچے سے اوپر تک جانے والی رقم ہے چونکہ افسران وبابوگان نہ تو اپنے ہاتھ سے کسی سے کچھ لیتے ہیں اور نہ ہی اس کے عوض وہ کسی کا کام کرتے ہیں اس لئے وہ اسے نظام کا اکٹھا کیا ہوا پیسہ سمجھتے ہیں۔ تندوروں پر کم وزن روٹی اس لئے بکتی ہے کہ وہ نظام کو اکٹھی رقم دیتے ہیں فٹ پاتھوں پر تجاوزات اس لئے موجود ہیں کہ وہ نظام کو پیسہ دیتے ہیں۔ زمینوں کے انتقال پر بھاری رقم وصول ہوتی ہے ۔ جنرل سٹور سے لیکر بیکری اور مارکیٹ میں دکانوں کے باہر بیٹھ کر چھولے اور سموسے بیچنے والے رقم دے کر ہی بیٹھ سکتے ہیں یقین آئے نہ آئے یہ حقیقت ہے کہ نو اب مارکیٹ حیات آباد فیز 6میں اسی طرح کا ایک چاچا چالیس ہزارروپے دیتا ہے ۔ رقم دے کر ہی گنڈے مار موٹر سائیکل طوفانی رفتار سے بھگاتے ہیں اور جلدی جلدی سامان کا پھیرا لگا کر اپنی مزدوری اور سرکاری نظام کے بلیک بجٹ میں رقم ڈالتے ہیں سڑکوں پر لوگ پہلے باڑہ کی بسوں سے ڈرتے موٹر سائیکل ، ٹرالیوں سے اپنی جان اور گاڑیاں بچاتے ہیں باڑہ بسوں میں سمگلنگ کوئی راز کی بات نہیں یہ جواڈوں پر کروڑوں روپے کا مال روزانہ پنجاب جاتا ہے آنکھیں بند کیوں ہیں اس لئے کہ پیسے کی پٹی بندھی ہوتی ہے۔ پولیس اور واپڈا والے ویسے ہی بدنام ہیں شاید اس لئے کہ ان کی کرپشن پرنظر پڑتی ہے اور عوام کا براہ راست واسطہ ہے یہ دفتروں میں بیٹھے ہوئے بابو بنتے تو بڑے سفید پوش ہیں وہ تو اتنے شریف ہیں کہ رشوت نہیں لیتے کسی بد عنوانی میں ملوث نہیں اختیارات کا غلط استعمال نہیں کرتے بس چشم پوشی اور صرف نظر کرتے ہیں اب ان کو نظام پیسہ لاکر دے تو بیچارے واپس تو نہیں کرسکتے آخر ان کو افسری کا بھرم تو رکھنا ہوتا ہے۔ یقین جانیں جو افسران گھر سے کھاتے پیتے ہوں وہ گھروں سے رقم لاکر کھاتے ہیں اور جو نہیں کھاتے ان کے بچوں کا حال کوئی دیکھے آخر یہ کیسے ہو تا ہے کہ ایک گریڈ اٹھارہ کا سی ایس پی افسر تو بچوں کو اچھے سکولوں میں پڑھانے کا متحمل نہیں ہوتااس کے مقابلے میں ایک با بو قسم کے اہلکار کے ٹھاٹھ دنیا دیکھتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت نے قانون بنادیا ہے کہ جو بھی کسی بد عنوان کی نشاندہی کرے گا اس سے برآمددولت میں حصہ پائے گا۔ شاہین ائیرلائنز والے اربوں روپے کاٹیکس کھا گئے ذرا ان کو پکڑیں تو جانیں۔

متعلقہ خبریں