Daily Mashriq

بھارت کی دو غلی پالیسی

بھارت کی دو غلی پالیسی

وزیر اعظم عمران خان کا کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں چشم کشا خطاب کا جواب بھارت کی طرف سے حقیقت سے انکار کے رویے کی صورت میں آیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ علاقے میں غربت کے خاتمے اور خوشحالی کے لیے باہمی تجارت اور میل ملاپ کے راستے کھولنا ہوں گے۔ کیا اس میں کوئی شک ہے؟ عمران خان نے کہا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصورہی پاگل پن ہے۔ یہ باہمی خود کشی ہو گی۔ کیا اس میں کوئی شک ہے؟ عمران خان نے کہا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کی جنگ کا نتیجہ سب کی شکست ہو گی۔ کیا اس سے انکار کیا جا سکتا ہے؟ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر جنگ باہمی خود کشی ہو سکتی ہے تو ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے دوستی اور باہمی تجارت کا لیکن بھارت اس بات کو سمجھنے پر تیار نہیں۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ کرتارپور کا راستہ کھولنے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی سال سے بات چل رہی تھی ۔ دوسری طرف پاکستان کے ساتھ کشیدگی برقرار رکھنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشمیتا سوراج نے پہلے کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت سے انتخابی مصروفیات کا جواز پیش کر کے انکار کیا پھرکہا کہ بھارت سے جو وزراء اس تقریب میں آئے تھے وہ اپنی ذاتی حیثیت میں آئے تھے۔ یعنی بھارتی حکومت نے ایک طرف کرتارپور کا راستہ کھولنے کی حمایت کی اور دوسری طرف اس کی سرکاری پذیرائی سے انکار کیا۔ اگر بھارت کرتارپور کا راستہ کھولنے کا حامی نہیں تھا تو پھر بھارت سے آئے ہوئے وفد میں بھارت کے وزراء بلکہ کسی کو بھی کیوں اجازت دی گئی؟ کیا یہ کہنے سے یہ وزراء نجی حیثیت سے پاکستان آئے تھے ان کی سرکاری حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کرتارپور کا راستہ کھولنے کی حمایت کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یعنی بھارت کی منطق یوں بھی ہے اور یوں بھی۔ بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات اسی صورت میںہو سکتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی اور اس کی حمایت سے اجتناب کرے۔ یہ شرط عقل سے عاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان پہلے دہشت گردی کا اقرار کرے اور پھر اس سے اجتناب کاوعدہ کرے۔ بھارت خود مدعی اور خود منصف کا منصب اختیار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ بھارت کی پالیسی کشیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے سارے علاقے پر تسلط قائم کرنے کی پالیسی ہے اور اس میں اسے امریکہ کی ہلا شیری حاصل ہے کہ امریکہ اپنے عالمی تسلط کے لیے اس خطے میں بھارت کو آلہ کار بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اور بھارتی حکمران بھارت کے ایک ارب سے زیادہ عوام کو امریکہ کے بین الاقوامی عزائم کی بھٹی میں جھونکنے پر آمادہ ہیں۔ کرتارپور کاراستہ کھولنے پر آمادگی سے بھارت کے حکمرانوں کا مقصد ایک طرف دنیا کو بھارت کی امن پسندی کا تاثر دینا تھا اور دوسرے 12کروڑ سکھ کیمونٹی کو عام انتخابات میں ’’ہندو وتوا‘‘ کا حامی بنانا تھا۔ کرتارپور راستہ کھولنے کا دوسرا قدم یہ ہو سکتا تھا کہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر میں راستے کھولے جائیں اور سارک کے پلیٹ فارم سے علاقائی تجارت کے راستے کھولے جائیں اور باہمی تعلقات استوار کیے جائیں۔ لیکن بھارتی حکمرانوں کی سوچ کیوں کہ ہمسائیوںکو کمزور کر کے ایشیاء پر تسلط حاصل کرنے کی ہے اس لیے اس نے نہ صرف کرتارپور راہدای سے سرکاری طور پر لاتعلق ہونے کا اعلان کیا ہے بلکہ سارک کانفرنس میں شرکت سے بھی انکار کیا ہے۔ جو علاقے کے ممالک کے درمیان قربت اور باہمی رابطے قائم کرنے کا فورم ہے۔ بھارت اس سے پہلے بھی سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتا رہا ہے۔ جس کے انعقاد کی باری اب پاکستان کی ہے۔ اس رویے سے بھارت سارک کانفرنس کو تاریخ کا حصہ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ مقصد وہی ہے کہ علاقے پر بھارت کی برتری مسلط کی جائے۔ کرتارپور کا راستہ کھولنے پر آمادگی کے اظہار کے ذریعے پاکستان کی سفارت کاری نے علاقائی امن و سلامتی کی طرف ایک قابل قدر اقدام لیا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک قدم ہے ‘ علاقائی امن اور سلامتی کی خاطر اس سے آگے بڑھنا ضروری ہے ۔ اس لیے علاقے میں امن و تعاون کی راہ میں حائل بھارت کی تسلط کی پالیسی کو دنیا پر آشکار کرنے کی ضرورت کو مدِنظر رکھنا ضروری ہونا چاہیے۔ کرتار پور کا راستہ کھولنے کی ساری دنیا نے تحسین کی ہے۔ بھارت مانے نہ مانے دنیا پر ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان علاقے میں امن و سلامتی اور خوشحالی چاہتا ہے ۔ جو عالمی امن کی ضمانت ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ علاقائی امن کی راہ میں حائل دشواریوں سے عالمی کمیونٹی کو آگاہ رکھا جائے۔ بھارت جس طرح کشمیریوں پر مسلسل مظالم ڈھائے جا رہا ہے وہ اس کی تسلط کی بہیمانہ پالیسی کا آئینہ ہے۔اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے سیاسی ‘ اخلاقی اور سفارتی حمایت کا داعی ہونے کی حیثیت سے پاکستان کا فرض ہے کہ وہ دنیا بھر کے عوام پر بھارت کا حقیقی چہرہ آشکار کرتا رہے۔ اس کے لیے نہ صرف سفارتی سطح پر کوشش ہونی چاہیے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوںکو بھی بھارتی عزائم سے باخبر رکھنے کی ضرورت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ بھارت جس طرح علاقے کی تاریخ کو مسخ کرکے ‘ ایک استبدادی کلچر مسلط کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے اس سے دنیا کو باخبر رکھنا ضروری ہے۔ بھارت میں چند سال پہلے مسلمانوںکو ہندوانہ نام رکھنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے ‘ اب وہاں ان تمام مقامات ‘ عمارتوں ‘ شاہراہوں اور آثار کے نام بدلے جا رہے ہیں جن کے ساتھ مسلمانوںکا نام وابستہ ہے یا جن کے نام مسلمانوں کے دورِ حکومت کی یاد دلاتے ہیں۔ عالمی ضمیر کے سامنے تاریخ کو مسخ ہونے سے بچانے کا مقدمہ پیش کرنے کی ذمہ داری پاکستان کی ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کی تاریخ مشترک ہے۔

متعلقہ خبریں