Daily Mashriq

درست فیصلوں کا وقت

درست فیصلوں کا وقت

کرتارپور کی راہداری کھولنا ایک بہت بڑا اقدام ہے ۔ کتنی ہی باتیں ہیں جو اس حوالے سے سُننے میں آرہی ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیںکہ چند مہینوں کی بات ہے ۔ ہندوئوں کی نفرت سے تو کسی صورت بھی چھٹکارا ممکن نہیں۔ ایک بار راہداری کھولی جائیگی تو زائرین کی صورت میں وہ لوگ بھی آئینگے جو پاکستان میں شر پھیلانا چاہئیںگے ۔جن کے لیے پاکستان سے نفرت ہی زندگیوں کا ماحاصل ہے ۔ جو پاکستان کو نقصان پہنچا کر خوش ہیں۔ یہی لوگ آج کل ہندوستان میں حکومت چلا رہے ہیں جو تعصب کے نعروں کی چھائوں میں منتخب ہوئے ہیں ۔ جن کو بھارت کے اپنے بڑے صحافی خشونت سنگھ جیسے لوگ ناسور قرار دیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ یہی لوگ اور ان کے تعصبات ایک دن بھارت کے زوال کا سبب بنیں گے ۔ انہی لوگوں نے ہمیشہ نفرتوں کو ہوادی ہے اور آج بھی یہ ہر مثبت قدم کو نفرت کی جانب گامزن کرنے کے لیے کارگر رہیں گے ۔ کرتارپورکی راہداری کھولنا اس خطے میں محض امن وآشتی کا پیغام ہی نہیں پاکستان کے صلح جو رویئے کا اعلان ہی نہیں بلکہ ایک نئی سمت میں پہلا قدم ہے ۔ ایک ایسی سمت جس میں اس علاقے کے لوگ بقائے باہمی کی جانب راغب ہونگے ۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جسکی عادت ہی اب ان لوگوں کو نہیں رہی ۔ یہ علاقہ بہت عرصے سے بہت سی فوجوں اور حکمرانوں کی گزرگاہوں کا حصہ رہا ہے ۔ اس علاقے میں موجود خزانے ، ارد گرد کے علاقوں کے بادشاہوں کی نگاہوں کا مرکز بھی رہے اس سب کے باعث اس علاقے کے لوگوں نے کئی دوسری قومیتوں کو خوش آمدید کہنا اور ان کے ساتھ زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سیکھا لیکن وہ لوگ جنہیں ،مغلوب کیا جاتا ہے وہ اپنے دلوں میں کینہ ضرور پالتے ہیں ۔ ایک عرصہ ان لوگوں کی کمزوری اور بزدلی کے باعث ، اس علاقے سے باہر سے آنے والے لوگ انہیں مغلوب تو کر لیتے تھے لیکن اس کمزوری نے کہنے کی جس بلغم کو جنم دیا اس کا کوئی علاج ممکن نہیں ۔ بی جے پی کی حکومت دراصل اس پرانی کدورت کی مجسم شکل ہے ، کئی بار تو خود انہیں بھی معلوم نہ ہوتا ہوگا کہ ان کے سینوں میں بل کھاتی ، کھڑکھڑاتی اس نفرت کی اصل وجہ کیا ہے وہ تھوکتے بھی رہتے ہیں اور ان کے سینے صاف نہیں ہوتے ۔ یہ صدیوں کا دُکھ ہے جس نے ان کے مزاج میں گھر کر لیا ہے۔ اس راہداری سے صدیوں کی اس کدورت کا اُپائے تو ممکن نہیں لیکن ایک تازہ ہوا کا جھونکا ضرور ہے ۔ لوگ ہر جانب سے اپنی آراء کے طوفان باندھ رہے ہیں ۔ کسی کے لیے یہ سب منفی ہے جس کا نتیجہ منفی ترین ہونے والاہے جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ اس اقدام سے بے شمار اثبات جنم لے گا ۔ معیشت کی صورتحال بھی بہتر ہوگی سیاحت کا راستہ کھلے گا تو ملک میں معاملات میں بہتری اپنے آپ پیدا ہو جائے گی۔ وہ بھی درست کہتے ہیں اور وہ جنکے دلوں میں خدشات پنپ رہے ہیں ، ان کی بات بھی کچھ غلط نہیں لیکن جب تک کسی منزل کی جانب قدم نہ بڑھایا جائے گا ، کیسے معلوم ہوگا کہ سفر کتنا ہے اور کیسا کٹھن ہے ، کون کہے گا کہ اسے طے کیسے کرنا ہے اور راستے کی کٹھنائیاں کیسے پاٹنی ہیں ۔ اب کب تک اسی دشمنی اور عداوت کو سینے سے لگائے بیٹھے رہیں گے ۔ اس بات سے مفرکہاں ممکن ہے کہ اس دنیا کی ایک بہت بڑی حقیقت معاشی حقیقت ہے اور زندگی کے تمام بڑے تانے بانے اس سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اس حقیقت کے ادراک نے آپس میں دشمنیاں رکھنے والے ملکوں کو یہ سمجھ بوجھ عطا کی ہے کہ وہ اپنے نظریاتی اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی ، اس کی زد میں معیشت کو کبھی نہیں آنے دیتے تبھی تو چین اور بھارت کے درمیان بھی تجارت ہے اور چین اور امریکہ کے درمیان معیشت کا تعلق اتنا مضبوط ہے کہ امریکہ چین کا قرض دار ہے ۔ دنیا کے معاملات گنجلک ہیں ، انہیں اب سمجھ لینا ہی پاکستان کے لئے بہترہے۔ پاکستان کے حصے میں کرتار پور، پنجہ صاحب اور راج کٹاس ہیں۔ ان کی اہمیت مکمل طور پر سچا بننے کی ضرورت ہے ۔ مذہبی وابستگیوں کے بھی معاشی اشارے ہوتے ہیں۔ انہیں خاموشی سے صرف نظر کرنے میں کوئی عقلمندی نہیں۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے مضامین تو ہم نے سکولوں میں بہت لکھے ، اب انہیں سمجھنے اور ان کی قیمت وصول کرنے کا وقت ہے۔ ایک جانب وسط ایشیائی ریاستیں ہمارے گرم پانی کی بندر گاہوں کے لیے بے تاب ہیں ، دوسری جانب چین کو گوادر سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا راستہ چاہیئے اور تیسری جانب یہ ورثہ ، سب مل کر پاکستان کو ہیرے کی عمارتیں اور سونے کی سڑکیں سے سکتے ہیں ۔ اس وقت صرف سمجھداری کی ضرورت ہے۔ ہماری نظریاتی بنیاد اب مضبوط ہوچکی، معیشت کی مضبوطی اسے اور بھی ٹھوس کردے گی۔ اب درست فیصلے کرنے کا وقت ہے ورنہ یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔

متعلقہ خبریں