Daily Mashriq

دیر آید درست آید

دیر آید درست آید

اسلامی نظریاتی کونسل نے کفر وقتل کے فتوے دینے والوں کی سزائیں بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے تعزیرات پاکستان میں موجود متعلقہ قوانین میں ترامیم کی تجاویز پارلیمان کو بھجوانے کے لئے اقدامات پر رضا مندی دی ہے۔ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین اس امر پر متفق ہیں کہ کسی کو واجب القتل قرار دینا یا کافر کہنا کسی فرد یا گروہ کا کام نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں کونسل کو نظر انداز کیاگیا۔ کونسل کے فعال ہونے سے مذہبی منافرت اور افراتفری دور ہوگی۔ صد شکر کہ کسی ریاستی ادارے کو اس امر کا احساس ہوا کہ فتوئوں کے کاروبار سے اس ملک‘ اسلام اور عوام کو کتنا نقصان پہنچ چکا ہے۔ اصولی طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو اس حوالے سے قانون سازی کے لئے اپنی سفارشات بہت پہلے پارلیمان کو بھجوا دینی چاہئے تھیں بہر طور دیر آید درست آید اب یہ امید کی جانی چاہئے کہ اصلاح احوال کے لئے شروعات میں تاخیر نہیں ہوگی۔ قتل و کفر کے فتوے عدم برداشت اور تعصبات سے بھرے مذہبی نصاب ہائے تعلیم سے رزق پاتے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ خود اسلامی نظریاتی کونسل میں ماضٗی میں کچھ ایسے لوگ بھی رکن رہے جو تکفیر کو نہ صرف درست سمجھتے تھے بلکہ خود بھی دوسروں کی تکفیر کرتے دکھائی دئیے۔ مذہبی منافرت اور افراتفری کی تاریخ اور وجوہات کسی سے پوشیدہ نہیں بد قسمتی سے امن و بھائی چارے کے دشمن گروہوں کی غیر جمہوری ادوار میں ریاستی سرپرستی ہوئی۔ اقتدار پر طاقت کے زور پر قابض قوتوں نے ان گروہوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ وہ ادوار تو تمام ہوئے لیکن تعصب و عدم برداشت کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس امر پر د و آراء نہیں کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل پارلیمان اور عدلیہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآمد ہوں تو مختصر عرصے میں سماجی وحدت کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جو اس ملک کے ہر عام شہری کا خواب ہے۔ کونسل امن و وحدت دشمن نظریات کی بیخ کنی کے ساتھ قوانین سازی کے لئے پارلیمان کو سفارشات بھجوائے پارلیمان قانون سازی کرے اور عدلیہ اس امر کو یقینی بنائے کہ قانون پامال کرنے والا شخص قرار واقعی انجام سے دو چار ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر چند ماہ بعد اس حوالے سے تشویش کااظہار کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کے راستے کی رکاوٹوں کو تلاش کرکے دور کیا جائے۔ انتہا پسندی کو افرادی قوت معاشرے کے غریب ترین طبقات سے ملتی ہے۔ غربت کے خاتمے اور شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے ساتھ ریاست فرد کی تعلیم و تربیت ‘ طبعی سہولتوں اور روز گار کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ مختلف مسالک کے مدارس میں پڑھائے جانے والے نصابوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ ان نصابوں میں دیگر مسالک کی تکفیر پر مبنی مواد ختم کیا جائے۔ نصاب ہائے تعلیم کو قدیم و جدید علوم کی روشنی میں از سر نو مرتب کیا جائے تاکہ دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنے ولے طلباء بھی معاشرے کے لئے کار آمد شہری ثابت ہوں۔ بلا اجازت مدارس کے قیام پر پابندی کے قانون کو فعال بنایا جائے۔ مناظرہ بازی کی حوصلہ شکنی ہو اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ دستور میں دی گئی شہری‘ مذہبی اور سیاسی آزادیوں کے منافی تنظیم سازی نہ ہونے پائے۔تکفیر و تشد کے رجحانات کو پروان چڑھانے والے اداروں اور تنظیموں کے خلاف ریاستی قانون کے تحت کارروائی کی جائے منفی سر گرمیوں کی وجہ سے جن تنظیموں پر ماضی میں پابندیاں لگیں ان سے متعلق افراد کو نئے ناموں کا از سر نو جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔ تعلیمی کمیشن کے ساتھ تاریخ کی از سر نو تدوین کے لئے بھی کمیشن قائم کیا جائے۔ اس حوالے سے یہ بات خصوصی طور پر مد نظر رکھنا ہوگی کہ مذاہب کی تاریخ تو ہوتی ہے مگر تاریخ کا مذہب نہیںہوتا۔ اسی طرح ریاست کا کسی ایک مذہب و مسلک کی طرف جھکائو اس کے اجتماعی کردار اور ذمہ داریوں کے آڑے آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے سے موجود قوانین پر بلا امتیاز عمل ہو اگر کوئی سقم موجود ہے تو قانون ساز اسے دور کریں۔ مکرر عرض ہے ‘ ایک ایسا ملک جو کثیر القومی شناختوں کے پس منظر کا حامل ہو اس تکفیر اور فتوے بازی کے کاروبار نے تعمیر و ترقی کے اہداف حاصل کرنا نا ممکن بنا دیا ہے۔ انتہا پسندی مذہبی ہو یا سیاسی یا کسی اور برانڈ کی اس کے تدارک کے لئے قانون سازی اور قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل بہت ضروری ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس امر کو بھی یقینی بنائے کہ شرعی امور میں فتاویٰ کا اجراء باقاعدہ تسلیم شدہ ہو ہر ہما شما کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ شرعی امور کے حوالے سے فتویٰ جاری کردے۔ بار دیگر عرض ہے کہ گمبھیر صورتحال پر اسلامی نظریاتی کونسل کی تشویش بجا ہے تکفیر اور فتوئوں کے کاروبار سے پچھلے چالیس برسوں کے دوران بہت نقصان ہو چکا یہ امر بھی سبھی پر عیاں ہے کہ قتل کے درجنوں مقدمات کے نامزد و اعترافی مجرموں کو طویل عرصہ تک سزائیں نہیں ہوسکیں بلکہ خوف اور سمجھوتوں کی بدولت ا ن کی رہائی کا بندوبست بھی ہوتا رہا۔ بہر طور لکیریں پیٹنے کی بجائے دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں اس امر پر بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں علماء کے ساتھ اہل دانش اور قانون سازوں کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ کونسل اپنے معاونین میں دیگر مذاہب کے رہنمائوں کو بھی نمائندگی دے تاکہ اسلامی معاشرت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے سماج کے قیام کی طرف بھی پیش رفت ہو جس میں مختلف مذاہب کے پیرو کار ان کے درمیان مثالی ہم آہنگی پروان چڑھ سکے۔ مذہبی منافرت اور افراتفری اسی طور ختم ہوسکتے ہیں جب سیاست اور سیاسی جماعتیں مخالفین کی سرکوبی کے لئے انتہا پسندوں کو تحفظ کی چھتری فراہم کرنے سے اجتناب برتیں۔

متعلقہ خبریں