Daily Mashriq


ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

پرفیسر کوری نے میز پر بم بنانے کے فارمولے کے اجزاء ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ وہ ایسا بم بنانا چاہتا تھا جس کے پھٹنے سے ہونیوالی تباہی کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ اس کے دل اور دماغ میں تباہی اور بربادی کا جو خناس سمایا ہوا تھا اس نے اسے پاگل بنا رکھا تھا۔ جب میں اس ہولناک بم کو بنانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ دنیا میری مٹھی میں بند ہوجائے گی سارے طاقت ور لوگ میری انگلیوں کے اشارے پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں بن جائیں گے۔ میں راتوں رات اتنا امیر بن جاؤں گا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتی۔ پروفیسر کوری یہ گھمنڈ بھری باتیں اپنی بہن مسز میلڈن سے کر رہا تھا اور مسز میلڈن اس کی یہ شیخیاں یا شیخ چلی کے خوابوں جیسی باتیں سن کر اپنے وجودکے اندر ہی اندر بل کھارہی تھی ، زہر لگ رہی تھیں اس کو اپنے اکلوتے بھائی پروفیسر کوری کی یہ تباہ کن باتیں۔ بس کرو خاموش ہوجاؤ۔ میرا سر پھٹا جارہا ہے تمہاری یہ بے ہودہ باتیں سن سن کر۔ ارے ارے ارے بم تو ابھی بنا نہیں۔ تمہارا سرکیوں پھٹنے لگا ابھی سے۔ یہ شگون ہے علامت ہے اس بم کے خوف کی جو اس کا نام سن کر لوگوں کو تھر تھر کانپنے پر مجبور کردے گا صرف اور صرف تمہاری طرح مسز میلڈن۔ پروفیسر کوری نے بڑے گھمنڈ سے کہا۔ تم اچھا نہیں کر رہے کوری۔ تم دشمن ہوبنی نوع انسان کے۔ ماردینا چاہتے ہو ہنستے بستے لوگوں کو۔ تمہیں اس بات کا بھی احساس نہیں رہا کہ تمہارا بھانجا۔ میرا جگر گوشہ۔ میرا بے گناہ بیٹا ایڈی بھی ایک بم دھماکے میں اپنی جان گنوا کر مجھ غمزدہ کو روتا چھوڑگیا۔ پروفیسر کوری کو مسز میلڈن کی یہ باتیں سن کر یوں لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

کوری مسزمیلڈن کی اس حالت زار پر اوپر تلے شیطانی قہقہے لگانے لگا۔ اور قہقہہ در قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ نہیں روک سکتیں تمہاری یہ جذباتی باتیں اور چھم چھم برستے ٹسوے مجھے اپنے ارادے سے۔ میں نے بم بنانا ہے اور بنا کر رہوں گاوہ بم جو میری زندگی کا بہت بڑا مقصد ہے۔ بڑی محنت کوشش اور جان کو جوکھوں میں ڈال کر حاصل کئے ہیں میں نے یہ کیمیکلز جو باعث بنیں گے میری عزت دولت اور شہرت کے۔ دیکھوں گی کیسے بناتے ہو تم یہ بم۔ مسز میلڈن نے اتنا کہا اور آگے بڑھ کر الٹ ڈالا اس میز کو جس پر بم بنانے کے آلات اور کیمیکلز پڑے ہوئے تھے۔ مسز میلڈن بولی جس کے جواب میں پروفیسر کوری کے شیطانی قہقہوں کی آواز میں ایک قہردر آیا۔ دفع ہوجاؤ پاگل عورت تم کیا سمجھتی ہو کہ اس طرح کرنے سے تم مجھے روک لو گی بم بنانے سے ۔ ارے تم نے جو یہ میز الٹی ہے اس سے کچھ اثر نہیں پڑا میرے اس دماغ کی صحت پر جس میں محفوظ پڑا ہے اس ہولناک بم بنانے کا فارمولا۔ دیکھتا ہوں کیسے روکتی ہو مجھے تم یہ بم بنانے سے۔ کوری نے اتنا کہنا تھا کہ مسز میلڈن نے قریب ہی پڑا خنجر اٹھایا اور پے در پے وار کرکے اپنے سگے بھائی کو ڈھیر کردیااس نے۔ بہن نے بھائی کو مارڈالا اور بزعم خود اس نے بچالیا انگنت لوگوں کو پروفیسر کوری کے اس تباہ کن بم کا شکار ہونے سے جس کو بنانے کا جنون یا سودا سمایا ہوا تھا اس کے سر میں اس کے دماغ کا مالیخولیاء بن کر۔ یہ بم کہانی ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی کی درسی کتابوں میں دئیے گئے ’ون ایکٹ پلے‘ میں پڑھی تھی جو ہمارے گنبدلا شعور میں ایک سند بن کر محفوظ رہ گئی تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے۔ زیرنظر کالم میں ہم ہوبہو مکالمے تو پیش نہ کرسکے لیکن اپنے تئیں بات سمجھانے کی خاطر جو ذہن میں آیا لکھ دیا۔ اور یہ سب کچھ پیش کرنے کی وجہ یا سبب تحریر آج 30 نومبر کا یہ دن ہے کہ آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں کیمیائی جنگ کے متاثرین کی یاد منائی جارہی ہے۔ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو انسانی جان کا دشمن ہر آتشیں ہتھیار کیمیائی ہتھیار کہلا سکتا ہے۔ لیکن یہ اصطلاح ان ہتھیاروں کے لئے استعمال ہورہی ہے جن میں تیزاب جیسے تباہ کن سیال مادوں اورقاتل گیسوںجیسا مہلک مواد شامل ہوتا ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف وہی عالمگیر قوتیں واویلا کر رہی ہیں جو اپنے ہونے کا مقصد ہی جنگ و جدل اور شر و فساد کو قرار دیتی ہیں ، قاتل ہیں جابرہیں فسادی ہیں وہ طاغوتی قوتوں والے جو اپنے سے کمزور یا اپنے مد مقابل کھڑے ہوجانے والے ممالک کو یہ کہہ کر ان کے خلاف جنگ چھیڑ دیتے ہیں کہ ندی میں بہتا پانی تمہاری طرف سے گدلا ہوکر آرہا ہے۔ یہ بہانہ بنا کر ہڑپ کرڈالا انہوں نے عراق اور شام کی آزادی کو جنگی جنون کے مرض لادوا میں مبتلاء یہ قوتیں جانے کیوں بھول جاتی ہیں ویت نام کی اس حزیمت کو جس کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا، فلسطین ، افغانستان اور کشمیر میں ہونے والے ان مظالم کو جوانکے جنگی جنون کی سچی گواہیاں پیش کرتی نہیں تھکتے ، ہم بھی دنیا کے امن و سکون کو غارت کرنے والے ہر انکل ٹام کی آواز میں آواز ملا کر کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے حق میں بولنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں حیرت ہوتی ہے یہ جان کرکہ چور مچائے شور کا ارتکاب کرنے والے جنگی جنونیوںکواپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا اوروہ دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھ کر ٹوٹ پڑتے ہیں ان پر جن سے وہ لڑنا چاہتے ہیں ، شاید ایسے لوگوں کے ان نازیبا رویوں کو دیکھ کرہی کسی دل جلے نے کہہ دیا کہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

متعلقہ خبریں