افغان صوبائی ڈپٹی گورنر پشاور میںلاپتہ

افغان صوبائی ڈپٹی گورنر پشاور میںلاپتہ

ایسے حالات میں جب امریکہ کے وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان سے مخصوص کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا تو امریکہ خود کریگا، افغانستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا بغیر کسی اطلاع کے چپکے سے پاکستان آنا اور پشاور سے لاپتہ ہو جانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ کنڑ کے ڈپٹی گورنر محمد نبی احمدی کے بغیر اطلاع یا دستاویزات کے پاکستان میں آنا اپنی جگہ ایسی بات ہے جو ان کے لاپتہ ہونے کے بارے میں متعدد سوالات کے ابھرنے کا باعث ہے‘ پشاور میں افغانستان کے نئے قونصل جنرل مسٹر معین کا کردار اس واقعے میں اہم ہے۔ اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ ڈپٹی گورنر نبی احمدی بغیر سفری دستاویزات کے پاکستان آئے تھے تاہم قونصل جنرل کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں احمدی کے پشاور آنے کی اطلاع تھی۔ اگر افغانستان کے دفتر خارجہ کو اپنے ڈپٹی گورنر کے سفر پشاور کی اطلاع تھی تو دفتر خارجہ نے انہیں باقاعدہ سفری دستاویزات کیوں جاری نہیں کی تھیں یہ سوال اہمیت رکھتا ہے۔ قونصل جنرل مسٹر معین کا جو بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے اس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ جب قونصل خانہ ڈپٹی گورنر سے کئی بار رابطہ کرنے میں ناکام ہوا تو قونصل خانہ نے نائب گورنر احمدی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع کابل اور پاکستان کے حکام کو دی۔ پہلا سوال یہ اہم ہے کہ جب افغان دفتر خارجہ کو ڈپٹی گورنر کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاع تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کابل حکومت کو احمدی کے پاکستان جانے کی اطلاع تھی۔ اس صورت میں مسٹر معین کے اس بیان کا کس طرح یقین کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کابل انتظامیہ کو ڈپٹی گورنر احمدی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ لہٰذا ان کی اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے حکام کو اطلاع دی۔ ان کے بیان سے یہ بات واضح ہے کہ انہیں ڈپٹی گورنر احمدی کے بغیر پاسپورٹ اور ویزا یا دیگر سفری دستاویزات کے پاکستان میں موجود ہونے کی اطلاع تھی‘ نہ صرف اطلاع تھی بلکہ قونصل خانے کو یہ بھی معلوم تھا کہ احمدی لاپتہ ہونے سے قبل پشاور میں شاہی مہمان خانہ اور بعض دوسرے مقامات پر بھی گئے اور یہ بھی معلوم تھا کہ احمدی نے دیگر کسی ڈاکٹر سے ملاقات طے کر رکھی تھی‘ محمد نبی احمدی افغانستان کے ایک صوبے کے ڈپٹی گورنر ہیں اگر وہ باقاعدہ قواعد وضوابط کے مطابق پاکستان میں داخل ہوتے تو انہیں مناسب پروٹوکول بھی دیا جاتا اور ان کی سیکورٹی کا بندوبست کیا جاتا لیکن افغان سفارتخانے نے اپنے ڈپٹی گورنر کو سفری دستاویزات جاری نہیں کیں اس کی وجہ کیا ہے‘ کہا جا رہا ہے کہ ڈپٹی گورنر کو بعض نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے لیکن اس کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی۔ متعلقہ تھانہ شرقی نے بتایا ہے کہ انہیں کوئی اطلاع نہیں آئی‘ موقع کے گواہوں کے بارے میں بھی لاعلمی کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن اغوا کی خبر ہے تو گواہوں کو بھی علم ہونا چاہئے کم ازکم اس شخص کو سامنے لایا جانا چاہئے جس نے اغوا کی خبر دی۔ قونصل جنرل کا کہنا ہے کہ ڈپٹی گورنر سے باربار رابطہ کی کوشش کے ناکام ہونے پر کابل کو اطلاع دی گئی۔ یہ اطلاع اس وقت کیوں نہ دی گئی جب قونصل خانے کو معلوم تھا کہ ڈپٹی گورنر غیر قانونی طور پر پاکستان میں ہیں اور پھر یہ کیسے ممکن تصور کیا جاسکتا ہے کہ ڈپٹی گورنر کے غیر ملکی سفر سے کابل حکومت بے خبر ہو۔ یہی کہا جا رہا ہے کہ ڈپٹی گورنر محمد نبی احمدی گردے کے علاج کیلئے پشاور آئے تھے اگر ایسا ہی ہے تو وہ آتے ہی کلینک میں صاحب فراش کیوں نہ ہوگئے وہ شاہی مہمان خانے اور قینچی چوک میں کس کی تلاش میں گئے، کس کس سے ملے‘ جب قونصل خانے کو یہ معلوم ہے کہ احمدی ڈاکٹر سے ملاقات سے پہلے متذکرہ بالا مقامات پر گئے تھے تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ کس سے ملنے گئے تھے کیونکہ قونصل خانے کے بیان سے واضح ہے کہ ان کا عملہ ڈپٹی گورنر کے تعاقب میں تھا۔کنڑ افغانستان کا وہ صوبہ ہے جہاں آجکل افغان فوج طالبان کے خلاف آپریشن کر رہی ہے‘ کنڑ میں داعش کے عناصر کی موجودگی بھی بتائی جاتی ہے اور ان کے اتحادی تحریک طالبان پاکستان کے عناصر بھی کنڑ میں پائے جاتے ہیں ایسے حالات میں جب ان کے صوبے میں آپریشن جاری تھا‘ ڈپٹی گورنر کو پشاور میں ایسا کونسا ضروری کا م تھا کہ وہ یکایک بغیر سفری دستاویزات کے پشاور آگئے۔ جہاں تک ان کی صحت کی صورتحال کا سنا ہے اگر یہ مخدوش ہوتی تو وہ جگہ جگہ ملاقاتیں نہ کرتے پھرتے۔ محمد نبی احمدی کا تعلق حزب اسلامی سے ہے ۔ جب سے حزب کے لیڈر گلبدین حکمتیار نے کابل حکومت سے سمجھوتہ کیا ہے حزب اسلامی کے اندر اس اقدام کی مخالفت بھی ہے۔ حزب کے کچھ لوگ غائب بھی ہوچکے ہیں اور کچھ کے قتل ہونے کی بھی اطلاعات آچکی ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ محمد نبی احمدی کے بھائی حبیب احمد کا ٹیلی فون جب سے احمدی لاپتہ ہوئے ہیں خاموش ہے۔ یہ معاملہ تحقیق وتفتیش کی خصوصی کوششوں کا تقاضا کرتاہے تاحال احمدی کے غائب ہونے کے بارے میں کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ کل کوئی گروپ ایسا ہی اعلان بھی کرسکتا ہے جسے کسی شدت پسند گروپ کے پاکستان میں ہونے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ڈپٹی گورنر کی سطح کا شخص کیسے اس طرح پاکستان میں داخل ہوگیا کہ پاکستانی اہلکاروں کو خبر بھی نہ ہوئی۔ احمدی نے کیوں پاکستان میں داخل ہونے کیلئے سفری دستاویزات حاصل نہیں کیں یہ ان کے مقاصد پر منحصر ہے تاہم پاکستانی حکام کیلئے یہ واقعہ پاکستان میں داخل ہونے والوں کی سخت ترین نگرانی اور چیکنگ کا تقاضا کرتاہے۔

اداریہ