Daily Mashriq


’’اختلاف نہیں اختلاف رائے‘‘

’’اختلاف نہیں اختلاف رائے‘‘

سابق وزیر داخلہ اور حکمران مسلم لیگ کے سربرآوردہ لیڈر چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن میں اختلاف نہیں اختلاف رائے ہے اور یہ کہ جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہی ہے۔ یعنی اس اختلاف رائے کے باوجود مسلم لیگ ن متحد سیاسی پارٹی ہے۔ اس اختلاف رائے کا موضوع بھی انہوں نے واضح کر دیا ہے‘ کہا ہے کہ انہوں نے وزارت کی پیشکش اس لئے قبول نہیں کی کہ وہ پارٹی کی عدلیہ اور اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی سے متفق نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو نشانہ بنانا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کیلئے ٹھیک نہیں ہے اور دیگر ریاستی اداروں پر تنقید بھی غیر ضروری ہے اس پریس کانفرنس سے چوہدری نثار علی خان نے اس وقت خطاب کیا جب ابھی یہ واضح نہیں تھا کہ میاں نواز شریف جو نومبر کو احتساب عدالت میں پیش ہونے کیلئے پاکستان آرہے ہیں یا نہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد خبر آئی کہ میاں صاحب2 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ3 نومبر کو عدالت میں پیش ہوسکیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ میاں صاحب نے یہ فیصلہ چوہدری نثار علی خان کے اس خطاب کی بنیاد پر کیا ہے اور اس سے متاثر ہوکر عدلیہ کو نشانہ بنانے کی پالیسی ترک کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ اگر چوہدری نثار کی یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ اس موضوع پر پارٹی میں اختلاف رائے ہے اور اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے تو یہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ اس اختلاف رائے کو طے کرنے کیلئے کس سطح پر کہاں بات ہو رہی ہے۔ ایسا کوئی فورم نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ میاں صاحب کے بھائی شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لئے کہا جا رہا ہے جس کا اعلان میاں نواز شریف کی سیاست سے دیس نکالا ہے اگر یہ اختلاف رائے ہے تو اس کے بارے میں پارٹی کے کسی ادارے‘ مجلس عاملہ یا جنرل کونسل میں بحث ہونی چاہئے جو نہیں ہو رہی ۔ اگر یہ جمہوری اختلاف ہوتا تو یہ اختلا ف رائے مخصوص انداز میں طے کرنے کی بات ہوتی۔ پارٹی کی قیادت میاں شہباز شریف کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی عدلیہ اور اداروں سے محا ذ آرائی تر ک کر دے۔ شہباز شریف کے فرزند جو پنجاب کے پارٹی کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں کھل کر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ عدلیہ اور فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن پارٹی میں ان کی حریف اور میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جو پاکستان میں میاں نواز شریف کی نمائندگی کر رہی ہیں کہہ رہی ہیں کہ میاں صاحب پر تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور احتساب کی بجائے انتقام جاری ہے۔ محض اختلاف رائے نہیں ہے بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہے ان کا یہ کہنا کہ میاں شہباز شریف ان کے ہیرو ہیں اور ان سے وہ بہت محبت کرتی ہیں تو اس کی وجہ سیاسی اتفاق نہیں ہے اور نہ وہ یہ کہتی ہیں اس کی وجہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو بہرحال خاندان میں رکھنے کی خواہش ہے ۔انہون نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کیلئے ان کا انتخاب پہلے ان کے دادا نے کیا پھر ان کے والد نے کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ خاندان مسلم لیگ کو خاندانی اثاثہ تصور کرتاہے۔ یہ سوال اہم ہونا چاہئے کہ اگر مسلم لیگ ن میں کسی اصولی اختلاف رائے پر بات ہورہی ہے تو کیا اس کے نتیجے میں کوئی جمہوری مسئلہ سامنے آئے گا یا خاندانی وراثت ایک بھائی سے دوسرے کو منتقل ہو جائے گی جو مزاحمت کی پالیسی ترک کرکے مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہو ہوجائے گا۔ قرائن سے لگتا ہے کہ میاں نواز شریف تاریخی اہمیت حاصل کرنے کیلئے مزاحمت ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ اگر انہوں نے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی تو اول ان کا سیاسی کردار ختم ہو جائے گا اور دوسرے پارٹی کے جوشیلے لوگ اس وقت مزاحمت کی طرف جھکائو رکھتے ہیں سیاست میں ان کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔ میاں صاحب ان کی حمایت سے بھی محروم نہیں ہونا چاہیں گے۔ ان کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ ن لیگ میں یہ اختلاف آئندہ انتخاب تک جاری رہے اور مفاہمت اور مزاحمت کے حامی دونوں گروہ ن لیگ کا حصہ رہیں لیکن یہ مشکل کام ہوگا۔ مسلم لیگ کا ماضی مزاحمت کا نہیں۔ جونیجو سے نواز شریف سے ن لیگ اور پھر نواز شریف کی طرف لیگیوں کا پلٹنا چشم کشا ہونا چاہئے۔ ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے امیدوار یہ دیکھنا چاہیں گے کہ انہیں کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جو لوگ دونوں طرف گھاٹے کا سودا محسوس کریں گے اور ان کی تعداد کافی ہے وہ ضروری نہیں کہ نواز چھتری پر بیٹھیں یا شہباز چھتری پر وہ کسی اور طرف کا سفر طے بھی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں