دستبرداری اور واپسی

دستبرداری اور واپسی

سیاست سے دستبرداری یا وقتی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ واپسی کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ دستبردار ہونے والے رہنماء نئی اور زیادہ قوت کے ساتھ واپس آئے۔ ماضی بعید کی مثالوں سے قطع نظر کرتے ہوئے ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو ہمیں لینن‘ چرچل‘ جنرل ڈیگال اور امریکی صدر رچرڈ نکسن کی مثالیں ملتی ہیں۔ یہ سب ایک وقت میں ٹھکرائے گئے اور انہوں نے وقتی طور پر سیاست کو خیرباد کہہ دیا مگر جلد ہی یہ دوبارہ نئی قوت کے ساتھ واپس آئے اور زیادہ عوامی پذیرائی ان کے نصیب میں آئی۔

جب چرچل سے 1932ء میں خزانے کے چانسلر کا منصب واپس لیا گیا تو اس جبری استعفیٰ کے بعد یوں لگتا تھا کہ اس کا سیاسی کیرئیر ختم ہو چکا ہے۔ ونسٹن چرچل نے خود لکھا کہ اسے مسترد کیا گیا اور پھینک دیاگیا۔ چرچل کا 57سال کی عمر میں بھی عزم جوان تھا‘ وہ کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کتابیں لکھیں‘ تقریریں کیں اور اپنے آپ کو عوام میں زندہ رکھا۔ آٹھ سال کے بعد 65 سال کی عمر میں جب زیادہ تر لوگ ریٹائرمنٹ لے چکے ہوتے ہیں چرچل سیاسی اکھاڑے میں واپس لوٹ آیا اور اس نے برطانوی وزیراعظم کی حیثیت سے دوسری جنگ عظیم میں یورپ کو قیادت مہیا کی۔ اسے اپنے وقت کا سب سے بڑا آدمی قرار دیاگیا۔
جنرل ڈیگال نے13سال سیاست کو خیرباد کہے رکھا۔ اس نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور کابینہ اجلاس سے اٹھ کر چلا گیا۔ اس کا اعتراض یہ تھا کہ صدر بے اختیار ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب فرانس نے ڈیگال کی قیادت کی وجہ سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا شروع کیا تھا مگر پارلیمنٹ کے مقابلے میں صدارتی دفتر ڈیگال کو کمزور محسوس ہوتا تھا چنانچہ اس نے بجائے کڑھتے رہنے کے صدارت چھوڑ دی۔ اس کا خیال تھا کہ جلد ہی اس کی اہمیت کا سب کو احساس ہو جائیگا لیکن توقع کے برعکس بلاوا نہ آیا۔ 1946 سے لیکر 1958ء تک کے تیرہ سال وہ سیاسی سرگرمیوں سے الگ تھلگ اپنے فارم ہاؤس میں رہا لیکن اس دوران اسے یقین تھا کہ صرف وہی ہے جو فرانس کو ایک مضبوط قیادت فراہم کر سکتا ہے اور پھر وہ وقت آگیا جب الجزائر کے بحران کو حل کرنے میں فرانسیسی حکومت کو انارکی کا سامنا کرنا پڑا، اور قوم کو ڈیگال کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جنرل ڈیگال اپنی شرائط پر واپس آیا اور اگلے گیارہ سال فرانس کی قیادت کی۔ جنرل ڈیگال کی مثال میں ہمارے حکمرانوں کیلئے سیکھنے کی بہت سی چیزیں موجود ہیں ۔
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن 1960ء میں صدارتی الیکشن ہار گئے۔ دو سال بعد 1962ء میں نکسن نے کیلی فورنیا کے گورنر کا الیکشن لڑا اور ہار گئے۔ یہ شکست ایک ایسے شخص کا مقدر بنی جو 1952ء سے لے کر1960ء تک کے آٹھ سال امریکہ کا نائب صدر رہا تھا۔ اس دو شکستوں کے بعد نکسن نے سوچا کہ اس کی سیاست کا باب اب بند ہوچکا ہے۔ اس کے دوستوں کا بھی یہی خیال تھا۔ نکسن نے عملی سیاست کے دروازے پر دوبارہ دستک 1968ء میں دی جب وہ ریپبلکن صدارتی نامزدگی کی دوڑ جیت گیا اور بعد ازاں امریکی صدر بن گیا۔ نکسن لکھتا ہے کہ جب اس کا نام 1968ء کی صدارتی دوڑ کیلئے لیا جانے لگا تو اس سے ایک ٹاک شو میں اس بارے میں سوال ہوا لیکن اس کا جواب تھا کہ وہ مزید چھ ماہ سیاست سے کنارہ کش رہے گا اور یہ عرصہ گزرنے کے بعد اپنے مستقبل کے متعلق کوئی فیصلہ کریگا۔ رچرڈ نکسن نے بعد ازاں صدارتی مقابلہ جیتا اور امریکہ کا صدر بن گیا۔
ماضی قریب سے زمانہ حال میں آجائیے۔ پاکستان میں نواز شریف ہمارے سامنے ایک مثال ہے۔ وہ دس سالہ معاہدہ لکھ کر سیاست کو خیرباد کہہ گئے۔ تجزیہ نگاروں نے لکھا کہ نواز شریف کی سیاست کا باب بند ہو چکا‘ مسلم لیگ ن کے بطن سے مسلم لیگ ق نے جنم لیا اور بیشتر مسلم لیگی نئے بندوبست کا حصہ بن گئے۔ ق لیگی نون لیگیوں سے کہتے تھے کہ ن لیگ کا حصہ بنے رہنا مستقبل تاریک کرنے کے مترادف ہے۔ نواز شریف ایک طویل عرصہ خاموش رہنے کے بعد مگر بتدریج سیاست میں واپس آتے گئے اور 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے۔ شومئی قسمت کہ ان کا سیاسی مستقبل آج ایک بار پھر مخدوش دکھائی دیتا ہے۔ نواز شریف پر قسمت ویسے ہمیشہ مہربان رہی ہے مگر انہوں نے ہر بار غلطیاں کیں اور بار بار اقتدار ملنے کے باوجود وہ ملک وقوم کیلئے کچھ نہ کرسکے۔ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی فیصلہ سازی کا محور ملک وقوم کے مفاد سے زیادہ اپنا ذاتی اور سیاسی مفاد ہوتا ہے۔ مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضے کی ضرورت دوبارہ آن پڑی تھی اور تجزیہ نگار ومعیشت دان یہ بات کہتے تھے کہ اگر نواز شریف اور آصف علی زرداری اپنی بیرون ملک پڑی دولت پاکستان واپس لیکر آئیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ ملک میں آصف علی زرداری کی حکومت تھی لیکن انہوں نے اپنی حکومت کے ہوتے ہوئے بھی گوارا نہ کیا کہ اپنی دولت پاکستان لے آئیں۔ نواز شریف بھی خاموش رہے اور انہوں نے بھی کوئی پیشکش نہ کی۔ آج حسن نواز اور حسین نواز بیرونی ممالک میں ایک بڑا کاروبار کرتے ہیں اور نیب ریفرنس میں ان کا جواب ہے کہ ان پر پاکستانی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔ وہ اور لوگ ہوتے ہیں جو پورے قد سے کھڑے ہوتے ہیں اور سینہ تان کر ملک وملت کا رہنما ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ رہنماء سیاست سے دستبردار ہوتے ہیں تو نئی قوت کیساتھ واپس لوٹ آتے ہیں۔ قسمت ان پر مہربان ہوتی ہے تو وہ تقدیر کا قرض چکا دیتے ہیں۔ یہ تاریخی بدقسمتی بھی ہمارے حصے میں آئی کہ قسمت ایک شخص پر مہربان ہوئی مگر وہ پہلے سے زیادہ خود غرض ثابت ہوا‘ ایسا خود پرست اور خود غرض کہ ملکی مفاد پر سمجھوتے کرنے کے الزام اس پر لگے۔

اداریہ