امریکی مطالبات اور وفاق کی صوبوں سے مشاورت

امریکی مطالبات اور وفاق کی صوبوں سے مشاورت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے پاکستان بارے ایسا لب ولہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں جو اکـثر بھارتی سیاستدان کرتے رہتے ہیں یعنی پاکستان کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اپنا کام نکالا جائے، ڈونلڈ ٹرمپ کی انہی پالیسیوں کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا ہے حالانکہ امریکی افواج، سی آئی اے اور پینٹاگون جیسے ادارے پاکستان کی سیاسی وفوجی قیادت کے سامنے بار بار وضاحتیں کر رہے ہیں کہ امریکا کبھی بھی پاکستان کے خلاف نہیں جائے گا۔ امریکی پالیسیاں پاکستان کی دوست ہیں اور کسی بھی طور پر پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کی حیثیت ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان کی فوجی امداد جاری رہے گی یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

حال ہی میں کینیڈا کا ایک شادی شدہ جوڑا پاک فوج نے افغانستان کی سرحد سے بازیاب کرایا۔ آپریشن کے روز تو افغانستان میں چھپے ہوئے جنگجو فرار ہوگئے لیکن دوسرے روز جیسے ہی پاک فوج کا ایک دستہ دہشت گردوں کی تلاش کے لئے نکلا تو وہاں بارودی سرنگ سے فوجی گاڑی ٹکرانے سے کیپٹن سمیت چار اہلکار شہید ہوگئے۔ تب امریکا، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور دنیا اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ پاکستان نائن الیون سے لے کر اب تک صرف قربانیاں دیتا آرہا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک پاکستان کی تعریف کرنے کے لئے فی الحال ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں اس وجہ سے پاکستان نے بھی اب اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ اب اس کی تازہ ترین مثال سامنے آئی ہے وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتوں کا ایساف اور امریکا کے فوجی سازو سامان کی افغانستان سے امریکا اور امریکا سے افغانستان لے جانے اور لے آنے کے لئے معاہدہ ختم ہوچکا ہے اب یہ بتایا جائے کہ اس معاہدے میں ترمیم یا توسیع کی جائے یا نہیں؟ صوبے اس بارے میں اپنی رائے دیں تاکہ وفاقی حکومت اس ضمن میں حتمی فیصلہ کرکے معاہدہ کی توسیع یا ترمیم کرسکے۔
پہلے جب نائن الیون کے بعد پاکستان میںامریکی مطالبے پر فوجی اڈے امریکا کو دئے گئے توکراچی بندرگاہ سے افغانستان تک فوجی وغیر فوجی سازو سامان آنے، جانے میں صوبوں سے نہیں پوچھا جاتا تھا لیکن جیسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے تو حکومت پاکستان نے بھی پالیسی تبدیل کردی ہے اب صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صوبوں میں سڑکوں کی تباہ حالی کے لئے بھی امریکا سے انفراسٹرکچر ٹیکس طلب کریں اورمطالبہ کریں کہ امریکا چمن سے کراچی تک اور طورخم سے کراچی تک موٹر وے تعمیر کرے اور چاروں صوبائی پولیس کو دس ہزار سے زائد پولیس موبائل یا پولیس وین فراہم کرے تاکہ پولیس امریکی سازو سامان کی سکیورٹی بہتر کرسکے پولیس بکتر بند گاڑیاں بھی طلب کی جائیں۔اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے لئے بلٹ پروف جیکٹس، اچھا اسلحہ اور ٹریننگ طلب کی جائے۔ پہلی دفعہ صوبوں سے رائے لیکر امریکا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جیسے امریکا میں ریاستیں خود مختار ہیں اس طرح پاکستان میں بھی صوبوں کو زیادہ خود مختاری حاصل ہے اور وہ اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ چاروں صوبوں سے امریکی فوجی وغیر فوجی سازو سامان افغانستان آتا جاتا ہے اس لئے صوبوں کی سڑکیں اور سکیورٹی استعمال ہوتی ہے جب سڑکیں بڑے ٹرکوں اور ٹرالر سے تباہ ہوں گی تو صوبے یہ مطالبہ کریں گے کہ ان کے صوبے سے اگر امریکی ٹرک آئیں اور جائیں گے تو پھر امریکی حکومت ان کے صوبے کی سڑکیں بھی تعمیر کرکے دے، بس یہی وہ وجہ ہے کہ وفاقی حکومت مجبور ہے کہ صوبوں کی جب تک رائے مثبت نہیں آئے گی امریکا کے ساتھ اس معاہدہ میں ترمیم یا توسیع نہیں ہوسکتی اور امریکا کو بھی پتہ ہے کہ یہ فیصلہ صرف وفاقی حکومت کا نہیں ہے اس میں سیاسی وفوجی قیادت اور صوبوں کی رائے ضرور شامل ہے۔ اب صوبوں نے اپنی رائے تیار کرنا شروع کردی ہے اور امید ہے کہ ایک ماہ میں یہ رائے تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھیجی جائے گی۔ پھر چاروں صوبوں کی رائے کو یکجا کرکے ایک جامع رپورٹ تیار کی جائے گی اور امریکی حکام کے سامنے رپورٹ کے نکات اٹھائے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ صوبوں کی رائے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، وہ چاروں صوبائی حکومتوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں، اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں یا پھر اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اپنی پالیسی میں چاروں صوبوں کو شامل کر کے امریکا کو سخت پیغام ضرور دیا ہے لیکن یہ موقف مستقبل میں بھی اختیار کیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ اگر ملکی مفاد میں کوئی پالیسی بنائی گئی تو اس پر چند روز یا چند ماہ ہی عمل درآمد ہو پایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک امریکا تعلقات بارے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جائے جس میں ملک کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں شریک ہوں اور غور وخوض کے بعد ایسا لائحہ عمل وضع کیا جائے کہ پھر اس کے بعد ہم امریکہ کے سامنے کبھی بھی سر نہ جھکائیں بلکہ دونوں ممالک کے مابین برابری کی بنیاد پر تعلقات ہوں، اہم بات یہ بھی ہے کہ قدرت نے ہمیں امریکہ کے تسلط سے باہر نکلنے کا بہترین موقع دیا ہے اگر ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک کو امریکی چنگل سے باہر نہ نکالا تو ہمارا حشر بھی افغانستان سے مختلف نہ گا۔

اداریہ