مسلم لیگ ن کی سیاسی ساکھ

مسلم لیگ ن کی سیاسی ساکھ

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں مسلم لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے زبان زد عام قیاس آرائیوں کی اگرچہ مریم صفدر، شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی کھل کر تردید کرتے رہے ہیں لیکن ان باتوں کو محض قیاس آرائی قرار دے کر اس کی حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کیونکہ تہمینہ شہباز کی حالیہ ٹویٹس اور حمزہ شہباز کے انٹرویو اور بیانات سے واضح طور پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر صف بندی کا عمل جاری ہے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مریم صفدر کی قیادت کے بارے میں پہلے ہی اعتراضات کرتے ہوئے سنجیدہ سوالات اٹھا چکے ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں ریاستی اداروں سے محاذ آرائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ رہی سہی کسر سینئر سیاستدان وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے میاں شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی تجویز پیش کرکے پوری کر دی ہے۔ ریاض حسین پیرزادہ کی اس تجویز پر توقع کے مطابق مخالفانہ ردعمل سامنے نہیں آیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر، اراکین پارلیمنٹ اور سرگرم متوالے موجودہ معروضی حالات میں میاں شہباز شریف کو متبادل قائد کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور انہیں یہ احساس ہوگیا ہے کہ ان کا شیر اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ میاں نواز شریف کا سیاسی مقدمہ کمزور ہوچکا ہے۔ وہ طویل سیاسی اننگ کھیل چکے ہیں ان کی اخلاقی ساکھ متاثر ہو چکی ہے اور ان کا خاندان ایسے سنگین مقدمات میں پھنس چکا ہے جن سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا۔ میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف احتجاج کرکے اپنے خاندان اور ریاستی اداروں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جسے پاٹنا بہت مشکل ہوگا۔ پاکستان کے دشمن مودی کے ساتھ میاں صاحب کی ذاتی دوستی کسی پاکستانی کو قبول نہیں ہے اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کوعوام کی اس خواہش کا پوری طرح ادراک ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتاکہ نواز شریف ایک طرف عدالت میں پیشیاں بھی بھگتتے رہیں اور اپنی انتخابی مہم کی فعال قیادت بھی کر سکیں۔ بہت سے مسلم لیگی رہنما پارٹی کے کسی ایسے رہنما کی سربراہی میں انتخاب لڑنے سے ہچکچاہٹ محسوس کریںگے جس کا اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہو۔ اس صورتحال میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدکی یہ بات کسی حد تک درست معلوم ہوتی ہے کہ مسلم لیگ کے ارکان قومی اسمبلی کی بڑی تعداد مسلم لیگ کو خیر باد کہنے کو تیار بیٹھی ہے، مسلم لیگ ن کو خیرباد کہنے کے لئے پرتولنے والے رہنماؤں کاموقف یہ ہے کہ جمہوری اصولوں اور اخلاقی روایات کا تقاضا یہ ہے کہ میاں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے علامتی رہبر رہیں اور پارٹی کی قیادت ایسے لیڈر کو سونپ دیں جو اسٹیبلشمنٹ کو قبول ہو اور وہ نہ صرف انتخابی مہم کی قیادت کر سکتا ہو بلکہ شریف خاندان کو افسوسناک انجام سے بچانے کے لئے معاونت بھی کر سکتا ہو۔

معروضی حالات میں میاں شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے فطری آئیڈیل صدر ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ پنجاب میں مقبول ہیں ان پر کرپشن کے سنگین الزامات نہیں ہیں جب بھی ان پر کسی نے انگلی اٹھائی انہوں نے غیر معمولی عزم ویقین سے چیلنج کیا کہ ان کے خلاف ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو ان کی وفات کے بعد بھی ان کی لاش کو قبر سے نکال کر بجلی کے کھمبے سے لٹکا دیا جائے جبکہ میاں نواز شریف کے پاس کرپشن کے الزامات کا کوئی ٹھوس دفاع نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف پر ’’بھارت نواز‘‘ ہونے کا الزام بھی نہیں لگایا جاتا۔ ان کے پاکستان سے باہر بظاہر کوئی اثاثے نہیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اگر اخلاقی طور پر مفلوج، عدالتی طور پر نااہل اور فرد جرم کے حامل لیڈر کی قیادت میں انتخابی میدان میں اتری تو اس کے خلاف نفرت کی لہر بھی اٹھ سکتی ہے جو مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے لئے بڑی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اگر میاں نواز شریف مسلم لیگ کے مفاد کو نظر انداز کرنے اور قیادت پر براجمان رہنے پر بضد رہے تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وفاق میں اگلی حکومت مسلم لیگ ن نہیں بناسکے گی۔ موجودہ صورت حال میں دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنی انا اور ضد کو ترک کردیں۔ زمینی حقائق کا درست ادراک کریں۔ ریاستی اداروں سے تصادم اور محاذ آرائی سے گریز کریں اور اپنی پارٹی کے لیڈروں کو بغاوت پر مجبور نہ کریں۔ نواز شریف کو اس بات کو سمجھنے کی کوشش کہ ان کی عملی سیاست کے امکانات اب مخدوش ہوچکے ہیں اور وہ جماعت کے علامتی سربراہ کے طور پر ہی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اب وہ جس جگہ پہنچ چکے ہیں وہ پارٹی کی قیادت اپنی بیٹی کو منتقل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ دو سال سے ملکی سیاست میں جو کھچڑی پک رہی ہے بالخصوص میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے جو نامساعد حالات ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ایک بار پھر ہمیں ٹریک سے اتار دیا گیا ہے جس میں بلاشبہ ملک وقوم کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ اگر سیاستدان نااہل بھی ہوتے ہیں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا وجہ یہ ہے کہ سیاستدانوں کے ملک سے باہر بے پناہ اثاثہ جات موجود ہیں اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ سیاستدانوں پر جب بھی کڑا وقت آیا یہ ملک سے باہر چلے گئے اور جب حالات سازگار ہوگئے تو اقتدار کیلئے دوبارہ ملک لوٹ آئے۔گو میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے لیکن عوام میں کرپشن بارے جس طرح کی بیداری اور شعور آنا چاہئے تھا وہ شعور کہیں بھی نظر نہ آیا۔ من حیث القوم یہ ہمارے لئے لمہ فکریہ ہے۔

اداریہ