سرکاری دفاتر کے فوائد

سرکاری دفاتر کے فوائد

دفاتر کے حوالے سے بہت کچھ سننے کو ملتا ہے لوگوں کی ایک کثیر تعداد دفتر کے کام سے نالاں نظر آتی ہے بہت سے لوگ ہر روز فائلوں کا ایک بنڈل گھر اٹھا کر ساتھ لے آتے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بھائی دفتر کا کام دفتر میں ہی ختم کرنا چاہیے آپ دفتر کی پریشانیوں کو گھر لاکر اپنے آپ کو مزید پریشانیوں میں مبتلا کردیتے ہیںتو وہ کام کی زیادتی کا روناروتے ہوئے کہتے ہیں کیا کریں کام ہی اتنا زیادہ ہے کہ مجبوراٌفائلیں گھر لانی پڑتی ہیں۔دفتر کے حوالے سے ہمارے تجربات زرا وکھری ٹائپ کے ہیں! دفتر ہماری پسندیدہ جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آپ بلا خوف و خطر بغیر کسی پریشانی کے کسی بھی دوست رشتہ دار سے گھنٹوں فون پر بات چیت کرسکتے ہیںضروری نہیں کہ کسی اہم مسئلے پر ہی تبادلہ خیال کیا جائے آپ کسی بھی موضوع پر بے تکان بولتے چلے جائیے یہ بات چیت کسی قریبی رشتہ دار کی غیبت بھی ہوسکتی ہے اور حکمرانوں کی خرابیاں بھی !حکومت وقت کی خرابیوںکو طشت ازبام کرنے سے آپ کو دو فائدے ہوتے ہیںایک تو آپ پر اپنے دانشور ہونے کا خوش کن احساس چھایا رہتا ہے دوسرا سیاستدانوں کیخلاف بولنے والے چونکہ دل کا غبار نکالتے رہتے ہیں اس لئے بہت سے موذی امراض جیسے ہائی بلڈ پریشر ، شوگر وغیرہ سے محفوظ رہتے ہیں !ہم مہمان نواز ہیں اور مہمان کے آنے کو باعث رحمت سمجھتے ہیں اس لئے ہم مہمان کو اپنے دفتر آنے کا کہتے ہیںہمیں گھر آنیوالے مہمان سے زیادہ دفتر کا مہمان اچھا لگتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دفتر میں بندے کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں ہوتی ضروری فائلیں ہماری ایک نظر کرم کی منتظر میز پر پڑ ی رہتی ہیں میز پر پڑا ہوا فائلوں کا ڈھیر ہمیں اس لیے بھی اچھا لگتا ہے کہ ہر آنے والا ہمیں بہت مصروف اور کام کا بندہ سمجھتا ہے اور فی زمانہ تو یہ رواج بھی ہے کہ آپ ہر وقت اپنی مصروفیت کا روناروتے رہیں !بس جی کیا کریں کام اتنا زیادہ ہے کہ سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ملتی چاہے آپ سارا دن دفتر میں قہوے اور چائے کی پیالیوںپر جھوٹی سچی گپیں لگاتے رہیں۔دفتر آنے والے مہمان کے بھی دو فائدے ہیںایک تو اس کی خاطر مدارت کرنے کے لیے آپ کو اپنی جیب سے کوئی فالتو خرچہ نہیں کرنا پڑتا دفتر میں جو لنگر کی چائے پکتی ہے اسی میں مہمان ٹپ جاتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دفتر میں مہمان کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزر جاتا ہے دفتر میں ضروری کام سے آنیوالے لوگوں کیلئے بھی ہمارے پاس ایک اچھا خاصا معقول بہانہ موجود ہوتا ہے کہ اس وقت مہمانان گرامی تشریف فرما ہیں آپ ایک گھنٹے بعد تشریف لائیے !دفتر سے ہمارے پیار کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچوں کیلئے سٹیشنری باہر سے نہیں خریدنی پڑتی آج کل سکولوں میں بچوں کو گھر کیلئے بے تحاشہ ہوم ورک ملتا ہے ہمارے زمانے میں سلیٹ اور سلیٹی ہوا کرتی تھی آج کل کاپیوں کا رواج ہے روز بروز ان کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں ہم اپنے بچوں کو رف کام کیلئے اپنے دفتر سے سٹیشنری لا کر دیتے رہتے ہیںایک دن ہمارے ایک مہربان کہنے لگے کہ دفتر کی کوئی چیز بھی ذاتی استعمال میں نہیں لانی چاہیے سرکار ی چیز تو اہل کار کے پاس ایک امانت ہوتی ہے اسے سرکاری کاموں پر ہی خرچ کرنا چاہیے! ہمیں اپنے دوست کی یہ بات بڑی عجیب لگی ہم نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی آپ نے دفتر کو اپنا سمجھا ہے؟ کبھی اپنے دفتر سے محبت کی ہے؟ جناب یہ دفتر ہمارا ہے یہ ہمیں اپنی جان سے زیادہ پیارا ہے اگر آپ دفتر کو اپنا سمجھتے تو دفتر کی اشیاء استعمال نہ کرنے کا مشورہ ہمیں نہ دیتے!۔ سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے ہیں دن گزرنے کا تو پتہ ہی نہیں چلتا البتہ گرمیوں میں دن بڑے طویل ہوتے ہیں گرمی کی دوپہر سے تو اللہ کی پناہ!گرمی کی دوپہر شیطان کی آنت کی طرح طویل ہوتی ہے اسے گزارنے کا ایک خوبصورت نسخہ ہمارے پاس موجود ہے دفتر کا وقت ختم ہونے پر گھر مت جائیے دفتر میں اے سی جیسی نعمت میسر ہے تو گھر جانا کفران نعمت کے زمرے میں آتا ہے ہم تو مزے سے گرمیوں کی لمبی دوپہر اپنے دفتر ہی میں گزار دیتے ہیں۔ ارے یاد آیا سرکاری گاڑی تو ہم بھول ہی گئے تھے سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک شاندار نعمت ہے جو فی الحال تو ہمیں میسر نہیں ہے لیکن ہم اپنے دوستوں کو دیکھتے ہیں ان کی بیگمات بڑے پر وقار انداز میں سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر شاپنگ کیلئے جاتی ہیں اسکے علاوہ گھر کا سودا سلف لانے کیلئے ڈرائیور صاحب اسے دن بھر بھگاتے رہتے ہیں گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کیلئے دفتر کے نائب قاصد صاحب کو خوب تھکایا جاتا ہے ہماری تو ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے ذاتی کاموں کیلئے اپنے نائب قاصد کو تکلیف نہیں دینی سرکاری کام تھوڑے ہوتے ہیں کہ وہ بیچارا ہمارے ذاتی کام بھی کرے! ہم اس قسم کی باتیں اپنے بچوں کے سامنے بھی کرتے رہتے ہیں تاکہ یہ بھی بڑے ہوکر ہمارے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں بچے ہماری باتیں بڑے غور سے سنتے ہیں نہ صرف سنتے ہیں بلکہ ان پر غور بھی کرتے ہیں اور انہیں سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں جب ہم اپنے نائب قاصد کے حقوق کے حوالے سے باتیں کر رہے تھے تو اچانک ہماری چھوٹی بیٹی کو کوئی خیال آیا اور اچانک کہنے لگی باباآپ بجلی اور گیس کے بل اپنے ساتھ دفتر لے جاتے ہیں کہ نائب قاصد انہیںبینک میں جمع کروادے گا بینک میں بل جمع کروانا بھی تو آپ کا ذاتی کام ہے ؟ لو کر لو گل! اب ہم اسے کیا کہتے ؟ ایک طویل قہقہہ لگا کر ہم نے موضوع ہی بدل دیا۔

اداریہ