چالاک جن کا انجام

چالاک جن کا انجام

ہماری طرح کے ایک سادہ گل آدمی کو چراغ مل گیا۔ اس آدمی نے اپنی نانی اماں سے جن والے چراغ کی کہانی سن رکھی تھی ۔دھڑکتے دل سے اس نے اپنی قمیص سے اس چراغ کو رگڑا تو چراغ سے ایک دھواں سا نکلا اور اس میں سے ایک بدصورت سا جن باہر نکل آیا ۔ جن کچھ دیر تک اپنی چندھیائی ہوئی آنکھوں کو زور زور سے اپنی آستین سے ملتا رہا ۔پھر اپنی سوجھی ہوئی سرخ آنکھوں سے اس آدمی کو گھورتے ہوئے دیکھ کر گویا ہوا کہ کیاحکم ہے میرے آقا۔مگر آقاکا لفظ اس جن نے یوں زیر لب ادا کیا کہ اس آدمی کو سنائی نہیں دیا ۔آدمی نے اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے جن سے پوچھا کہ تم نے آخری لفظ کیوں پورا ادا نہیں کیا اور وہ آخری لفظ کیا تھا۔ جن نے کھسیانی آواز میں کہا اس نے آقا کہا تھا لیکن آہستہ اس لیے کہا تھا کہ تم مجھے بالکل بھی آقا جیسے نہیں لگے ۔اس آدمی کو اس بات پر بہت شرمندگی ہوئی اور اس نے جن کے اس طعنے کے جواب میں جن کو یہ طعنہ دیدیا کہ اس نے کبھی اتنا بدصورت جن پہلے کبھی کہیں نہیں دیکھا ۔جن کا سننا تھا کہ اس کے چہرے پر ’’شدید ‘‘قسم کی سنجیدگی اتر آئی ۔یہ سنجیدگی کچھ کچھ نحوست جیسی تھی لیکن اب جن کو کیا پتہ کہ نحوست اور سنجیدگی میں کیا فرق ہے ۔ وہ سادہ گل آدمی اپنے ماتحت اور غلام جن کے چہرے کے تاثرات کو سمجھ نہ سکا کہ یہ نحوست ہے یا سنجیدگی ،لیکن اس نے اپنے چہرے پر مصنوعی قسم کا رعب جمانے کی کوشش کی اور گلاصاف کرکے رعب دار آواز نکالی اور اس جن سے کہا کہ جاکر میرے لئے بہترین سا کھانا لیکر آؤ۔یہ بات سن کرجن کے چہرے کی سنجیدگی جو نحوست جیسی لگتی تھی، اچانک غائب ہوگئی اور اس نے کھسیانے انداز میں کہاکہ صاب آج کل تمام ہوٹلوں نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کررکھے ہیں اس لیے وہاں سے کھانا چوری نہیں کیا جاسکتا ۔ہاں آپ کچھ پیسے دیں تو میں بازار سے آپ کے لیے اور اپنے لیے کھانا لاسکتا ہوں ۔وہ آدمی بڑا پریشان ہوا اور بولا کہ تم کیسے جن ہو جو کھانے کے پیسے مانگتے ہو۔ میں نے تو سنا ہے کہ جن سب کچھ کرسکتا ہے ۔جن بولا کہ میں ان جیسا جن بالکل بھی نہیں ہوں ۔میں نے کرپشن چھوڑ دی ہے ۔میں کسی قسم کی کرپشن کرکے نیب کے کسی کیس میں پھنسنا نہیں چاہتا ،آپ بھی مجھے کوئی ایسا کام نہ کہیں کل کو میں نیب میں پھنس گیا تو آپ کیخلاف گواہی دیدوں گا اور آپ کو بھی نیب کے حوالات میں میرے ساتھ دال روٹی کھانی پڑیگی۔ وہ آدمی جن کے’’وعدہ معاف گواہ‘‘بننے کے اعلان پر بہت گھبرایا لیکن اپنے چہرے پر اس نے بالکل بھی گھبراہٹ کے آثار ظاہر نہیں کیے اور بڑے پر اعتماد انداز میں جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور جن کو دے دیا کہ جاؤمیرے لیے ایک پلیٹ چٹخارے دار چنوں کی پلیٹ اور ایک گرم گرم روٹی لے آؤ اور جو پیسے بچ جائیں اس کی تم عیاشی کرلینا۔ جن نے جب پچاس کا نوٹ تھاما، تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔یہ آنسو رفتہ رفتہ تیز ہونے لگے اور پھر وہ جن ہچکیاں لے لیکر رونے لگا۔ جن کی اس حالت کو دیکھ کر آدمی بہت دکھی ہوا اور آگے بڑھ کر اس جن کو سینے سے لگالیا۔اس پر جن نے اس آدمی سے پوچھا کہ آقا آپ کیوں رو رہے تھے تو اس آدمی نے جواب میں کہا میں تو تمہیں روتا ہوا دیکھ کر رو رہا تھا مگر تم رو کیوں رہے تھے۔ جن نے اپنی گیلی آنکھیں صاف کرتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا کہ آپ کی سخاوت اور دریادلی دیکھ کر میرے آنسو نکل گئے ۔ آپ پہلے آقا ہیں کہ جس نے کسی جن کے انتہائی اہم مسئلے کو تسلیم کیا۔ کبھی کسی جن کو کسی آقا نے پیسے نہیں دیئے ۔اس آقا آدمی کو اس جن پر بہت غصہ آیا کہ اتنی سی بات پر اسے رلا دیا۔اور غصے میں کہا کہ تم واپس چراغ میں چلے جاؤمیں تمہارا آقا نہیں بننا چاہتا۔جن فوراًاس آدمی کے پاؤں پڑگیا اورالتجاکرنے لگا کہ وہ یہ ظلم نہ کریں کیونکہ وہ صدیوں سے ایک بے روزگار جن رہا ہے ۔اب اسے ایک آقا ملا ہے جسے وہ کھونا نہیں چاہتا۔ اس آدمی کا دل پسیج گیا اوربولا کہ تم کیا کرسکتے ہو ۔جن نے بڑے فخر سے کہا وہ دو انسانوں کو بڑی آسانی سے لڑا سکتا ہے ۔ آدمی بولا یہ کام کوئی بھی اینکر کرسکتا ہے۔ کیا تم دھرنا دے سکتے ہو۔ زندہ باد مردہ باد کرسکتے ہو۔جن گہری سوچ میں پڑگیا اور پھر انکار میں سرہلاتے ہوئے کہنے لگا یہ انسانوں والے کام ہم جن نہیں کرسکتے۔ ہم جن احتجاج کرسکتے تو صدیوں تک کسی چراغ میں قید ہونے کی حامی کیوں بھرتے۔ آدمی نے جن سے پوچھا کہ کیا تم میرا سات کروڑ کا پرائز بانڈنکال سکتے ہو۔یہ سن کر جن پیٹ پکڑکر ہنسنے لگااور جب ہنسی ختم ہوئی تو اپنے آقا سے کہنے لگا کہ آقا آئندہ ایسا مذاق مت کیجئے گا جنوں کیلئے بہت زیادہ ہنسنا موت کا سبب بھی ہوسکتا ہے ۔ آدمی اپنے سوال پر بہت شرمندہ ہوا اور سوچنے لگا کہ کسی طرح اس نکھٹو جن سے جان چھڑائے اور اسے دوبارہ چراغ کی قید میں بھیج دے۔ جن اس آدمی کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ آقا اگر آپ مجھے قید کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو یاد رکھئے کہ اس پر اسی وقت عمل ہو سکتا ہے جب ہم دونوں کی باہمی رضامندی ہو، آپ بس مجھے ہرحال میں حکم دیتے رہیں گے اور حکم بھی ایسا کہ جس پر میں بائیولاجیکلی عمل بھی کرسکوں۔ ورنہ۔ آپ کو نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ جن کی اس دھمکی پر آدمی بڑا پریشان ہوا اور کچھ سوچ کر بولا کہ ایسا کرو کہ گھر کے صحن میں ایک اونچا درخت لگا دو۔ جن نے فوراً ایک درخت اگا دیا۔ آدمی نے جن سے کہا کہ اس درخت کی ساری شاخیں کاٹ دو ۔جن نے تعمیل کی ۔آدمی نے آخری حکم دیا کہ اب اس درخت پر مسلسل چڑھتے اور اترتے رہو اور جب تک کوئی اور حکم نہ ملے اس عمل کو مت روکو۔ راوی کہتا ہے کہ وہ جن پچھلے کئی سالوں سے اسی عمل میں غرق ہے۔ جب کبھی اس آدمی کی بیوی کو برتن دھلوانے ہوں یا کمروں کی صفائی کرنی ہو تو اس جن کو بلا لیتے ہیں۔ مورال: کبھی کبھی چالاکی بہت نقصان دہ ہوتی ہے چاہے چالاکی کرنیوالا جن ہی کیوں نہ ہو۔

اداریہ