مشرقیات

مشرقیات

امام محمد غزالیؒ فرماتے ہیں: سکرات الموت کے وقت شیطان اپنے چیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رشتے داروں کی شکلوں میں لے کر آپہنچتا ہے۔ یہ سب کہتے ہیں: بھائی! ہم تجھ سے پہلے موت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ مرنے کے بعد جو کچھ ہوا ہے اس سے ہم اچھی طرح واقف ہیں۔
اب تیری باری ہے‘ ہم تجھے ہمدردانہ مشورہ دیتے ہیں کہ تو یہودی مذہب اختیار کرلے کہ یہی دین حق تعالیٰ کی بار گاہ میں مقبول ہے۔ اگر مرنے والا ان کی بات نہیں مانتا تو اسی طرح دوسرے احباب کے روپ میں شیاطین آکر کہتے ہیں تو نصاریٰ کا مذہب اختیار کرلے کیونکہ اسی مذہب نے حضرت موسیٰؑ کے دین کو منسوخ کیا تھا۔یوں ہی اعزہ و اقرباء کی شکل میں جماعتیں آکر مختلف باطل فرقوں کو قبول کرلینے کے مشورے دیتی ہیں۔ تو جس کی قسمت میں حق سے منحرف ہونا (یعنی پھر جانا) لکھا ہوتاہے وہ اس وقت ڈگمگا جاتا اور باطل مذہب اختیار کرلیتا ہے۔
(الدرۃ الفاخرۃ فی کشف علوم الاخرۃ )
علماء فرماتے ہیں کہ ایمان کا معاملہ بے حد حساس ہے۔ عقائد و نظریات بگڑ جانے یا الفاظ کفر کی تحسین یا افعال ارتداد کے ارتکاب کے سبب ایمان ضائع ہوگیا تو کیا ہوگا! سیدنا امام قرطبی نقل فرماتے ہیں کہ (سکرات کے وقت) شیطان دائیں جانب سے آتا ہے اور یہودی دین کا اچھا ہونا بیان کرتا ہے اور اس کے باپ کا روپ دھار کر یہودی مذہب قبول کرنے کے لئے اکساتا ہے۔ اگر قبول نہ کرے تو پھر شیطان بائیں جانب سے آتا ہے اور اس کی ماں کا روپ دھار کر عیسائیوں کا مذہب قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے اور بعض روایات میں یہ ہے کہ شیطان ایسے موقع پر پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے کہ اگر تو وہ کہہ دے جو میں کہہ رہا ہوں اور دعوت کفر دے رہا ہوتا ہے (یعنی تو اسلام چھوڑ کر کافر ہو جائے) تو پیالہ تجھے پیش کروں گا۔‘‘
(بریقۃ محمود یہ فی شرح طریقہ ، محمدیہ )
حافظ ابن رجب حنبلیؒ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے احوال میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے نقل کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ شیخ عزیز الدین احمد بن ابراہیم فاروقیؒ نے مجھے بیان کیا‘ انہوں نے ’’العوارف‘‘ کے مصنف جناب شیخ شہاب الدینؒ کو فرماتے سنا‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں علم الکلام کے بارے میں کچھ پڑھنا چاہتا تھا‘ اس بارے میں متردد تھا کہ امام الحرمینؒ کی ’’الارشاد‘‘ پڑھوں یا علامہ شہرستانیؒ کی ’’نہایت الاقدام‘‘ پڑھوں یا کوئی اور کتاب پڑھوں۔ میں اپنے ماموں کے ساتھ نجیب کے پاس گیا‘ وہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے‘ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا‘ اے عمر! قبر کے توشہ کا کیا کیا‘ قبر کے توشہ کا کیا کیا‘ پس میں علم الکلام پڑھنے کے ارادہ سے باز آگیا۔ شیخ تقی الدینؒ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حکایت شیخ موفق الدین بن قدامہ مقدسیؒ سے حاشیہ پر لکھی ہوئی دیکھی ہے۔

اداریہ