Daily Mashriq


مرکز شکایات مؤثر کتنا ہوگا؟

مرکز شکایات مؤثر کتنا ہوگا؟

وزیراعظم عمران خان کا لوگوں کی شکایت آن لائن درج کروانے کیلئے پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے ضمن میں اہم قدم تبھی قرار پائے گا جب اس سے حقیقی معنوں میں عوامی شکایات کے ازالے کا مرکز بنایا جائے گا اور یہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ روایتی مرکز شکایات میں تبدیل ہو کر اپنی افادیت نہیں کھو دے گا۔ وزیراعظم کی دانست میں اس نظام کی مدد سے وزرا کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے ماتحت اداروں میں کہاں سست روی آرہی ہے، کہاں مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور کونسا سرکاری افسر کرپشن کر رہا ہے یا رشوت مانگ رہا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پرانے پاکستان میں عوام سرکاری دفاتر میں دھکے کھاتے تھے، بااثر افراد اور پیسوں والے اپنے کام نکلوا لیتے تھے، لیکن اب اس نظام کے تحت پاکستان کے کسی بھی حصے سے عام آدمی شکایت درج کروا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام سے بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی آواز مل جائے گی اور وہ سفارتخانوں کے ایسے اہلکاروں کی نشاندہی کر پائیں گے جو اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ نظام کے تحت مجھے ہر ہفتے پورے ملک سے رپورٹ ملے گی اور یہ نظام چاروں چیف سیکریٹریز سے منسلک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی مدد سے عوام حکومت کا احتساب کر سکیں گے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومت قابلِ احتساب ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں سرکاری افسران کی کارکردگی پورٹل کی بنیاد پر سب کے سامنے ہوگی اور سرکاری افسران کی سزا اور جزا آسان ہو جائے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گی بلکہ چیف سیکریٹری کے ذریعے ہدایت کی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ حکمرانوں اور عوام میں دوریوں کی شکایت رہتی ہے عوام کو سرکاری افسران اور سرکاری دفاتر میں بھی دوریوں، عدم رابطوں اور کام نمٹانے کے ضمن میں گوناگوں مشکلات پیش آتی رہتی ہیں جس کے باعث عوام کی حکومت وقت سے شکایات ہی نہیں ہوتیں بلکہ عوام سرکاری دفاتر میں اپنے مسائل کے عدم حل کو حکومت کی ناقص کارکردگی اور ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں جس سے عوام میں حکومت وقت کے حوالے سے منفی تاثر زبان خلق بن کر نقارہ خدا کی شکل اختیار کرتی ہے۔ عوامی شکایات کے ازالے کیلئے ہر دور حکومت میں کسی نہ کسی طرح سے انتظام کرنے کے دعوے ہوتے رہے ہیں مگر سنجیدگی کیساتھ عوامی مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کرکے ان شکایات میں کمی لانے میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکے گی۔ اس قسم کے مرکز شکایات کا تجربہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں پہلے ہی کر چکی ہے۔ صوبے میں اسی طرح وسل بلور کا قانون بھی متعارف کرایا جا چکا جبکہ اطلاعات تک رسائی کا حق بھی خیبر پختونخوا میں دیا گیا گوکہ ان سہولتوں اور قوانین کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن نجانے کیوں ان سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہ ہو سکا۔ اب جبکہ یہ ملکی سطح پر متعارف ہورہے ہیں تو پھر بہتر ہوگا کہ ان اسقام اور کمزوریوں کا بھی جائزہ لیا جائے اور اس نظام کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جائے۔ جہاں تک شکایات اور مسائل کی بات ہے ہم سمجھتے ہیں کہ شکایات اور مسائل سے آگاہی کے کئی ذرائع ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسئلہ اسی وقت ہی سامنے آتا ہے جب لوگ متعلقہ حاکموں کو تحریری شکایات ارسال کرتے ہیں۔ میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر شکایات آتی ہیں مگر بار بار سامنے آنے والی شکایات جوں کی توں اور سالوں سال لاینحل رہتی ہیں۔ عوامی شکایات کو گزشتہ ایک سال سے اسی صفحے پر ایک ہفتہ وار کالم کے ذریعے سامنے لانے کا عمل جاری ہے۔ ہمارے ہفتہ وار کالم کیلئے عوام کی جانب سے ملنے والی شکایات کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جن کی نشاندہی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ عام قسم کی شکایات ہوتی ہیں مگر چونکہ ان پر توجہ نہیں دی جاتی اور دور کرنے کی چنداں زحمت نہیں ہوتی تو عوام اُمید وابستہ کر کے شکایات ارسال کرتے ہیں۔ اسی طرح روزانہ کی بنیادوں پر مسائل کے حوالے سے بھی اداریہ اور شذرے لکھے جاتے ہیں لیکن ان مسائل وشکایات کا بار بار سامنے آنا اس امر پر دال ہے کہ معاملات جوں کے توں ہیں۔ درجنوں شکایات کی اشاعت کیساتھ اس امر کی حسرت ہی باقی ہے کہ کوئی سرکاری ادارہ کسی شکایت کا ازالہ کرکے اپنی ذمہ داری نبھانے کی اطلاع دے۔ جسے عوام کیساتھ شیئر کرکے متعلقہ سرکاری ادارے کے کام کی تحسین کی جاسکے اور اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس سے لیکر پٹواریوں، واپڈا، سوئی نادرن گیس، محکمہ بلدیات، پی ڈی اے، صفائی آبنوشی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، ناجائز بھرتیوں سمیت انگنت مسائل اور شکایات ایسی ہیں جن کو اگر حل کرنے کی نیت ہو تو خاکروب سے لیکر کلرک اور جونیئر افسر کی سطح پر ان شکایات کا ازالہ ممکن بھی ہے اور یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ علاقہ ایس ایچ او، پٹواری اور گرداور، میٹر ریڈر اور اسی قبیل کے سرکاری اہلکار لوگوں کے مسائل حل نہیں کر سکتے تو اگر عوام کیلئے مسائل بھی کھڑی نہ کریں تو آدھے سے زیادہ مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنروں کی سطح پر مرکز شکایات موجود ہیں مگر عوام کی شکایات دور نہیں ہوتیں۔ اسی طرح کمشنروں کے دفاتر میں بھی یہ انتظام ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی شکایت کرنے کا انتظام پانچ سال قبل متعارف کرایا جا چکا ہے۔ اب وزیراعظم کی سطح پر بھی یہ نظام لایا جا رہا ہے۔ سابقہ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں تو سوائے نااُمیدی اور یاس کے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا جا سکتا لیکن چونکہ وزیراعظم ایک عزم کے تحت اور ذاتی نگرانی میں عوام کی شکایات وفاقی وصوبائی وزرائ، سیکرٹریوں اور اعلیٰ سرکاری حکام پر نظر رکھنے اور عوامی آرا وشکایات سے براہ راست آگاہی اور ان کو دور کرنے کیلئے پُرعزم ہے جس سے اچھی اُمید وابستہ نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کریں گے کہ مسائل ومشکلات سے آگاہی اہم نہیں اصل کام ان کا ازالہ ہوگا۔ شکایات کے اس جدید انتظام کے تحت ایک منٹ میں تین لاکھ بیاسی ہزار شکایات کی وصولی اہم نہیں بلکہ اصل بات ان شکایات کے ازالے کی رفتار ہوگی جو حکومت کیلئے یقیناً مشکل اور بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں