Daily Mashriq

نامناسب اقدام

نامناسب اقدام

آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے بعد وفاقی وزیر اعظم سواتی کے بیٹے کی درخواست پر پولیس کی جانب سے 15سالہ لڑکی، چوتھی جماعت کے طالبعلم12سالہ صلاح الدین اور عمر رسیدہ خاتون سمیت 5 افراد کی گرفتاری کسی طور مناسب نہیں بلکہ یہ حکومت کیلئے تنقید اور بد نامی کا باعث ہوگا جس سے احتراز ناممکن نہ تھا۔ وفاقی وزیر کے بیٹے کا یہ موقف مضحکہ خیز ہے کہ ملزمان نے اپنے مویشی ہمارے باغات میں چھوڑ دیئے اور منع کرنے پر ملزمان نے ملازمین پر کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اعظم سواتی جیسے سنیئر سیاستدان اور مقتدر شخصیت کا یہ کہنا گھمنڈ سے پر ہے کہ تھانہ شہزاد ٹائون پولیس نے جن افراد کو گرفتار کیا وہ ان کے ملزم ہیںاگر وفاقی وزیر جیسے عہدے پر فائزافراد چرواہوں اور گڈریوں پرزور آزمائی کرنے لگیں اور معمولی غلطی پر انتقام پر اتر آئیں اور اتنے معمولی واقعے پر آئی جی کوفون کرنے لگیں اور آئی جی کی اس نوعیت کے واقعے میں ملوث ہونے سے بچنے کی خاطرفون نہ سننے پر تبادلہ کئے جائیں تو اسے کسی طرح انصاف اور حق کی بالادستی کے دعویداروں کے حق میں نیک شگون نہیں گردانا جا سکتا ۔ حکومت نے آئی جی کا تبادلہ محض اس بات پر کر کے کوئی اچھی روایت قائم نہیں کی پہلے بھی بیورو کریسی کے خلاف نان ایشوزپر کارروائیاں کر کے حکومت نے غلطیاں کی ہیں آئی جی اسلام آباد جیسے سینئر افسرکا اس معمولی واقعہ پر تبادلہ حیران کن ہے جس سے بیورو کریسی میں عدم تحفظ کا احساس اور بیزاری پیدا ہونا فطری امر ہوگا ۔طاقت واقتدار میں خوف خدا مشکل کام ضرورہے لیکن ناممکن نہیں ۔ عورتوں اور بچوں کی گرفتاری کی کسی طور بھی حمایت نہیں کی جاسکتی ان کا جرم اس نوعیت کا نظر نہیں آتا کہ پورے خاندان کو پابند سلاسل کیا جائے ۔اعظم سواتی جیسے سینئر سیاستدان سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ملزمان کو معاف کریں اور ان کے خلاف مقدمہ واپس لیا جائے ۔

صوبائی حکومت کا احسن فیصلہ

مشیر تعلیم خیبرپختونخوا ضیاء اللہ خان بنگش کی جانب سے خیبرپختونخوا کے تمام گرلز سکولوں بشمول خواتین سپورٹس مقابلوں کی تقریبات میں مرد حضرات کی بطور مہمان خصوصی دعوت یا شرکت پر پابندی لگانے کا اقدام دینی احکامات اور پختون روایات دونوں کے عین مطابق ہم آہنگ اور مستحسن ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاہے کہ گرلز سکولوں کے کسی پروگرام کو سوشل میڈیا پر بھی مشتہر نہ کیا جائے اورخواتین سکولوں میں ہر قسم کی تقریبات کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ زنانہ سکولوں میں مردوں کے داخلے پر پابندی اور تقریبات میںشرکت کی ممانعت ایم ایم اے دور حکومت میں ہونی چاہیئے تھی یا پھر قوم پرستی کے دعویداروں کی حکومت میں پختون ثقافت وروایات کے تقاضے پورے کئے جاتے بہر حال اس سے قطع نظر یہ اقدام لائق تحسین ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا ایک اور مثبت پہلو یہ سامنے آئے گا کہ مردوں پر پابندی کے بعد خواتین اراکین اسمبلی افسران اور دیگر خواتین کو مواقع میسر آئیں گے کہ وہ گرلز سکولوں اور کالجوں میں جا کر طالبات سے ملیں اور طالبات سے ایک قدرتی اور فطری ماحول میں ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کریں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ضرورت کے مطابق زنانہ تعلیمی اداروں میں مردوں کی تعیناتی اور مردوں کا داخلہ ایک ضرورت اور حد کے درمیان ہونے کی ممانعت نہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے لیکن جہاں بچیوں میں کھیلوں اور دیگر ثقافتی نوعیت کے مقابلے ہوں وہاں ان کے لباس اور ماحول دونوں کے باعث مردوں کے جانے کی ممانعت ضروری ہے جس کا احساس کرتے ہوئے حکمنا مہ جاری کردیا گیا ہے۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس کی سختی سے پابندی کی جائے گی اور طالبات کومحفوظ اور فطری ماحول کی فراہمی کیلئے مزید ضروری اقدامات پر توجہ دی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں