Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت خالدبن ولید عہد صدیقی میں جب مدعیان نبوت اور مرتدین کی مہم سے فارغ ہوچکے تو خلیفہ رسولۖ کے حکم سے مثنیٰ بن حارثہ کی مدد کے لیے عراق کی طرف کوچ کیا ، منزل پر منزل مارتے اور راستے سے حکام کومطلع کرتے سیدھے ابلہ جا پہنچے ۔ اس مقام کو اپنا مرکز بنا کر انہوں نے عراق کے ایرانی حاکم ہرمز کو خط لکھا کہ اسلام قبول کر لویا جزیہ ادا کرو،ورنہ تمہیں ایک ایسی قوم سیلڑنا پڑے گا جو موت کی اتنی ہی آرزو مند ہے جتنی تمہیں زندگی کی تمنا ہے ۔

ہرمز نے یہ خط شاہ ایران کو بھجوایا اورخود حضرت خالد کے مقابلے کے لیے نکلا۔ کاظمہ کے مقام پر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں ۔ ایراینوں نے اس میدان میں اپنے پیروں کو زنجیروں سے جکڑ لیا تا کہ قدم اکھڑنے نہ پائیں اور بھاگنے کا خیال تک نہ آسکے ، لیکن سیدنا خالد کی کاٹ نے اس تدبیر کو بھی خاک میں ملا دیا اور آہنی زنجیر کے ٹکڑے اڑادیئے ۔ میدان اہل اسلام کے ہاتھ رہا ، ایرانیوںنے شکست فاش کھائی اور ہرمزماراگیا۔

(سچی اسلامی کہانیاں)

حضرت گنگوہی کے ہاں ایک نواب مہمان ہوئے ، مولایحییٰ منتظم تھے ، انہوں نے نواب کا قیام خانقاہ سے الگ دوسرے مکان میں تجویز کیا ۔ حضرت کا حال یہ تھا کہ معمولی بوریے پر بیٹھتے، دری پر بیٹھتے۔ بیش قیمت قالین پر بیٹھتے ، نہ چٹائی پر بیٹھنے سے عار نہ بیش قیمت قالین پر بیٹھنے سے استکبار۔

اتفاق سے اس وقت حضرت کے نیچے تین قالین بچھے ہوئے تھے ۔ مولانا نے ایک قالین وہاں سے اٹھوا کر نواب صاحب کے لئے اس مکان میں بھجوادیا، جہاں ان کا قیام تجویز ہوا تھا ۔ جب حضرت تشریف لائے اور بیٹھتا چاہا کیونکہ اس وقت بینائی جاتی رہی تھی، اس لئے ہاتھ سے ٹٹول کر دریافت فرمایا کہ ایک قالین کہا ںہے؟۔ خطاب عام تھا کسی نے جواب نہ دیا تو خطاب خاص فرمایا:مولوی صاحب!وہ قالین کہاںہے؟مولوی صاحب نے جواب دیا نواب کے لئے بھجوادیا ہے ۔ اس پر فرمایا اچھا نواب صاحب قالین پر بیٹھنے کے لئے آئے ہیں ، ان کے ہاں کچھ کمی تھی قالین کی ؟

(نواب صاحب کی آدھی نوابی تو یہاں جھڑ گئی) پھر کھانے کا وقت ہو اتو حضرت محمو د الحسن شیخ الہند بھی وہاں موجود تھے ۔یہ وہاں سے کھسکنے لگے کہ اب نواب کھالیں گے ، ہم لوگ بعد میں کھالیں گے۔حضرت نے تاڑلیا اورفرمایامولوی محمود کہاں چلے؟ اگر نواب کو غریب طالب علموں کے ساتھ کھانا پسند نہ ہو تو اپنا کھانا الگ کھالیں، ہمارا تو مرنے جینے کا ساتھ ہے ، ہم کو نہیں چھوڑ سکتے(آدھی نوابی یہاں جھڑ گئی اور خوب سمجھ میں آگیا) کہ طالب علموں کی حضرت کے یہاں کیا قدروقیمت ہے اور ہم نوابوں کی کیا؟ گویا طالب علموں اور نوابوں میں فرق سمجھ میں آگیا۔ (حضرت لوگوں میں اخلاص اور انکساری کرنے کے لئے اور ذکر وتزکیہ کا رنگ چڑھانے کے لئے یوں تربیت فرمایا کرتے تھے )۔

متعلقہ خبریں